உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شان کی سواری!Electricاوتار میں’ایمبسیڈر‘کی ہوگی واپسی، کبھی ہوا کرتی تھی افسروں کی سواری

    الیکٹرک اوتار میں ہوگی ایمبیسیڈر کی واپسی۔

    الیکٹرک اوتار میں ہوگی ایمبیسیڈر کی واپسی۔

    ایمبیسیڈر 1960 کی دہائی سے لے کر 1990 کی دہائی کے وسط تک ہندوستان میں ایک اسٹیٹس سمبل تھا، اور مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر تیار کی جانے والی واحد لگژری کار تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی:ایمبیسیڈر کار کے بارے میں کون نہیں جانتا، ایک وقت تھا جب وزیر اعظم سے لے کر ڈی ایم، ایس ڈی ایم تک اس گاڑی میں سوار ہوتے تھے۔ تاہم سال 2014 میں اس کا پروڈکشن روک دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمبیسیڈر بنانے والی کمپنی ہندوستان موٹرز مبینہ طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے سیگمنٹ میں داخل ہو کر واپسی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

      آٹو انڈسٹری اس وقت ایک انقلاب سے گزر رہی ہے، زیادہ تر بڑی کمپنیاں الیکٹرک سیگمنٹ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جب کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، ایمبیسیڈر بنانے والی کمپنی ہندوستان موٹرز مبینہ طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ہندوستان میں واپسی کے خواہاں ہے۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہندوستان کی پہلی کار ساز کمپنی، ہندوستان موٹرز، ای وی انڈسٹری میں ایک یورپی آٹو کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر (جے وی) میں داخل ہو کر اپنے کاروبار کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ ہندوستان موٹرز نے یورپی ای وی مینوفیکچرر کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ مشہور ایمبیسیڈر کار کو ہندوستان موٹرز نے تیار کیا تھا، جس نے 1958 میں پیداوار شروع کی تھی اور تقریباً 50 سال بعد اسے 2014 میں بند کر دیا گیا تھا۔

      دونوں پروڈیوسرز فی الحال ایکویٹی ڈھانچے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ موجودہ مجوزہ فریم ورک میں، ہندوستان موٹرز کے پاس 51فیصد اور یورپی برانڈ کے پاس باقی 49فیصد حصہ ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Mann Ki Baat:مودی آج کریں گے من کی بات،عوام کو دکھائیں گے’بلند ہندوستان کی بلند تصویر‘

      یہ بھی پڑھیں:
      شیوراج حکومت نے مندروں کے پجاریوں کے نذرانہ میں اضافہ کے لئے جاری کئے احکام

      ایمبیسیڈر 1960 کی دہائی سے لے کر 1990 کی دہائی کے وسط تک ہندوستان میں ایک اسٹیٹس سمبل تھا، اور مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر تیار کی جانے والی واحد لگژری کار تھی۔ جب کمپنی نے 2013-14 میں گاڑی کی پیداوار روک دی تو 1980 کی دہائی کے وسط میں سالانہ فروخت 20,000 یونٹس سے کم ہو کر 2,000 یونٹس ہو گئی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: