உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت پہلے سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم ٹھیک کرے پھر مدارس پر سوال اٹھائے: مولانا محمود مدنی

    حکومت پہلے سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم ٹھیک کرے پھر مدارس پر سوال اٹھائے: مولانا محمود مدنی

    حکومت پہلے سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم ٹھیک کرے پھر مدارس پر سوال اٹھائے: مولانا محمود مدنی

    جمیعت علما کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے اتر پردیش اور مدھیہ پردیش حکومت کے ساتھ نارتھ انڈیا کے صوبوں کے تعلیمی معیار کو نشانہ بناتے ہوئے جہاں حکومتوں کورویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تو وہیں حکومت سے سوال کیا ہے کہ مدارس کا ہی سروے کیوں ، ان اسکولوں کا سروے کیوں نہیں جن کا صد فیصد اصراف حکومتیں کرتی ہیں اور ان کا تعلیمی معیار حد درجہ ابتر ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore
    • Share this:
    بھوپال : اتر پردیش اور مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ مدارس کا سروے کرائے جانے کو لے کر کئے گئے اعلان کے بعد مدھیہ پردیش میں بھی سیاسی گھمسان تیز ہوگیا ہے۔ جمیعت علما کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے اتر پردیش اور مدھیہ پردیش حکومت کے ساتھ نارتھ انڈیا کے صوبوں کے تعلیمی معیار کو نشانہ بناتے ہوئے جہاں حکومتوں کورویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تو وہیں حکومت سے سوال کیا ہے کہ مدارس کا ہی سروے کیوں ، ان اسکولوں کا سروے کیوں نہیں جن کا صد فیصد اصراف حکومتیں کرتی ہیں اور ان کا تعلیمی معیار حد درجہ ابتر ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے رجسٹریشن کے بغیر مدھیہ پردیش میں چلنے والے مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا احکام جاری کیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: دمکا پٹرول واقعہ میں پولیس نے 10 دن کے اندر داخل کی چارج شیٹ، 25 لوگوں کو بنایا گیا گواہ


    جمیعت علما ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے بھوپال میں نیوز 18 اردو سے خاص ملاقات میں کہا کہ مدارس پر انگلی اٹھانے سے پہلے سرکار یہ بتائے وہ سرکاری اسکول جس پر سرکارکا پورا کنٹرول ہے، جو صد فیصد سرکارکی گرانٹ سے چلتے ہیں، ان اسکولوں کے اسٹینڈرڈ کا سروے کیوں نہیں کرایا جاتا ہے ۔ جس میں ہزاروں کروڑ روپے سرکار کا ہر سال لگتا ہے ۔ کیا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ دہلی کو چھوڑکر پورے نارتھ انڈیا کے سرکاری پرائمری اسکولوں اور سکینڈری اسکولوں کا انفرا اسٹرکچر کولیپس کر چکا ہے ،بلڈنگ کے اعتبار سے بھی اور فیکلٹی کے اعتبار سے بھی۔ کوئی سسٹم نہیں رہا ہے، سب برباد ہوگیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جودھپور میں امت شاہ نے کہا : غیر ملکی ٹی شرٹ پہن کر بھارت جوڑنے نکلے ہیں راہل بابا


    گورنمنٹ آف انڈیا، گورنمنٹ آف یوپی اور مدھیہ پردیش کے کتنے وزیر اور سرکاری افسران ایسے ہیں، جو اپنے بچوں  کو سرکاری اسکول میں پڑھوا رہے ہیں۔ آپ نے کیا کیا ہے ، کس بات کے لئے آپ سروے کر رہے ہیں، آپ نے دیا کیا ہے ، آپ نے تو جو بنی ہوئی چیز ہے، اسے برباد کردیا۔ کم سے کم دہلی اسٹیٹ کے نصف اسٹینڈرڈ کے برابر یہ صوبہ یا ملک کے دوسرے صوبے اپنے اسکولوں کو لے آئیں ، ہم تو سروے کرانے کے لئے تیار ہیں ، ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کا کہنا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔ شور مچانے سے جرم کم نہیں ہو جائے گا۔ ہمارے پاس مدرسوں کو لیکر جو جانچ رپورٹ آئی ہے، اس میں ایسے ایسے مدرسہ ملے ہیں، جن کا کوئی رجسٹریشن بھی نہیں ہے اور وہاں ایک ہی کمرے میں بچے رہتے بھی ہیں اور اسی کمرے میں چالیس سے زیادہ بچوں کی کلاس بھی لگتی ہے ۔ یہ نہ صرف  ضابطہ تعلیم کے خلاف ہے بلکہ بچوں پر ایک طرح کا ظلم ہے۔ وہ مدرسے جن کا مدرسہ بورڈ یا محکمہ تعلیم میں رجسٹریشن نہیں ہے ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: