جگدمبیکا پال نے سماجوادی پارٹی میں اپنے جانے کی خبروں کو بے بنیاد اور افواہ بتایا

جگدمبیکا پال نے سوشل میڈیا اور میڈیا میں چل رہی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

Aug 29, 2018 11:01 AM IST | Updated on: Aug 29, 2018 11:01 AM IST
جگدمبیکا پال نے سماجوادی پارٹی میں اپنے جانے کی خبروں کو بے بنیاد اور افواہ بتایا

بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال

پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا اور میڈیا میں یہ خبر بڑی تیزی کے ساتھ گردش کر رہی ہے کہ  بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال  کمل کا ساتھ چھوڑ کر سائیکل پر سواری کر سکتے ہیں۔ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ  2019 کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے وہ سماجوادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ تاہم جگدمبیکا پال نے سوشل میڈیا اور میڈیا میں چل رہی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

نیوز 18 اردو کو بھیجے اپنے ایک واٹس ایپ میسیج میں اترپردیش کے ڈومریا گنج لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ان خبروں کو بے بنیاد بتایا ہے۔ واٹس ایپ میسیج میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ چلائی جا رہی ہمارے سماجوادی پارٹی میں جانے کی خبر افواہ اور بے بنیاد ہے۔ ہم بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں، رہیں گے اور اسی پارٹی میں سیاسی زندگی کے خاتمہ تک خدمت کرتے رہیں گے‘‘۔

در اصل، حالیہ دنوں میں جگدمبیکا پال کی ایک ایسی تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ اسی طرح اس سے پہلے بھی ایک ایسی ہی تصویر منظر عام پر آئی تھی جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کے پاس جگدمبیکا پال بھی کھڑے نظر آئے تھے۔ عام انتخابات کی تیاریوں کے درمیان ایسی تصویریں نظر آنے کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جانے لگا تھا اور جگدمبیکا پال کے بی جے پی کو چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں جانے کی قیاس آرائی کی جانے لگی تھی۔

اپنے واٹس ایپ میسیج میں جگدمبیکا پال نے اس تصویر کو لے کر بھی وضاحت کر دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہماری اور اکھلیش یادو کی تصویر بھارت رتن سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی جی کے انتقال کے بعد آخری دیدار کے لئے دلی جاتے وقت لکھنئو ائیرپورٹ پر ایک ملاقات کے دوران کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اسی تصویر کو لے کر ہمارے سیاسی مخالفین ہمارے بارے میں جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ وہ ہمیں بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں‘‘۔

Loading...

واضح رہے کہ جگدمبیکا پال کا سیاسی سفر ہمیشہ سے اتار چڑھاو کا شکار رہا ہے۔ یوپی کے ضلع بستی سے تعلق رکھنے والے جگدمبیکا پال نے اپنا سیاسی سفر کانگریس پارٹی سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد نریش اگروال اور راجیو شکلا کے ساتھ 1990 کی دہائی میں کانگریس سے بغاوت کر کے انہوں نے لوک تانترک کانگریس نامی ایک نئی پارٹی تشکیل دی تھی اور کلیان سنگھ حکومت کو حمایت دی تھی۔ جگدمبیکا پال اترپردیش کے ایسے رہنما ہیں جو ایک دن کے لئے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔

حالانکہ، اس کے جلد ہی بعد ایک بار پھر انہوں نے کانگریس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ 2004 میں انہوں نے بستی چھوڑ ضلع سدھارتھ نگر کا رخ کیا۔ یہاں کے پارلیمانی حلقہ ڈومریا گنج سے کانگریس کے ٹکٹ پر انہوں نے لوک سبھا کا الیکشن لڑا جس میں انہیں شکست ملی۔ 2009 میں ایک بار پھر یہاں سے کانگریس کے ٹکٹ پر چناو لڑا اور اس میں انہوں نے جیت درج کی اور وہ پہلی بار لوک سبھا میں پہنچے۔ اس کے بعد  2014 کے عام انتخابات سےعین قبل انہوں نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھام لیا اور انتخابات میں دوسری بارجیت درج کی۔

Loading...