ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی میں 17 سالہ لڑکے کی موت  کے ڈھائی سال بعد ادا کی جائے گی آخری رسوم

ممبئی کے دھاراوی میں ایک 17 سالہ کے لڑکے کی موت کے ڈھائی سال بعد آخری رسومات ادا کی جائے گی۔ لڑکے کی موت جولائی 2018 میں ہوئی تھی اور اس وقت سے ہی اس کی لاش مورچیری میں رکھی ہوئی تھی۔

  • Share this:
ممبئی میں 17 سالہ لڑکے کی موت  کے ڈھائی سال بعد ادا کی جائے گی آخری رسوم
ممبئی میں 17 سالہ لڑکے کی موت  کے ڈھائی سال بعد ادا کی جائے گی آخری رسوم

ممبئی: ممبئی کے دھاراوی میں ایک 17 سالہ کے لڑکے کی موت کے ڈھائی سال بعد آخری رسومات ادا کی جائے گی۔ لڑکے کی موت جولائی 2018 میں ہوئی تھی اور اس وقت سے ہی اس کی لاش مورچیری میں رکھی ہوئی تھی۔ اہل خانہ کا الزام تھا کہ پولیس کی پٹائی کی وجہ سے ان کے لڑکے کی موت ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے اہل خانہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کرائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اب عدالت نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرکے میت کو گھر والوں کو سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔


در اصل لڑکے کی لاش ڈھائی سال سے جے جے اسپتال کے مورچیری میں رکھی ہوئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب تک لڑکے کا دوبارہ پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک آخری رسوم ادا نہیں کی جائے گی۔ بعد میں یہ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا، عدالت نے مہلوک کے ورثا کے مطالبے پر6 اپریل تک دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا۔ اب دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش اہل خانہ کو سونپ دی جائے گی اور اس طرح ڈھائی سال بعد اس کی آخری رسومات ادا کی جائے گی۔


عدالت نے پولیس اسٹیشن کے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے ا ور دونوں فریقین کو سننے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے جے جے اسپتال کے ڈین کو دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لئے نئی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے حکم نامہ میں کہا ہے کہ”جے جے اسپتال کے ڈین دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لئے ایک نٹی ٹیم بنائیں۔ اس ٹیم میں وہ ڈاکٹر نہیں ہوں گے، جو پہلے پوسٹ مارٹم میں شامل تھے۔ عدالت کے ذریعہ دی گئی ڈیڈ لائن تک پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اسپتال کے ڈین کے دستخط کے ساتھ رپورٹ داخل کرنی ہوگی۔


کیا ہے پورا معاملہ؟
اہل خانہ کے مطابق جولائی 2018 میں ایک موبائل چوری کے معاملے میں پولیس والے ان کے لڑکے کو پکڑ لے گئے تھے۔ اس وقت بھی گھر والوں نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے ان کے لڑکے کو زبردستی حراست میں لے لیا ہے۔ جبکہ اس معاملے میں ایک ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی تھی۔ پولیس تحویل میں اس کو بری طرح پیٹا گیا، جب پولیس نے لڑکے کو گھر والوں کو سونپا تو اس کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں کچھ دنوں کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ مہلوک کا نام سچن جیسوال تھا اور جس وقت پولیس نے اس کو حراست میں لیا تھا، اس وقت اس کی عمر 17 سال تھی۔ سچن کے والد زندگی گزارنے کیلئے سبزی فروخت کرتے ہیں۔ دھاراوی کے پولیس افسرکے خلاف ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سچن کی موت کی وجہ نمونیا بتائی گئی۔ گھر والے اس رپورٹ سے مطمئن نہیں تھے اور اس لئے وہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانا چاہتے تھے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 07, 2021 01:56 AM IST