உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: نئی نسل کی صلاحیتوں سے اردو کی ترقی کے مزید امکانات ہوتے ہیں روشن

    اردو کو لے کر وہی لوگ مایوسی کی باتیں کرتے ہیں جو اردو کی زمینی حیقیتوں سے واقف نہیں ہیں۔ اکیسویں صدی میں اردو زبان کو لے کر نہ صرف نئی نسل میں بیداری پیدا ہو ئی ہے بلکہ نئی نسل جس طرح سے اردو کی مختلف اصناف میں اپنی فکر کا اظہار کر رہی ہے، اس سے اردو زبان و ادب کی ترقی کے مزید امکانات روشن ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ تقسیم انعامات  کے موقعہ پر اردو دانشوروں نے کیا۔

    اردو کو لے کر وہی لوگ مایوسی کی باتیں کرتے ہیں جو اردو کی زمینی حیقیتوں سے واقف نہیں ہیں۔ اکیسویں صدی میں اردو زبان کو لے کر نہ صرف نئی نسل میں بیداری پیدا ہو ئی ہے بلکہ نئی نسل جس طرح سے اردو کی مختلف اصناف میں اپنی فکر کا اظہار کر رہی ہے، اس سے اردو زبان و ادب کی ترقی کے مزید امکانات روشن ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ تقسیم انعامات کے موقعہ پر اردو دانشوروں نے کیا۔

    اردو کو لے کر وہی لوگ مایوسی کی باتیں کرتے ہیں جو اردو کی زمینی حیقیتوں سے واقف نہیں ہیں۔ اکیسویں صدی میں اردو زبان کو لے کر نہ صرف نئی نسل میں بیداری پیدا ہو ئی ہے بلکہ نئی نسل جس طرح سے اردو کی مختلف اصناف میں اپنی فکر کا اظہار کر رہی ہے، اس سے اردو زبان و ادب کی ترقی کے مزید امکانات روشن ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ تقسیم انعامات کے موقعہ پر اردو دانشوروں نے کیا۔

    • Share this:
    بھوپال: اردو کو لے کر وہی لوگ مایوسی کی باتیں کرتے ہیں، جو اردو کی زمینی حیقیتوں سے واقف نہیں ہیں۔ اکیسویں صدی میں اردو زبان کو لے کر نہ صرف نئی نسل میں بیداری پیدا ہوئی ہے بلکہ نئی نسل جس طرح سے اردو کی مختلف اصناف میں اپنی فکر کا اظہار کر رہی ہے، اس سے اردو زبان و ادب کی ترقی کے مزید امکانات روشن ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ تقسیم انعامات  کے موقعہ پر اردو دانشوروں نے کیا۔
    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ تلاش جوہر پروگرام کے نام سے ریاست گیر سطح پر اردو کے نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کے لئے پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ تلاش جوہر پروگرام کے تحت نہ صرف اردو شاعری بلکہ اردو کی مختلف اصناف میں لکھنے والے اردو کے نئے فنکاروں کو موقعہ دیاگیا ہے بلکہ ضلع سطح پر بھی بیت بازی،مضمون نویسی، تقریری مقابلہ،حمد،نعت اور غزل گوئی کے ساتھ گلوکاری مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ مقابلہ میں کامیاب طلبا کو بھوپال بلاکر اکادمی کے ذریعہ انہیں انعام اور سرٹیفکیٹ سے سرفراز کیا گیا۔
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ اکادمی کا مقصد زمینی سطح پر اردو کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ اکادمی کے ذریعہ اس کے لئے صوبائی سطح پر تلاش جوہر پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ پروگرام کے کامیاب طلبا کے ساتھ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اردو کو لے کر بیت بازی، مضمون نویسی، تحریری وتقریری مقابلہ کے ساتھ حمد، نعت اور غزل کو پڑھنے کا بھی پروگرام منعقد کیا گیا تھا ان میں کامیاب طلبا کو تو انعام دیا ہی گیا۔ ساتھ ہی وہ طلبا جنہوں نے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اردو مضمون میں نمایاں نمبرات حاصل کرکے نام کیا ہے. انہیں بھی سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ جشن اردو پروگرام میں نمایاں خدمات انجام دینے والی اردو کی انجمنوں کے ساتھ اردو کے خادموں کو بھی سرٹیفکیٹ سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ زبان و ادب اور تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے پروفیسر شکور خان، پروفیسر آفاق احمد، اظہر راہی، کوثر صدیقی، عارف عزیز ڈاکٹر رضیہ حامد، ربابا فاطمہ زیدی اور فرحت جہاں کا بھی اعزاز کیا گیا ہے۔
    ممتاز ادیب کوثر صدیقی کہتے ہیں کہ اردو سے متعلق مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، نئی نسل جس تیور کے ساتھ سامنے آرہی ہے، وہ خوش آئند ہے۔ ہمیں نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے لئے اردو کے زیادہ سے زیادہ پروگرام کا انعقاد کرنا چاہئے تاکہ طلبا کو اپنی صلاحیت منطر عام پر لانے کا موقع مل سکے۔ وہیں ممتاز ادیبہ فرحت جہاں کہتی ہیں کہ اردو سے متعلق میں پہلے بھی کہتی تھی اور اب بھی کہہ رہی ہوں کہ اردو کا ماتم کرنے والے اردو کی زمینی حقیقتوں سے واقف نہیں ہیں۔ آج پہلے کے مقابلہ نہ صرف اردو کے زیادہ اخبار و رسائل نکل رہے ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ اردو کی کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ پہلے صرف اردو کے اخبار و رسائل ہی نکلتے تھے، مگر اب تو اردو کے بڑی تعداد میں نیوز چینل موجود ہیں جو اردو کی نشریات کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، جس میں نیو ز ایٹین اردو کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ ہمیں اردو کو لیکر اپنا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرحیز ہے ساقی۔
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ اردو طلبا کو رویندر بھون میں انعام تقسیم کئے گئے تو اردو کی انجمنوں کو نمایاں خدمات کے لئے بھوپال جہانگیر آباد میں منعقدہ تقریب میں اعزاز و سرٹیفیکٹ سے سرفراز کیاگیا۔جبکہ اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال رویندر بھون میں منعقدہ کل ہند مشاعرہ کے موقعہ پر اردو کے ممتاز ادیبوں کو مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کے ہاتھوں اعزاز سے سرفراز کیاگیا۔ وشواس سارنگ نے اردو کے فروغ کے لئے اردو اکادمی کے اقدامات کی ستائش کی اور حکومت کی جانب سے زبان و ادب کے فروغ کے لئے تمام ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: