ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کی کورونا ٹیکہ کاری مہم ورلڈ بک میں درج

مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 21 جون کو چلائی گئی کورونا ٹیکہ مہم کو ورلڈ بک میں درج کرلیا گیا ہے۔ کورونا ٹیکہ کاری مہم کو رولڈ بک میں درج کئے جانے سے جہاں شیو راج سنگھ حکومت اور بی جے پی کے کارکنان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کی کورونا ٹیکہ کاری مہم ورلڈ بک میں درج
مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 21 جون کو چلائی گئی کورونا ٹیکہ مہم کو ورلڈ بک میں درج کرلیا گیا ہے۔ کورونا ٹیکہ کاری مہم کو رولڈ بک میں درج کئے جانے سے جہاں شیو راج سنگھ حکومت اور بی جے پی کے کارکنان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

بھوپال: مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 21 جون کو چلائی گئی  کورونا ٹیکہ مہم کو ورلڈ بک میں درج کرلیا گیا ہے۔ کورونا ٹیکہ کاری مہم کو رولڈ بک میں درج کئے جانے سے جہاں شیو راج سنگھ حکومت اور بی جے پی کے کارکنان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ وہیں کانگریس نے ٹیکہ کاری مہم پر نہ صرف دھاندلی کا الزام لگایا ہے بلکہ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض گاؤں تو ایسے ہیں جہاں پر آبادی سے زیادہ کورونا ٹیکہ کاری کو درج کیا گیا ہے، جس کی جانچ کی جانا چاہیئے۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 21 جون کو ریاست میں کورونا ٹیکہ کاری مہا ابھیان کا انعقاد کیا گیا تھا۔


مہا ابھیان کے لئے ریاست میں 7 ہزار سینٹر پر 10 لاکھ ٹیکہ لگانے کاہدف مقرر کیا گیا تھا، مگر اس دن 16 لاکھ 95 ہزار 592 لوگوں کے ذریعہ ٹیکہ کاری کروانے کا ریکارڈ درج کیا گیا تھا۔ یہی نہیں مہا ابھیان کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے یکم جولائی سے تین جولائی تک پھر سے ٹیکہ کاری مہا ابھیان چلانے کا اعلان کیا ہے۔


مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 21 جون کو ریاست میں کورونا ٹیکہ کاری مہا ابھیان کا انعقاد کیا گیا تھا۔
مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 21 جون کو ریاست میں کورونا ٹیکہ کاری مہا ابھیان کا انعقاد کیا گیا تھا۔


کانگریس ترجمان نریندر سلوجا کہتے ہیں کہ کورونا ٹیکہ کاری کے اعدادوشمار ایک دھوکہ ہے اور حکومت ٹیکہ کاری کے نام پر اپنے شہریوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ ایسے ایسے گاؤں درج کئے گئے ہیں جہاں پر آبادی سے زیادہ ٹیکہ کاری دکھائی گئی ہے۔ یہی نہیں اگر آپ 21 جون سے پہلے اور 21 جون کے بعد کی ٹیکہ کاری پر نظرڈالیں تو آپ کو حیرت ہوگی کہ 21 جون سے پہلے جو ٹیکہ کاری کی گئی ہے وہ ایک دن میں پوری ریاست میں چودہ سے پندرہ ہزار کے درمیان ہے اور 21 جون کے بعد کے بھی حالات یہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے ابھیان کے نام پر شہریوں کو باقی دنوں میں ٹیکہ کاری سے محروم رکھا تھا۔ شیوراج سنگھ حکومت ریکارڈ بنانے کے نام پر ریاست کے شہریوں کی صحت جو کھلواڑ کر رہی ہے، وہ شرمناک ہے۔
وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اور بار بار بولنا کانگریس کی گھٹی میں شامل ہے۔ کورونا ٹیکہ کاری میں مدھیہ پردیش میں ریکارڈ قائم کیا ہے تو یہ کانگریس کو برداشت نہیں ہو رہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں، جو کل تک ویکسین پر سوال اٹھاتے تھے اور آج جب عوام ویکسین لگوانے کے لئے نکل پڑے ہیں تو کبھی تنقید کرتے ہیں تو کبھی ریکارڈ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ عوام ان کے فریب کو دیکھ رہی ہے اور آنے والے انتخابات میں کانگریس کا جہاز پورا ڈوب جائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 25, 2021 03:34 PM IST