உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gopi Chand Narang Death: اردو کے مجاہد ، خدمتگار و تاجدار گوپی چند نارنگ کا آخری سفر

    Gopi Chand Narang Death: اردو کے مجاہد ، خدمتگار و تاجدار گوپی چند نارنگ کا آخری سفر

    Gopi Chand Narang Death: اردو کے مجاہد ، خدمتگار و تاجدار گوپی چند نارنگ کا آخری سفر

    Gopi Chand Narang Death:: میری تصویر کے اک رخ پہ نہ کیجئے تنقید - میری تصویر کئی رخ سے کہانی مانگے۔ مختلف حوالوں سے اردو زبان و ادب کو خوبصورت رنگ و آہنگ عطا کربے والے نارنگ آج اردو اور اہل اردو کو احساسِ یتیمی میں مبتلا کر گئے ۔

    • Share this:
    لکھنئو : معروف محقق ، ناقد ادیب انشاء پرداز افسانہ نگار، ناول نگار دانشور و مفکر گوپی چند نارنگ کی رحلت کے ساتھ ہی اردو زبان و ادب اور تہذیب وثقافت کا روشن باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اردو اور اہل اردو نے اپنا ایک سچا محسن مجاہد اور سر پرست کھو دیا ، زبان کے تاج محل کا بنیادی ستون گرنے سے گویا پوری عمارت لرزہ بہ اندام ہو گئی۔ اردو زبان وادب کے باب میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی خدمات غیر معمولی اور کثیرالجہات ہیں ۔ وہ زبان و ادب کے بدلتے رجحانات سے باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ تمام زندگی  ان کو اپنانے اور ان پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرتے رہے تحرک و تسلسل ان کی طبیعت کا لازمی جز رہا ہے، اسی لیے وہ قدیم وجدید دو نوں نسلوں کو ہر نئے جدید نظریے پر کھل کر بحث و مباحثہ کرنے کا مواقع فراہم کرتے رہے ۔

    یوں تو گوپی چندنارنگ کے مشہور ہونے کے کئی وجوہات ہیں لیکن اردو زبان و ادب میں انہیں ایک بلند پایہ نقاد کی حیثیت سے جو شہرت  ملی، اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں ۔ انہیں مجاہدِ زبان کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اردو تنقید کے میدان میں اردو شاعری اردو نثر، اسلوبیات، ساختیات ، پسِ ساختیات اور لسانیات کے علاوہ ان کا پسندیدہ موضوع اردو افسانے اور فکشن کی تنقید ہے۔ اردو تنقید کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتاہے کہ تنقید کاتعلق زیادہ تر شاعری سے ہی رہا ہے۔ فکشن کوہمیشہ ثانوی درجے پر رکھا گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوگی کہ شاعری کے مقابل فکشن کی تنقید زیادہ مشکل ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جمعہ کی نماز سے پہلے پورے اترپردیش میں ہائی الرٹ، چپے چپے پر سخت سیکورٹی


    پروفیسر گوپی چند نارنگ کے لفظوں میں ’’ اچھے شعر کا معاملہ نسبتاً اتنا مشکل نہیں ، اچھی کہانی کے ساتھ بہت کچھ جھیلنا پڑ تاہے‘‘ پرو فیسر نارنگ کے اس قول سے صاف معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے شاعری سے زیادہ فکشن پر تنقید کی ہے۔ اور فکشن کی تنقیدہی ان کا اصل میدان ہے۔ انہوں نے پریم چند، بیدی، کرشن چندر، انتظار حسین،سریندر پرکاش، بلراج مینرا، سلام بن رزاق اور کئی دوسرے فکشن نویسوں پر جس انداز میں لکھا ہے وہ افسانے پر ان کی گرفت کا آئینہ دار ہے۔

    مختلف اصناف اور عنوانات پر پچاس سے زیادہ کتابیں تخلیق کرنے والے گوپی چند نارنگ نے اپنی ساری زندگی اردو کے نام وقف کردی تھی اور وہ آخری سانس تک اردو اور اردو تہذیب کے ساتھ زندہ رہے، اسی لئے یہ کہا گیا کہ ‘‘ گوپی چند نارنگ کی شخصیت عالمی اُردو ادب اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا ایک جیتا، جاگتا اور جگمگاتا ہوا آفتاب و ماہتاب ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: افغانستان کا مشہور نیوز اینکر اب سڑک پر بیچ رہا ہے سامان، وائرل ہوئیں تصاویر


    گوپی چند نارنگ کی شخصیت اکیسویں صدی میں صرف ایک فرد کی نہیں ہے بلکہ وہ بین الاقوامی سطح پر ایک ادارہ بن چکے ہیں۔ اُن کی ہمہ جہت شخصیت اور عظمت کا اعتراف بین الا قوامی سطح پر ہر شخص کرتا ہے جہاں جہاں اُردو بولی، لکھی اور پڑھی جاتی ہے۔ یہ ہم اُردو والوں کی خوش نصیبی ہے اور باعثِ فخر ہے کہ گوپی چند نارنگ جیسا کوہ نور ہیرا اُردو زبان کو ملا۔ جنھوں نے اپنی فکر انگیز بصارت و بصیرت اور فنّی شعور و آگہی کی روشنی سے اپنے پُر مغز عالمانہ خیالات و نظریات اور اپنی غیرمعمولی ادبی خدمات سے اُردو ادب میں ایک انقلاب برپا کر دیا اورترقی پسندی و جدیدیت کے بعد نئی نسل کے ادیبوں، شعرا، افسانہ نگاروں، ناول نگاروں، ناقدین اور محققین کے لیے نئی راہیں روشن کی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ہندی کے مشہور و معروف نا و ل نگار، افسانہ نگار، ادیب و دانشور کملیشور نے کہا ہے کہ ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی روح کو زندہ رکھنے کے لیے ہر زبان کو ایک گوپی چند نارنگ کی ضرورت ہے۔

    بلا شبہ یہ اردو اور اہل اردو دونوں کی خوش نصیبی تھی کہ انہیں گوپی چند نارنگ کی سرپرستی حاصل تھی۔ اب ان کی رحلت کے بعد اردو اور اہل اردو دونوں ہی احساسِ یتیمی سے دوچار ہیں ، معروف صحافی ، دانشور ، شاعر و قلم کار اور اردو چینل کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی رحلت پر آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا ذاتی نقصان تو ہے ہی لیکن اردو زبان و ادب اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں گوپی چند نارنگ ایک فرد نہیں ایک شخصیت، ایک ادارہ ایک انجمن ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی بلکہ اردو کا انسائکلو پیڈیا تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کے جانے کے بعد صدیاں ان کا ماتم کرتی ہیں ۔ بقول میر

    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں ۔

    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں ۔ گیارہ 11 فروری 1931 کو تقسیم ہند سے قبل بلوچستان دکی میں پیدا ہونے والے اردو کے اس عظیم سر پرست نے گزشتہ شب امریکہ میں آخری سانس لی ۔ واضح رہے کہ اردو کے عالمی سفیر کی حیثیت رکھنے والے گوپی چند نارنگ علاج کے سلسلے میں امریکہ گئے ہوئے تھے جہاں سے وہ کبھی نہ واپس آنے کے لئے اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: