ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مودی حکومت کے ذریعہ یوم حقوق مسلم خواتین منائے جانے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سخت ردعمل

آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے طلاق ثلاثہ قانون پر جشن منانے سے متعلق شدید تنقید کی اور قانون کو چوری اور سینہ زوری قرار دیا۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ذریعہ بیان جاری کیا گیا اور اس بیان کو ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ٹوئٹ کیا گیا ہے۔

  • Share this:
مودی حکومت کے ذریعہ یوم حقوق مسلم خواتین منائے جانے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سخت ردعمل
مودی حکومت کے ذریعہ یوم حقوق مسلم خواتین منائے جانے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سخت ردعمل

نئی دہلی: مرکزی وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون بنائے جانے کے دو سال پورے ہونے پر گزشتہ روز یعنی یکم اگست کو یوم حقوق مسلم خواتین پورے ملک میں منایا گیا، لیکن جہاں اس پروگرام پر سیاسی بیان بازی ہوئی۔ اس معاملہ سے متعلق مہم چلانے والے اور سپریم کورٹ میں معاملے کو لے جانے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے قانون پر جشن منانے کو لےکر شدید تنقید کی اور قانون کو چوری اور سینہ زوری قرار دیا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ذریعہ بیان جاری کیا گیا اور اس بیان کو ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ٹوئٹ کیا گیا ہے۔


بیان میں کہا گیا ہےکہ مرکزی حکومت نے آج تین طلاق قانون کے پس منظر میں یوم مسلم خواتین منانے کا اعلان کیا ہے، یہ چوری اور سینہ زوری کا مصداق ہے۔ اس قانون نے مسلمان عورتوں کی دشواریوں کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ حکومت اس کو طلاق تسلیم نہیں کرتی اور مسلم سماج شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کو طلاق تصور کرتا ہے، اس کے نتیجہ میں ایسی عورتیں قانون کی رو سے دوسرا نکاح کرسکتی ہیں، اور مسلم سماج میں کوئی ان سے نکاح کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور کوئی بھی فرد اپنے سماج سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا، اس قانون میں مطلقہ عورت کو شوہر کی طرف سے نفقہ کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق قانون کو مسلم خواتین کے لئے نقصاندہ قرار دیا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق قانون کو مسلم خواتین کے لئے نقصاندہ قرار دیا ہے۔


دوسری طرف مرد کے لئے تین سال جیل کی سزا رکھی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ جب شوہر جیل میں ہوگا تو یہ بیوی کا نفقہ کیسے ادا کرے گا، پس یہ قانون تضاد سے بھرا ہوا ہے اور عورتوں کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ اسی لئے بڑے پیمانہ پر خواتین اس قانون کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ علماء کے مشورہ سے اس میں مناسب ترمیم کا بل لائے۔
غور طلب ہے دہلی میں مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی کی رہائش گاہ پر باضابطہ مسلم خواتین کو بلایا گیا اور پروگرام کیا گیا، جس میں مرکز ی وزیر بہبودی خواتین اسمرتی ایرانی، مرکزی وزیر برائے محنت و ماحوالیا ت بھوپندر سنگھ یادو شامل ہوئے، جس میں تینوں وزراء نے طلاقہ ثلاثہ قانون پر جشن اور پرو گرام کو مودی سرکار کا مسلم خواتین کو لے کر عزم قرار دیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر اقلیتی امو ر مختار عباس نقوی نے دعوی کیا کہ مودی حکومت کا دو سال قبل لایا گیا قانون اثر انداز ہو رہا ہے اور تین طلاق کے معاملوں میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ حالانکہ مختار عباس نقوی نے بتایا کہ یہ ڈاٹا دو سال پرانا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 02, 2021 01:39 PM IST