ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Cabinet Expansion: مرکزی کابینہ میں آج ہوگی توسیع،نوجوان چہروں مل سکتی ہے نئی ذمہ داریاں

ذرائع کے مطابق جن لیڈروں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا انیں یہاں بلالیا گیا ہے اور ان میں سے کئی آج یہاں پہنچ بھی گئے۔ دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پی ایم مودی اپنی کابینہ میں توسیع کررہے ہیں۔ کابینہ میں تقریباً 20 نئے چہروں کو شامل کئے جانے کی امید ہے۔

  • Share this:
Cabinet Expansion:  مرکزی کابینہ میں آج  ہوگی توسیع،نوجوان چہروں مل سکتی ہے نئی ذمہ داریاں
پی ایم مودی اپنی کابینہ میں توسیع کررہے ہیں۔ کابینہ میں تقریباً 20 نئے چہروں کو شامل کئے جانے کی امید ہے۔

کچھ ریاستوں کے گورنروں کی پھیر بدل کے بعد وزیراعظم نریندر دوسری مدت کار میں پہلی بار بدھ کی شام اپنی کابینہ میں توسیع اور تشکیل نو کرنے جارہے ہیں۔ذرائع نے منگل کی شام کہا کہ کابینہ کی توسیع آج شام ہوگی۔ کابینہ میں پھیر بدل کو حتمی شکل دینے کے لئے وزیراعظم مودی اور بھارتیہ جنتاپارٹی کی اعلی قیادت سنجیدگی سے غور و خوض کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق جن لیڈروں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا انیں یہاں بلالیا گیا ہے اور ان میں سے کئی آج یہاں پہنچ بھی گئے۔ دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پی ایم مودی اپنی کابینہ میں توسیع کررہے ہیں۔ کابینہ میں تقریباً 20 نئے چہروں کو شامل کئے جانے کی امید ہے۔


اس سےپہلے آج صبح کچھ ریاستوں میں گورنر بدلے گئے اور کچھ میں نئے گورنروں کی تقرری کی گئی ان میں سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر تھاور چند گہلوت سب سے اہم ہیں جنہیں کرناٹک کا گورنر بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد کابینہ میں پھیر بدل کی سرگرمی تیزی سے بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ کو اس ہفتہ راجدھانی میں رہنے کا پیغام دیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنروں کی تقرری کے بعد اب دوسرے مرحلے میں کابینہ کی توسیع کی جانی ہے اور مانسون اجلاس کو دیکھتے ہوئے کام جتنا جلدی ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے کیونکہ وزیراعظم کو اپنی وزارت کو سمجھنے کے لئے کچھ وقت مل سکتا ہے۔



سی این این نیوز 18 کو اعلی سطحی ذرائع کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق کابینہ میں درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کی ریکارڈ نمائندگی ہوگی ۔ ساتھ ہی خواتین کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں او بی سی طبقہ کے تقریبا 24 وزرا ہوں گے ۔ سرکار کا منصوبہ یہ ہے کہ سبھی کمیونٹی کی نمائندگی کابینہ میں رکھی جائے ۔ علاوہ ازیں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے پر بھی غور و خوض جاری ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ نئی کابینہ میں اراکین کی اوسط عمر آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سب سے کم ہوسکتی ہے ۔ یعنی یہ ایک نوجوان کابینہ ہوگی ۔ ان لوگوں کو کابینہ میں نمائندگی دی جائے گی جنہیں ریاست یا مرکز میں انتظامی تجربہ رہا ہو ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع اور تشکیل نو پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات، اتحادی پارٹیوں کی شراکت داری کے دباؤ اور کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران حکومت کی شبیہ پر لگے داغ کو کم کرنے کے مقصد کی کی گئی ہے۔تیس مئی 2019 کو وزیراعظم مودی کی کابینہ میں 57 وزراء بنائے گئے تھے جن میں 24 کابینی، نو آزادانہ چارج اور 24 وزیر مملکت تھے۔ لیکن شیوسینا اور شرومنی اکالی دل (این اے ڈی) کے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے الگ ہونے کے سبب اروند ساونت اور محترمہ ہرسمرت کور بادل نے استعفیٰ دیا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی لوک جن شکتی پارٹی کے رہنما رام ولاس پاسوان کی موت کے سبب کابینی وزراء کی تعداد 21 رہ گئی ہے۔ وزیر ممکلت برائے ریل سریش انگڑی کی گذشتہ برس کووڈ کے سبب موت ہونے کے سبب مجموعی طور پر فی الحال 53 وزراء ہیں۔


مسٹر گہلوت کے ہٹائے جانے کے بعد پرانے وزراء کی تعداد 52 ہو جائے گی۔ کچھ وزراء کو حکومت سے ہٹا کر حکومت سے ہٹا کر تنظیم میں بھیجے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق مرکزی کابینہ میں اراکین کی زیادہ تعداد 81 ہو سکتی ہے۔ اس طرح سے کابینہ میں زیادہ سے زیادہ 29 نئے وزیر شامل کیے جا سکتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق کابینہ میں تقریباً 20 نئے چہرے شامل کیے جانے کی امید ہے۔ جن ریاستوں میں آئندہ برس اسمبلی الیکشن ہونا ہے، ان ریاستوں میں سماجی حالات کی توجہ رکھتے ہوئے کابینہ میں ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ علاقائی پارٹیوں کے لیڈروں کو بھی کابینہ میں شامل کرکے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو مضبوط بنانے کی تیاری ہے۔

ان ہی رپورٹوں کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ محترمہ انوپریا پٹیل کی ملاقات کو بھی کابینہ کی توسیع سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ ادھر مدھیہ پردیش کے دورہ پر گئے مسٹر سندھیا بھی پارٹی اعلی کمان کا پیغام ملنے پر دورہ میں بیچ میں ملتوی کرکے دہلی واپس آگئے ہیں۔


مودی کابینہ میں نصف درجن وزرا ایسے ہیں جن کے پاس دو سے زیادہ وزارتہیں۔ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کے پاس دیہی ترقیات اور پنچایتی رات اور زراعت اور فوڈ پروسیسنگ ہے۔ اسی طرح روی شنکر پرساد، ڈاکٹر ہرش وردھن، پرکا ش جاوڈیکر، پیوش گوئل اور پرہلاد جوسی تین تین وزارت کا کام کاج سنبھال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بیمار چل ہے مرکزی وزیرمملکت آزادانہ چارج شری پد نائک کی آیوش وزارت کا کام کاج اسپورٹس اور نوجوانوں کے امور کے وزیر کرن رجیجو دیکھ رہے ہیں۔ آزادانہ چارج والے وزیر پرہلاد سنگھ پٹیل کے پاس ثقافت اور وزارت سیاحت ہے جبکہ مسٹر ہردیپ سنگھ پوری رہائش گاہ اور شہری ترقیات کے ساتھ شہری ہوابازی کی وزارت بھی دیکھ رہے ہیں۔ مسٹر نتن گڈکری، محترمہ نرملا سیتا رمن، محترمہ اسمرتی ایرانی اور مسٹر دھرمیندر پردھان کے پاس دو دو وزارت ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وزرا کے محکموں میں بھی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اسی کے ساتھ بی جے پی تنظیم میں بھی تبدیلی ہونے کا امکان ہے۔ کچھ وزرا کو تنظیم میں اہم ذمہ داری دیئے جانے اور تنظیم سے کچھ چہرے حکومت میں جانے کے اشارے ہیں۔

یواین آئی ان پٹ کے ساتھ نیوز18 اردو کی رپورٹ
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jul 07, 2021 07:36 AM IST