ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ: رانچی کے اسلام نگر کے متاثرین کی پریشانیوں میں اضافہ، مسلسل بارش کی وجہ سے اضافہ

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی کے سینکڑوں متاثرین خاندان کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ان دنوں مسلسل بارش کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ‌پلاسٹک اور ترپال سے بنے عارضی جھگی جھونپڑی میں رہنے کو مجبور‌ سینکڑوں غریب خاندان ایک طویل عرصے سے سرکاری رہائش گاہ کے انتظار میں ہیں۔

  • Share this:
جھارکھنڈ: رانچی کے اسلام نگر کے متاثرین کی پریشانیوں میں اضافہ، مسلسل بارش کی وجہ سے اضافہ
جھارکھنڈ: رانچی کے اسلام نگر کے متاثرین کی پریشانیوں میں اضافہ، مسلسل بارش کی وجہ سے اضافہ

رانچی: جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی کے سینکڑوں متاثرین خاندان کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ان دنوں مسلسل بارش کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ‌پلاسٹک اور ترپال سے بنے عارضی جھگی جھونپڑی میں رہنے کو مجبور‌ سینکڑوں غریب خاندان ایک طویل عرصے سے سرکاری رہائش گاہ کے انتظار میں ہیں۔ ان متاثرہ خاندان کے لئے ریاستی حکومت کے فیصلے کے تحت 35 کروڑ کی لاگت سے رہائش گاہ کی تعمیر کرائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ان رہائش گاہ کی تعمیر میں بے حد سست روی سے کام لیا جا رہا ہے۔ کورونا وبا کی وجہ کر لاک ڈاؤن نے تعمیراتی کام کو مکمل طور پر ٹھپ کر دیا ہے۔ اب یہ تعمیراتی کام کب پورا ہوگا یہ کہنا مشکل ہے۔


پلاسٹک اور ترپال سے بنے عارضی جھگی جھونپڑی میں رہنے کو مجبور‌ سینکڑوں غریب خاندان ایک طویل عرصے سے سرکاری رہائش گاہ کے انتظار میں ہیں۔
پلاسٹک اور ترپال سے بنے عارضی جھگی جھونپڑی میں رہنے کو مجبور‌ سینکڑوں غریب خاندان ایک طویل عرصے سے سرکاری رہائش گاہ کے انتظار میں ہیں۔


سال 2011 میں اسلام نگر اور علی نگرکے مکانات کو کیا گیا تھا منہدم


جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم نامہ کے بعد گورنمنٹ پالیٹکنک کالج کی زمین پر تقریباً 25 سالوں سے غیر قانونی طریقے سے آباد اسلام نگر اور علی نگر کے سینکڑوں کچے پکے مکانات کو بولڈوزر کے ذریعہ اپریل 2011 میں منہدم کر دیا گیا تھا۔‌ انہدام‌ کی اس کارروائی کے دوران علاقہ کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس موقع پر مزاحمت کے دوران کئی لوگ پولیس کی گولیوں کے نشانہ بنے۔ اس میں دو لوگوں کی موت جبکہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس کارروائی کے بعد بے سروسامانی کے عالم میں متاثرہ افراد فٹ پاتھ اور کھلے آسمانوں کے نیچے رہنے کو مجبور ہوگئے۔ چندلوگ دور دراز علاقوں میں کرایہ کے مکان میں منتقل ہوگئے اور کئی لوگ مجبوراً پھر سے اسی مقام پر عارضی جھگی جھونپڑی بنا کر رہنے لگے۔

انہدام‌ کی اس کارروائی کے دوران علاقہ کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انہدام‌ کی اس کارروائی کے دوران علاقہ کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


جب جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے اسی مقام پر متاثرین کو 13 ماہ کے اندر بسانے کا دیا حکم

ناجائز تجاوزات ہٹانے کے نام پر اسلام نگر اور علی نگرکے سینکڑوں مکانات کو منہدم کردیا گیا۔ اس کارروائی کےخلاف متاثرہ افراد نے عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی۔ راحت کی بات یہ ہوئی کہ عدالت نے ایک ماہ کے اندر ہی اس معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے 13 ماہ کے اندر اسی مقام پر متاثرین کو آباد کرنےکا حکم دیا، لیکن ریاستی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عدالت کے حکم نامہ کے تقریباً پانچ سال بعد ریاستی کابینہ کے ذریعے پالیٹکنک کی اسی زمین پر اسلام نگر کے متاثرہ خاندانوں کے رہائش گاہ کی تعمیر کےلئے 35 کروڑ روپئے خرچ کرنے کی منظوری دی گئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ون بی ایچ کے فلیٹ پر مشتمل اپارٹمنٹ کی تعمیر میں لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ تقریباً تین سال کا عرصہ گزر گیا ہے، لیکن اب تک 208  فلیٹ کی بھی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہو پایا ہے۔ بقیہ 336 متاثرہ خاندانوں کے لئے فلیٹ بنانے کی منظوری کب ملےگی اور اس کا تعمیراتی کام کب مکمل ہوگا یہ کہنا مشکل ہے۔ فی الحال اسلام نگر اور علی نگر کے سینکڑوں متاثرہ خاندان گرمی، سردی اور برسات کی مار جھیلنے پر مجبور ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 19, 2020 08:45 PM IST