உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تحریک آزادی میں علمائے دین کی قربانیوں سے ہندوستان کی سرزمیں ہوئی منور

    ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو ضرور منایا جا رہا ہے، مگر تحریک آزادی میں علمائے دین کی بے شمار قربانیوں کے باوجود نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہے۔ حکومت کی سطح پر تحریک آزادی کے باب سے ایک طبقہ کے مجاہدین آزادی کے قربانیوں کو ایک عرصہ سے فراموش تو کیا جا رہا ہے اس کے باوجود قوم کے لوگوں میں بے حسی اس قدر گھر کرگئی ہے کہ کوئی اس سمت قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔

    ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو ضرور منایا جا رہا ہے، مگر تحریک آزادی میں علمائے دین کی بے شمار قربانیوں کے باوجود نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہے۔ حکومت کی سطح پر تحریک آزادی کے باب سے ایک طبقہ کے مجاہدین آزادی کے قربانیوں کو ایک عرصہ سے فراموش تو کیا جا رہا ہے اس کے باوجود قوم کے لوگوں میں بے حسی اس قدر گھر کرگئی ہے کہ کوئی اس سمت قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔

    ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو ضرور منایا جا رہا ہے، مگر تحریک آزادی میں علمائے دین کی بے شمار قربانیوں کے باوجود نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہے۔ حکومت کی سطح پر تحریک آزادی کے باب سے ایک طبقہ کے مجاہدین آزادی کے قربانیوں کو ایک عرصہ سے فراموش تو کیا جا رہا ہے اس کے باوجود قوم کے لوگوں میں بے حسی اس قدر گھر کرگئی ہے کہ کوئی اس سمت قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔

    • Share this:

    بھوپال: ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو ضرور منایا جا رہا ہے، مگر تحریک آزادی میں علمائے دین کی بے شمار قربانیوں کے باوجود نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہے۔ حکومت کی سطح پر تحریک آزادی کے باب سے ایک طبقہ کے مجاہدین آزادی کے قربانیوں کو ایک عرصہ سے فراموش تو کیا جا رہا ہے اس کے باوجود قوم کے لوگوں میں بے حسی اس قدر گھر کرگئی ہے کہ کوئی اس سمت قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔


    مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ جہاں مدارس کے تعلیم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہیں مغل تاریخ کو بھی نصاب سے باہر کرنے کی تیاری جاری ہے۔ایسے میں بھوپال میں عارف مسعود فینس کلب کے ذریعہ نئی نسل تک تحریک آزادی میں علمائے دین کی قربانیاں اور روشن تاریخ سے واقف کرانے کے لئے ہفت روزہ پروگرام کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ ہفت روزہ پروگرام کا آغاز سات اگست کو ہوگا اور اختتام چودہ اگست کو ہوگا۔ ہفت روزہ پروگرام میں بچوں کے بیچ تقریری مقابلہ کا بھی انعقاد کیا جائے گا اور اس میں کامیاب طلبا کو انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔
    عارف مسعود فینس کلب کے روح رواں اور بھوپال وسط حلقہ سے ایم ایل اے عارف مسعود نے نیوز ایٹین اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ دس سالوں سے جنگ آزادی میں علمائے دین کی قربانیاں کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں۔ دو سال کورونا کی وبا کے سبب پروگرام کا انعقاد نہیں ہوسکا تھا اب حالات سازگار ہوئے ہیں اس لئے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا ہے۔

    مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کی نسل کو تحریک آزادی کی روشن تاریخ سے واقف کرایا جائے۔ آج ملک میں ان لوگوں کی حکومت ہے جن کی تحریک آزادی میں کوئی قربانی نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ صرف ملک کی فضا کو زہر آلود کر رہے ہیں بلکہ نئی نسل کو گمراہ بھی کر رہے ہیں۔ مدارس کے ساتھ علمائے دین کی قربانیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ نئی نسل تک ملک کی تحریک آزادی کی حقیقی تاریخ پیش کی  جائے اور ملک کو نفرت کی سیاست سے بچایا جا سکے۔ ملک کی آزادی کے لئے بلا لحاظ قوم وملت سبھی قوموں کے لوگوں نے قربانی دی ہے اور جس کا جو تاریخ میں مقام ہے وہ ملنا چاہئے۔ ان کا کام نفرت پھیلا کر اقتدار میں بنے رہنا ہے اور ہمارا کام محبت کو عام کرنا ہے اور ہم وہ کرتے رہیں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: