உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Worship Act 1991:سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے عبادت کی جگہ کے قانون کی قانونی حیثیت! جانیے کیا کہتاہےLAW

    عبادت گاہوں کے قانون میں کہا گیا ہے کہ عبادت گاہوں کی حیثیت وہی رہے گی جو 15 اگست 1947 کو تھی۔ ایودھیا کی رام جنم بھومی کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔

    عبادت گاہوں کے قانون میں کہا گیا ہے کہ عبادت گاہوں کی حیثیت وہی رہے گی جو 15 اگست 1947 کو تھی۔ ایودھیا کی رام جنم بھومی کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔

    نئی دہلی:Worship Act 1991: قانون عبادت گاہ کی واپسی کے لیے دعویٰ دائر کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ سپریم کورٹ میں اس قانون کی قانونی حیثیت پر غور موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:Worship Act 1991:عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 کی قانونی حیثیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی درخواست پر گزشتہ سال 12 مارچ کو حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے نہیں آیا اور نہ ہی حکومت نے ابھی تک اس معاملے میں عدالت میں اپنا جواب داخل کیا ہے۔

      نوٹس جاری ہونے کے بعد ایک سال سے دوبارہ سماعت نہیں
      درخواست میں، اپادھیائے نے کئی بنیادوں پر اس قانون کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے، خاص طور پر یہ کہ یہ عدالتوں کے ذریعے ان کے مذہبی مقامات اور یاترا کو واپس حاصل کرنے کے حق سے انکار کرتا ہے۔ قانون حملہ آوروں کے غیر قانونی کاموں کو قانونی شناخت دیتا ہے۔ یہ قانون ہندو لا کی خلاف ورزی کرتا ہے کہ مندر کی جائیداد کبھی ختم نہیں ہوتی، خواہ کتنے ہی سال باہر کے لوگ اس کا استعمال کر چکے ہوں، بھگوان ایک عدالتی شخص ہوتے ہیں، کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مسلم دانشوروں کی اپیل-مسلم بھائی بڑادل کرکے ہندوبھائیوں کوسونپ دیں Gyanvapi مسجد

      کیا کہتا ہے قانون
      عبادت گاہوں کے قانون میں کہا گیا ہے کہ عبادت گاہوں کی حیثیت وہی رہے گی جو 15 اگست 1947 کو تھی۔ تاہم ایودھیا کی رام جنم بھومی کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ قانون کہتا ہے کہ ایودھیا رام جنم بھومی کیس کے علاوہ باقی تمام کیسز کو ختم سمجھا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      OIC کے بیان پر ہندوستان کا شدید ردعمل،کہا-’فرقہ وارانہ ایجنڈہ‘ نہ چلائیں

      قانون عبادت گاہ کی واپسی کے لیے دعویٰ دائر کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ سپریم کورٹ میں اس قانون کی قانونی حیثیت پر غور موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: