ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں تقرری کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، جمعیۃ علماء ہند نے داخل کی عرضی

قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے کے تحفظ اور اس میں اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئین ہندکے آرٹیکل 32 کے تحت جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ وجیہہ شفیق کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔

  • Share this:
قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں تقرری کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، جمعیۃ علماء ہند نے داخل کی عرضی
قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں تقرری کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، جمعیۃ علماء ہند نے داخل کی عرضی

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ جامعہ ہمدرد اور اتر پردیش کی کی جوہر یونیورسٹی کے اداروں والے کو اقلیتی درجات دے نے والے کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے اراکین کی تقرری کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ دراصل اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے یہ ادارہ سول عدالت کی طرح کام کرتا ہے اس لئے اس کے اعلی افسران اراکین کی تقرری سرکاری تسلط سے آزاد ہونی چاہئے۔ تفصیلات کے مطابق  قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے کے تحفظ اور اس میں اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئین ہندکے آرٹیکل 32 کے تحت جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ وجیہہ شفیق کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔ جس پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی (جسٹس ناگیشور راؤ، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس اندو ملہوترا) بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی اور عدالت نے پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے  اس پرجواب طلب کیا ہے۔


واضح رہے کہ سال 2004 میں نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن ایکٹ بنا یا گیا تھا، جس کی دفعہ 3 کے تحت نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس کمیشن میں ایک چیئر پرسن اور تین ممبر ہوتے ہیں، کمیشن کا چیئر پرسن ریٹائرڈ جسٹس ہائی کورٹ ہوتا ہے جبکہ ممبران  کے لئے اعلی تعلیم یافتہ اور اپنے سماج میں بااثر و معزز ہونا چاہئے۔ کمیشن کو سول کورٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں، کمیشن کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی جاسکتی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے داخل پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کا قیام اقلیتی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ میں قانون بنا کر کیا گیا تھا۔ یہ کوئی حکومتی ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستانی عدالتی نظام کا ایک حصہ ہے۔


جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئین ہندکے آرٹیکل 32 کے تحت جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ وجیہہ شفیق کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔
جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئین ہندکے آرٹیکل 32 کے تحت جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ وجیہہ شفیق کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔


کمیشن کے ممبران اور چیئرمین کی تقرری پہلے بھی حکومت کے ذریعہ ہوتی تھی، لیکن اب اس میں شفافیت نہیں برتی جارہی ہے بلکہ ایک طرح سے امتیازی رویہ اختیارکیا جارہا ہے اس کے پیش نظر جمعیۃعلماء ہند نے اپنی پٹیشن مین مطالبہ کیا ہے کہ کمیشن کے سربراہ اور ممبران کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ کمیشن میں شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ پٹیشن داخل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کمیشن کے دو ممبران کی میعاد دسمبر 2020 کے پہلے ہفتہ میں ختم ہوگئی ہے، جن کی میعاد میں مزید پانچ سال کی توسیع  یا انہیں دوبارہ منتخب کیئے جانے کی حکومت ہند کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے۔ جن دو ممبران کو دوبارہ منتخب کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے، ان میں ڈاکٹر بلجیت سنگھ مان اور ڈاکٹر ناہید عابدی ہیں جبکہ تیسرے ممبر ڈاکٹر جسپال سنگھ کی میعاد 2023 میں ختم ہوگی۔

کمیشن کے موجودہ چیئرمین جسٹس نریندر کمار جین کی میعاد بھی 2023 میں ختم ہوگی۔ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئر پرسن اور ممبران کا انتخاب منمانے طریقے سے کیا گیا، کمیشن کے قانون کے مطابق ان کا انتخاب عمل میں نہیں آیا تھا۔ تین ممبران میں سے دو سکھ ہیں اوردیگر اقلیتوں  اور خاص طورپر مسلم کو نظرانداز کر دیا گیا ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، اس لئے کمیشن میں ان کی نمائندگی سب سے زیادہ ہونی چاہئے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن کے قانون کے مطابق کمیشن کے ممبران کو قانون کی معلومات ہونا ضروری ہے جبکہ موجودہ تینوں ممبران میں سے کسی بھی ممبر کا تعلق قانون کے شعبہ سے نہیں ہے جبکہ حکومت نے انہیں دوسرے قابل لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی مرضی سے منتخب کرلیا ہے، جس کے خلاف پٹیشن داخل کی جارہی ہے تاکہ اگلی میعاد کے لیئے ممبران کا تقرر ان کی قابلیت اور کمیشن کی ضرورت کے مطابق ہو تاکہ کمیشن کے ذریعہ اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ  فوائد حاصل ہوسکیں۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران متعدد خود مختار حکومتی اداروں کو بے وقعت اور ناکارہ بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں ان میں قلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن بھی شامل ہے۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران متعدد خود مختار حکومتی اداروں کو بے وقعت اور ناکارہ بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں ان میں قلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن بھی شامل ہے۔


مولانا سید ارشدمدنی نے اسے بتایا افسوسناک 

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران متعدد خود مختار حکومتی اداروں کو بے وقعت اور ناکارہ بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں ان میں قلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن بھی شامل ہے، جس کی تشکیل 2004 میں باقاعدہ طورپر ایک ایکٹ کے ذریعہ ہوئی تھی اس طرح کے ایک خودمختارقومی کمیشن کے قیام کا مقصد اقلیتی تعلیمی اداروں کو چلانے میں آنے والی قانونی رکاوٹوں اور دوسری طرح کی دشواریوں کو دورکرنا تھا، انہوں نے کہا کہ اپنے قیام کے ابتدائی کئی سالوں کے دوران اس کمیشن کی کارکردگی بہت شانداررہی کئی اہم اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے کمیشن نے غیر معمولی نوعیت کے فیصلے بھی کئے، جن میں جامعہ کے اقلیتی کردارکی بحالی کا اہم فیصلہ بھی تھا، مگر اب یہ کمیشن بھی دوسرے حکومتی اداروں کی طرح نہ صرف ایک دکھاوے کا ادارہ بن کررہ گیا ہے بلکہ اس کے ممبران کے تقرری میں بھی بڑی حدتک جانبداری برتی جارہی ہے اور اصول وضوابط کا بھی لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ کمیشن اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق ہے اور چونکہ مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے اور دوسری اقلیتوں کی آبادی کا تناسب مسلم آبادی کے مقابلہ بہت کم ہے اس لئے اصولی طورپر اس کمیشن کے قیام کے بعد سے کسی ریٹائرڈمسلم جج کو ہی کمیشن کا سربراہ بنایاجاتارہا لیکن مرکزمیں اقتدارکی تبدیلی کے بعد انتخاب کایہ اصولی پیمانہ یکسرتبدیل کردیا گیا اوریہ کہ ممبران کی تقرری میں بھی جانبداری سے کام لیاجانے لگاانہوں نے کہا کہ کمیشن کے سربراہ اور ممبران کا انتخاب پہلے بھی مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتاتھا مگر اب واقعہ یہ ہے کہ حکومت اپنی پسند کے لوگوں کی تقرری یا ان کی مدت کارمیں توسیع کررہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 07, 2021 08:23 PM IST