ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ملک میں کورونا کی دوسری لہرکا اثر، ڈھال بنےگی نیٹ ورک 18- فیڈرل بینک کی سنجیونی مہم

Covid-19 Vaccination: کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پورے ملک میں دوبارہ لاک ڈاون کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اگر انفیکشن کی رفتار کو نہیں روکا گیا تو ریاستی حکومتوں کے لئے مکمل لاک ڈاون ہی آخری متبادل ہوگا۔

  • Share this:
ملک میں کورونا کی دوسری لہرکا اثر، ڈھال بنےگی نیٹ ورک 18- فیڈرل بینک کی سنجیونی مہم
ملک میں کورونا کی دوسری لہرکا اثر، کوچ بنےگا نیٹ ورک 18- فیڈرل بینک کی سنجیونی مہم

نئی دہلی: ملک میں ایک بار پھر سے کورونا وائرس کے انفیکشن (Coronavirus) کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کئی ریاستوں اور شہروں میں انفیکشن کے معاملے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ملک انفیکشن کی دوسری لہر کے منجھدار میں پھنستا ہوا نظر آرہا ہے۔ اگر دوسرے ممالک سے سبق یاد رکھیں تو ہم یاد رکھیں تو ہم یاد رکھنا ہوگا کہ اس بار پہلی لہر کے مقابلے انفیکشن کے معاملوں کی تعداد اور مریضوں کی موت کا اعدادوشمار بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔


ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کو صرف ٹیکہ کاری ہی روک سکتا ہے اور اس کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جلد از جلد ٹیکہ لگانا ہوگا۔ ایسے حالات میں نیٹ ورک 28 کا نیا کیمپین ’سنجیونی - ٹیکہ زندگی کا‘ فیصلہ کن ہوجاتا ہے۔ اس مہم کو اس طرح کی شکل دی گئی کہ ملک کے اندرونی علاقوں میں اور کورونا سے سب سے زیادہ موثر اضلاع میں ٹیکہ کاری پروگرام کو رفتار دی جاسکے اور سبھی حصوں میں ٹیکہ کاری دستیاب ہوسکے۔


کورونا وائرس کی دوسری لہر


اس سے پہلے کہ ہم کیمپین کے بارے میں بات کریں، یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹیکہ کاری وقت کی ضرورت کیوں ہے۔ ماہرین نے ہندوستان میں تیزی سے شکل بدل رہے کورونا وائرس کے ڈبل اسٹرین ویریئنٹ کی تصدیق کی ہے۔ ساتھ ہی برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل میں ملے کورونا وائرس اسٹرین کے زیادہ خطرناک ہونے کی خبریں بھی ہیں۔ دوسری طرف ملک میں لوگ کورونا وارئس لائف اسٹائل پر عمل میں کوتاہی برت رہے ہیں اور ٹیکہ کاری پروگرام کی رفتار بھی بے حد سست ہے۔ انفیکشن کی دوسری لہر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ وسط فروری سے اضافہ ہونے کے بعد کچھ ہی دنوں کے اندر لاکھوں لوگ متاثر ہوگئے ہیں۔

کورونا وائرس کے خلاف ہندوستان نے پہلی لہر کا بخوبی سامنا کیا اور حکومت کی کوششوں کی پوری دنیا میں تعریف بھی ہوئی۔ حالانکہ جلد ہی تجارتی مراکز کھول دیئے گئے اکہ معیشت کے مورچے پر زیادہ نقصان سے بچا جا سکے۔ تاہم، کورونا کی دوسری لہر نے ملک میں دوبارہ لاک ڈاون کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ اگر انفیکشن کی رفتار کو نہیں روکا گیا تو ریاستی حکومتوں کے لئے مکمل لاک ڈاون ہی آخری متبادل ہوگا۔ حالانکہ اس لڑائی میں ایک مثبت بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کورونا کی پہلی لہر کے وقت انفیکشن سے مقابلے کے لئے ہمارے پاس صرف لاک ڈاون کا ہی متبادل تھا، لیکن اس بار ہمارے پاس ویکسین ہے، جس کے سہارے وبا کو شکست دی جاسکتی ہے۔

نیٹ ورک 18 اور فیڈرل بینک کی سنجیونی مہم

مرکز اور ریاستی حکومتیں 16 جنوری کے بعد سے ہی لوگوں کو کورونا وائرس کا ٹیکہ لگا رہی ہے، لیکن ملک کی آبادی اور بڑے علاقے کو دیکھتے ہوئے سبھی کو ایک محدود مدت میں ٹیکہ دستیاب کرا پانا بڑا چیلنج ہے۔ اسی چیلنج سے پار پانے کے لئے سنجیونی مہم کو شروع کیا گیا ہے۔ نیٹ ورک 18 کی اس مہم کو ’سنجیونی- ٹیکہ زندگی کا‘ نام دیا گیا ہے، جوکہ فیڈرل بینک کا کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلٹی مہم (Federal Bank and Network 18 Initiative) بھی ہے۔ اپولو 24/7 اس مہم میں ہیلتھ ایکسپرٹ کے طور پر حصہ لے رہا ہے۔ فلم اداکار سونو سود اس مہم کے برانڈ ایمبسڈر ہوں گے، جوکہ 7 اپریل کو عالمی یوم صحت کے دن اپولو اسپتال سے کورونا وائرس ویکسین لگوائیں گے اور اسی کے ساتھ مہم کا آغاز ہوگا۔

امرتسر میں ہونے والے لانچ پروگرام کی شروعات کے موقع پر خاص ’سنجیونی گاڑی‘ کو بھی روانہ کیا جائے گا، جوکہ فیڈرل بینک کے ذریعہ گود لئے گئے 5 اضلاع کے 1500 گاووں میں جائے گی اور لوگوں کے درمیان مختلف پروگراموں کے ذریعہ بیداری پیدا کی جائے گی۔ ان اضلاع میں امرتسر، ناسک، اندور، گنٹور اور جنوبی کنڑ شامل ہیں۔ یہ پانچ اضلاع ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ نیٹ ورک 18 کا ’سنجیونی - ٹیکہ زندگی کا‘ مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کارپوریٹ، این جی او اور اسپتالوں پر بھروسہ کرسکتی ہے اور پورے ملک میں کورونا ٹیکہ کاری پروگرام کو تیز کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح جیسے ہی ویکسین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پھیلے گی۔ سستی ہوگی اور پہنچ میں ہوگی، ملک میں ہارڈ ایمیونٹی کے پیدا ہونے کے مواقع تیزی سے بڑھیں گے۔ ہارڈ ایمیونٹی کی حالت میں لوگ اپنی پہلے کی زندگی میں واپس لوٹ سکتے ہیں اور انہیں انفیکشن کا بھی کوئی خوف نہیں ہوگا۔ سنجیونی جیسی مہم نہ صرف وقت کی ضرورت ہیں بلکہ ایک مثبت قدم بھی ہیں۔ اس مہم کی کامیابی اور پورے ملک میں پھیلاو کو دیکھنے کے لئے ہم زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 06, 2021 08:00 PM IST