உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین میں بڑھ رہا ہے عدم تحفظ کا احساس، بے معنی ثابت ہو رہے ہیں حکومت کے نعرے اور وعدے

    خواتین میں بڑھ رہا ہے عدم تحفظ کا احساس، بے معنی ثابت ہو رہے ہیں حکومت کے نعرے اور وعدے

    خواتین میں بڑھ رہا ہے عدم تحفظ کا احساس، بے معنی ثابت ہو رہے ہیں حکومت کے نعرے اور وعدے

    معروف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈکی صدر شائستہ عنبرکہتی ہیں کہ آبرو ریزی کی شکایتیں اور بچیوں کا قتل ریاست اتر پردیش میں معمولی بات ہوگئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    لکھنئو: حکومت اترپردیش خواتین پر ہو رہے ظلم وتشدد اورجرائم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوششیں کررہی ہے، لیکن اب ایسا نہیں کرپائے گی، ہم اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے سڑک پر بھی اتریں گے اور عدالت بھی جائیں گے۔ یہ احساس و خیالات ہیں لکھنئو کی مختلف فعال تنظیموں سے وابستہ خواتین اور سماجی اراکین کے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اتر پردیش کا سماجی منظرنامہ بہت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور اب سبھی مذاہب، سبھی تنظیموں اور جماعتوں کے لوگ موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے سر پر کفن باندھنے کو تیارہیں، بے روزگاری، رشوت خوری پولس کے ذریعے ناجائز وصولی اور بے لگام ہوچکے جرائم پیشہ لوگ۔ مسائل بہت سے ہیں، لیکن خواتین اب کھل کر اس احساس کو آشکار کر رہی ہیں کہ یوگی حکومت میں وہ عدم تحفظ کی شکار ہیں۔

    معروف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈکی صدر شائستہ عنبرکہتی ہیں کہ آبروریزی کی شکایتیں اور بچیوں کا قتل ریاست اتر پردیش میں معمولی بات ہوگئی ہے، حکومت کے اشارے اور سیاسی آقاؤں کے حکم پر کام کرنے والی پولس کے پاس انصاف نام کی کوئی چیز نہیں اترپردیش میں پولس کا مطلب اب لوگوں کو انصاف دلانا نہیں بلکہ سرکار کے اشارے پر بے قصور لوگوں کو مجرم بنانا اور اصل مجرموں کو چھپانا ہے۔

    شائستہ عنبر یہ بھی کہتی ہیں کہ ہرمحاذ پرناکام حکومت اپنی ناکامی اور بد عنوانی کو چھپانے کے لئے نہ احتجاج کرنے کی اجازت دیتی ہے نہ آواز بلند کرنے کا حق۔ جو لوگ حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال کے عوام میں دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہاہے، مسلم اور دلت سماج کے لوگوں کو خوف زدہ کرکے آئندہ الیکشن کا میدان تیار کیا جارہاہے۔ اس ملک میں ایک رابعہ نہیں ایسی بہت سی بے گناہ مظلوم لڑکیاں ہیں جن کی آبرو اور زندگی درندگی کا شکار ہوتی ہے اور حکومتیں خاموش تماشائی  بن کر قاتلوں کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔

    معروف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈکی صدر شائستہ عنبرکہتی ہیں کہ آبروریزی کی شکایتیں اور بچیوں کا قتل ریاست اتر پردیش میں معمولی بات ہوگئی ہے
    معروف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈکی صدر شائستہ عنبرکہتی ہیں کہ آبروریزی کی شکایتیں اور بچیوں کا قتل ریاست اتر پردیش میں معمولی بات ہوگئی ہے


    معروف سماجی کارکن روبینہ مرتضیٰ اور طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ یوگی اور مودی راج میں  آئین و قانون کی خاص طور پر ناری سمان کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں یہ ایسی حکومت ہے جسمیں مجرم بے خوف اور معصوم خوف زدہ ہیں وجہ یہ ہے کہ زیادہ مجرمین کو بر سر اقتدار جماعت کی سر پرستی و پشت پناہی حاصل ہے جس پردیش میں ظلم  کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو دہشت گرد بتا کر ان کے پوسٹر اور یارڈنگز لگائے جائیں اور زنا بالجبر  کے مجرمین کو بچانے کی کوششوں میں خود سرکار ملوث ہو وہاں لوگ کیا امید کر سکتے ہے۔ کیسے سکون سے رہ سکتے ہیں۔

    طاہرہ رضوی کہتی ہیں کہ بیٹی پڑھاو بیٹی بچاو کا نعرہ دینے والی سرکار کے دور میں  درندے بیٹیوں کی عزت و عصمت تار تار کرکے فرار ہو جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے لوگ اس پر مذہبی سیاست کررہے ہیں بے ضمیر لوگ بھکتی اور پارٹی کے نام پر تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ آدھی زمین آدھا آسمان، تحریک نسواں، تنظیم خواتین اور ایپوا جیسی اہم تنظیموں سے جڑی خواتین پوری طرح مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ حکومت اور پولس پرسے لوگوں کا یقین اٹھتا جارہا ہے، امن پسند اور سکون و عزت سے رہنے والے خاموش لوگوں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ اگر سب مل کر آواز نہیں اٹھائیں گے تو کمزور آوازیں کچلی جاتی رہیں گی دبائے جاتی رہیں گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: