ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا کے خطرات کم ہوتے ہی ہجرت کا دور شروع، روزگارکی تلاش میں جھارکھنڈ کے مزدوروں نے باندھا رخت سفر

کورونا کے خطرات کم ہوتے ہی جھارکھنڈ کے مزدوروں کے ہجرت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ روزگار کی تلاش میں ریاست کے مزدور بیرون ریاست کا رخ کرنے لگے ہیں۔ جھارکھنڈ کے مزدوروں کو اپنے وطن میں ہی روزگار دینے کے تعلق سے محکمہ لیبر کے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ بیرون ریاست کی کمپنیاں بغیر سرکاری ریکارڈ میں انٹری کرائے ہوائی جہاز سے مزدوروں کا ہجرت کرا رہی ہیں۔

  • Share this:
کورونا کے خطرات کم ہوتے ہی ہجرت کا دور شروع، روزگارکی تلاش میں جھارکھنڈ کے مزدوروں نے باندھا رخت سفر
کورونا کے خطرات کم ہوتے ہی ہجرت کا دور شروع، روزگارکی تلاش میں جھارکھنڈ کے مزدوروں نے باندھا رخت سفر- علامتی تصویر ۔ اے پی

رانچی: کورونا کے خطرات کم ہوتے ہی جھارکھنڈ کے مزدوروں کے ہجرت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ روزگار کی تلاش میں ریاست کے مزدور بیرون ریاست کا رخ کرنے لگے ہیں۔ جھارکھنڈ کے مزدوروں کو اپنے وطن میں ہی روزگار دینے کے تعلق سے محکمہ لیبر کے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ بیرون ریاست کی کمپنیاں بغیر سرکاری ریکارڈ میں انٹری کرائے ہوائی جہاز سے مزدوروں کا ہجرت کرا رہی ہیں۔ ہوائی چپل پہن کر ہوائی جہاز کا سفرکرنے والے یہ مزدور کورونا کی وجہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے وطن کا رخ کیا تھا۔ اس وقت ان کی گھر واپسی پر سیاست کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی چھڑی لگ گئی تھی، مگر آج وہی مزدور روزگار کے لئے بیرون ریاست کا رخ کرنے لگے ہیں۔


سب سے خاص بات یہ ہے کہ بیرون ریاست کی کمپنیوں سے ٹھیکہ دار راست طور پر رابطہ کرکے ہوائی جہاز کے ذریعہ مزدوروں کو بھیج رہے ہیں۔ مزدوروں کو موٹی تنخواہ اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ دینے کا دلاسہ دیا جاتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چنئی جیسے بڑے شہروں میں روزگار ملنے کی امید میں سفر پر نکلے ان مزدوروں کا ماننا ہے کہ جس امید سے وہ وطن واپس آئے تھے وہ پورا نہیں ہوا۔ جاوید اختر، صدام انصاری، دشرتھ اور پنکج کمار جیسے مزدوروں کا ماننا ہے کہ اگر انہیں یہیں اپنے وطن میں روزگار مل جاتا تو وہ ہجرت کرنے پر مجبور نہیں ہوتے۔


کورونا کے ماحول میں ریاستی حکومت کے ذریعہ اپنے وطن آنے والے مزدوروں کو روزگار فراہمی کے تعلق سے کئی منصوبے بنائے گئے۔ روزگار سے لے کر ہجرت کرنے والے مزدوروں کا ریکارڈ رکھنے تک کی ذمہ داری محکمہ لیبرکو دی گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بغیر سرکاری ریکارڈ میں درج کرائے مزدوروں کی ہجرت بہت تیزی سے ہورہی ہے۔ اس تعلق سے سوال کے جواب میں وزیر محنت ستیہ نند بھوکتہ نے کہا کہ ویسے لوگ دہلی یا ممبئی کا رخ کر رہے ہیں جن کا وہاں نجی کاروبار یا خاندان ہے۔ کورونا کے ماحول میں ملک کے مختلف شہروں سے تقریباً 7 لاکھ مزدوروں کی وطن واپسی ہوئی تھی۔ یہ مزدور چھوٹے موٹے کام کرکے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہے تھے۔ گھر واپسی کے وقت انہیں روزگار فراہمی کے وعدے بڑے زور و شور سے کئے گئے تھے، لیکن حقیقت کا گواہ ہر دن رانچی کا برسہ منڈا ایئرپورٹ بنتا ہے، جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں مزدور ہجرت کرنے کو مجبور ہیں۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 16, 2020 11:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading