உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'کشمیری پنڈتوں کی خدمات کا ذکر کئے بغیر نہیں لکھی جا سکتی ہے اردو زبان و ادب کی تاریخ'

     Madhya Pradesh Urdu Academy: قومی سمینار میں نیوز ایٹین نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ نے بطو ر مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ممتاز صحافی برج ناتھ بيتاب  نے قومی سمینار کی صدارت کے فرائض انجام دئے۔ سمینار  کے آغاز میں ایم پی اردو اکادمی کی ڈائیریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کی غرض و غائت پر تفصیل روشنی ڈالی ۔

    Madhya Pradesh Urdu Academy: قومی سمینار میں نیوز ایٹین نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ نے بطو ر مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ممتاز صحافی برج ناتھ بيتاب نے قومی سمینار کی صدارت کے فرائض انجام دئے۔ سمینار کے آغاز میں ایم پی اردو اکادمی کی ڈائیریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کی غرض و غائت پر تفصیل روشنی ڈالی ۔

    Madhya Pradesh Urdu Academy: قومی سمینار میں نیوز ایٹین نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ نے بطو ر مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ممتاز صحافی برج ناتھ بيتاب نے قومی سمینار کی صدارت کے فرائض انجام دئے۔ سمینار کے آغاز میں ایم پی اردو اکادمی کی ڈائیریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کی غرض و غائت پر تفصیل روشنی ڈالی ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی  Madhya Pradesh Urdu Academy محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بھوپال رویندر بھون میں کشمیری پنڈتوں کی اردو زبان و ادب میں حصہ داری کے عنوان سے قومی سمینارکا انعقاد کیاگیا۔ قومی سمینار میں اردو کے ممتاز ادیبوں و صحافیوں نے شرکت کی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں کشمیری پنڈتوں کی خدمات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے اردو بان و ادب کے فروع میں کشمیری پنڈتوں کی خدمات کو مثالی قرار دیاہے ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی اپنے منفرد کارناموں کو لیکر و ملک و بیرون ملک میں مشہور ہے۔ اکادمی کے زیر اہتمام امسال اردو زبان و ادب میں کشمیری پنڈتوں کی خدمات کو منظر عام پر لانے اور اس سے نئی نسل کو واقف کرانے کے لئے کشمیری پنڈتوں کی اردو و ادب میں حصہ داری کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیاگیا۔ قومی سمینار میں اردو زبان میں  اپنی تحریروں سے ایک جہاں کو گرویدہ بنانے والے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ اردو کے دوسرے ادیبوں کو بھی مدعو کیاگیا تھا۔ قومی سمینار میں نیوز ایٹین نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ نے بطو ر مہمان خاص شرکٹ کی جبکہ ممتاز صحافی برج ناتھ بيتاب  نے قومی سمینار کی صدارت کے فرائض انجام دیئے ۔ سمینار  کے آغاز میں ایم پی اردو اکادمی کی ڈائیریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کی غرض و غائت پر تفصیل روشنی ڈالی ۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت  مہدی نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سمینار کا مقصد اردو زبان و ادب میں کشمیری پنڈتوں کی گرانقدر خدمات کو منطر عام پر لانے اور نئی نسل کو اردو زبان و ادب میں کشمیری پنڈتوں کی عظیم خدمات سے واقف کرانا ہے ۔کشمیری پنڈتوں نے نہ صرف اردو زبان کی سرپرستی کی بلکہ وہ عظیم ادبی سرمایہ تخلیق کیا ہے جس کے ذکر کے بغیر اردو زبان کی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی ہے ۔ پروگرام کے مہمان خصوصی اور نیوز ایٹین نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ نے سمینار میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہندستان کی زبان ہے اور اس کا سرشتہ حیات کسی مذہب سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ اور جب ہم زبان کا رشتہ کسی مذہب سے جوڑتے ہیں وہ اس زبان کا نہ صرف دائرہ محدود ہوتا ہے بلکہ وہ زبان مر جاتی ہے ۔ کشمیری پنڈتوں نے ہر عہد کی زبان کو اپنے سینے سے لگایا۔ جب سنسکرت زبان تھی تو انہوں نے اس مہارت حاصل کی اور بڑے بڑے عالم پیدا کئے۔ فارسی کو اپنا تو عظیم خدمات انجام دیں اور ایڈمنسٹریشن کا حصہ بنے اسی طرح سے اردو زبان و ادب کی خدمت میں اپنا خون جگر شامل کیا ہے۔

    سمینار کے صدر ممتاز صحافی و شاعر برج ناتھ بیتاب نے کشمیری پنڈتوں کی اردو زبان و ادب میں حصہ  داری کے عنوان سے منعقدہ سمینار کے لئے مدھیہ پردیش حکومت،محکمہ وثقاف اور اردو اکادمی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اکاڈمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کا خصوصی طور پر شکریہ اداکیا۔ انہوں نے بھوپال سے کشمیر کا ہزار سالہ رشتہ،کشمیر میں راجہ بھوج کی یاد گار اور نواب بھوپال کے رشتہ کو بھی تفصیل کے ساتھ پیش کیا۔برج ناتھ بیتاب نے اردو صحافت میں کشمیری پنڈتوں کی قربانیوں کو بھی خصوصی طور پر پیش کیا۔انہوں  کہ اس اچھوتے موضوع میں پورے ملک میں ابھی تک غور ہی نہیں کیاگیا۔ جموں اینڈ کشمیر میں بھی اس موضوع پر ابھی تک کسی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جا سکا۔کشمیری پنڈت نے اردو کی کسی ایک صنف میں طبع آزمائی نہیں کی ہے بلکہ اردو کی جتنی نثری و شعری اصناف ہیں سب میں اپنی قلم کے جوہر دکھائے ہیں اور اردو زبان کا دائرہ وسیع کیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: J&K: کشمیری پنڈتوں میں پھیلے ڈر کے درمیان پلوامہ میں دہشت گردانہ دھمکی، وادی چھوڑ دیں ورنہ

    ممتاز افسانہ نگار دیپک بدکی نے کشمیری پنڈتوں کے حالات پر اپنا افسانہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے افسانے کے حوالے سے چنار کو محبت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہوئے اردو زبان کے باہمی رشتے پر روشنی ڈالی۔ جبکہ جموں سے تشریف لائے ممتاز افسانہ نگار خالد حسین نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈتوں نے صرف اردو زبان و ادب کی آبیاری میں ہی اپنا خون جگر صرف نہیں کیا ہے بلکہ کشمیر میں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت میں بھی  بڑا حصہ جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ممتاز محقق وناقد ڈاکٹر محمد نعمان خان نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کی اردو زبان و ادب میں صرف کشمیر میں رہ کر خدمات کو ہی پیش نہیں کیا بلکہ انہوں نے وسیع سیاق و سباق میں پیش کرتے ہوئے صدیوں پر محیط اردو زبان  و ادب میں کشمیری پنڈتوں کی خدمت کو پیش کرتے پوئے  اسے ایسا کارنامہ قرار دیا جس کے بغیر اردو ادب کی تاریخ نامکمل ہے ۔

    پروگرام میں ڈاکٹر عرفان عزیز نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کی ادبی بصیرت کا ذکر کیا جبکہ رافیعہ محی الدین نے اپنے مقالہ میں کشمیری پنڈتوں کی نعت گوئی کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں نے اردو ادب میں جو کارنامہ انجام دیا ہے اس سے اردو کی وابستگی کا دعوی کرنے والوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ سمینار میں ممتاز ادیب وافسانہ نگار دیپک بدکی کی کتاب اپنا اپنا سچ اور عصری رحجانات کا اجرابھی کیاگیا۔

    مزید پڑھئے: Kashmiri Pandits کا پیغام، ہم کتے۔بلیوں کی طرح نہیں مر سکتے، ہمیں سکیورٹی دیں یا پھر۔۔۔۔۔

    اکادمی کے زیر اہتمام اس موقعہ پر کل ہند مشاعرہ کا بھی انعقاد کیاگیا۔ کل ہن مشاعرہ کی صدارت ک فرائض سید صلاح الدین دبئی نے انجام دی جبکہ نظامت کے فرائض ممتاز ناظم رئیس نظام نے انجام دیئے ۔کل ہند مشاعرہ میں برج ناتھ بیتاب،راجیش رینہ،نعیم اختر خادمی،ڈاکٹر پروین کیف،ڈاکٹر قمر سرور،ڈاکٹر ارونا چوہان،رئیس نظامی،کنور جاوید،جیوتی آزاد کھتری،سہیل عمر اور سندیپ سریواستو نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظو ظ کیا۔ بھوپال رویندر بھون کے گورانجنی ہال میں منعقدہ کل ہند مشاعرہ کے موقع پراکادمی کے مالی تعاون سے شائع کتا ب عکس جمیل،باز گشت،دستک،دن بھی روشن رات بھی روشن،روزن فکر،سلسلے خوابوں کے اور غزل کا آنگن کا بھی اجرا کیاگیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: