ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

قو می تنظیم نے ملک میں محبت کے فروغ کو وقت کی سب سے اہم ضرورت قرار دیا

آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری اور کولکاتہ کے آبزرور اور مشہور صحافی محمد احمد نے مغربی بنگال پردیش قومی تنظیم کی نئی ٹیم کی کمان کولکاتہ کی مشہور سماجی اور ملی شخصیت جمیل منظر کوسونپی جبکہ مالدہ سے ایم ایل اے مشتاق عالم اور ماسٹر خواجہ احمد حسین (شمالی 24 پرگنہ)کو ورکنگ صدر بنانے کا اعلان کیا۔

  • Share this:
قو می تنظیم نے ملک میں محبت کے فروغ کو وقت کی سب سے اہم ضرورت قرار دیا
قو می تنظیم نے ملک میں محبت کے فروغ کو وقت کی سب سے اہم ضرورت قرار دیا

کولکاتہ: آج یہاں کولکاتہ کے کریسٹ ووڈ ہوٹل میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری اور کولکاتہ کے آبزرور و مشہور صحافی محمد احمد نے مغربی بنگال پردیش قومی تنظیم کی نئی ٹیم کی کمان کولکاتہ کی مشہور سماجی کارکن جمیل منظر کو سونپی جبکہ مالدہ سے ایم ایل اے مشتاق عالم اور ماسٹر خواجہ احمد حسین (شمالی 24 پرگنہ) کو ورکنگ صدر بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے ایک ماہ میں ریاستی صدر جمیل منظر و دیگر ذمہ داروں سے مشورہ کے بعد نئی ٹیم کا اعلان کیا جائے گا۔ محمد احمد نے کہا کہ آل انڈیا قومی تنظیم کا اس وقت سب سے بڑا مقصد نفرت کے خلاف کام کرنا اور لوگوں میں فرقہ پرستوں کے ذریعہ پیدا کی جانے والی دوریوں کو پاٹنا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ جس طرح سے نفرت کے سودا گر ملک کی صاف ستھری فضا میں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر اپنی سیاسی روٹی سینکنا چاہتے ہیں وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کے مفاد میں ہے۔ محمد احمد نے کہا کہ آج اگر ہم نے اپنی نئی نسل کے لوگوں کو محبت کا پیغام اور گاندھی جی کے عدم تشدد کے اصولوں کو نہیں سمجھایا تو ہماری پیڑھیاں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نفرت کا سبق پڑھ کرکے ہمارے بچے جوان ہوئے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کل کا بھارت ہم کیسا بنا نا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم وتجارت سب کی اپنی اہمیت ہے، لیکن اس وقت سب سے زیادہ ضرورت سبھی طبقات اور مذاہب کے درمیان محبت کی فضا ہموار کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی تنظیم ہر طرح کی فرقہ پرستی کے خلاف ہے، چاہے وہ اکثریت کی طرف سے ہو یا اقلیت کی طرف سے، لیکن اکثریت کا یہ فرض ہے کہ وہ اقلیت کی طرف دوستی کے ہاتھ بڑھائے اور اقلیت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اکثریت کا احترام کرے۔ محمد احمد نے کہا کہ ایک گروہ ایسا بھی ہو جو تعلیم اور تجارت و تربیت کے شعبہ میں بھی کام کرے تاکہ ملک ترقی کی طرف جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نفرت بڑھتی رہی تو ملک کا نقصان ہوگا اور ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

جمیل منظر نے آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر طارق انور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مجھ پر طارق انور نے بھروسہ کیا ہے، میری کوشش ہوگی کہ میں اس میں صد فیصد کھرا اتروں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ایک ماہ میں پوری کمیٹی کے بنانے کا اعلان قومی صدر طارق انور کی موجودگی میں ہوگا، جس میں بنگالی زبان کے لوگوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ جمیل منظر نے کہا کہ قو می تنظیم کے دروازے ایسے تمام لوگ جو سیکولر ہیں ان کیلئے کھلے ہیں۔ جولوگ گاندھی وادی سوچ کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں وہ کسی بھی مذہب کے ہوں ہم ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ جڑیں اور نفرت کی دھار کم کرنے میں مدد کریں۔خواجہ احمد حسین نے طارق انور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے صدر کا اعتماد ٹوٹنے نہیں دیں گے اور پوری طاقت سے گاندھی وادی سوچ کو آگے بڑھائیں گے اور جلد از جلد نئی ٹیم بنانے کا اعلان ہوگا تاکہ پوری طاقت سے ریاست میں قومی تنظیم کو کھڑا کیا جائے اور سبھی طبقات کے لوگوں کو قومی تنظیم میں جگہ دی جائے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 13, 2020 11:54 PM IST