உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم معاشرے میں طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کا نہیں ہے کوئی منظم انتظام

    مسلم کمیونٹی کو نہ صرف کوالٹی ایجوکیشن سے جوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ اسکولوں میں مسلم طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو ختم کرنے کے لئے منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن آف انڈین مسلمس کے زیر اہتمام بھوپال شاہجہاں آباد میں منعقدہ  سمینار میں ماہرین تعلیم نے کیا۔

    مسلم کمیونٹی کو نہ صرف کوالٹی ایجوکیشن سے جوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ اسکولوں میں مسلم طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو ختم کرنے کے لئے منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن آف انڈین مسلمس کے زیر اہتمام بھوپال شاہجہاں آباد میں منعقدہ سمینار میں ماہرین تعلیم نے کیا۔

    مسلم کمیونٹی کو نہ صرف کوالٹی ایجوکیشن سے جوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ اسکولوں میں مسلم طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو ختم کرنے کے لئے منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن آف انڈین مسلمس کے زیر اہتمام بھوپال شاہجہاں آباد میں منعقدہ سمینار میں ماہرین تعلیم نے کیا۔

    • Share this:
    بھوپال: اسلام میں روز اول سے اقراء کے ذریعہ تعلیم کی تلقین کی توگئی ہے، لیکن  اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک میں جب بھی پسماندہ کمیونٹی کی بات آتی ہے تو مسلمانوں کا نام سر فہرست آتا ہے۔ مسلم کمیونٹی کو نہ صرف کوالٹی ایجوکیشن سے جوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ اسکولوں میں مسلم طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو ختم کرنے کے لئے منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن آف انڈین مسلمس کے زیر اہتمام بھوپال شاہجہاں آباد میں منعقدہ  سمینار میں ماہرین تعلیم نے کیا۔
    بھوپال شاہجہاں آباد میں ایسوسی ایشن آف انڈین مسلم کے سمینار کا انعقاد کاروان تعلیم کی بھوپال آمد کے موقع پر کیا گیا۔ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں نہ صرف بھوپال، مدھیہ پردیش بلکہ ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم نے شرکت کی تھی۔ کاروان تعلیم کے اہم رکن وممتاز ماہر تعلیم پروفیسر عبدالقیوم انصاری کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو تعلیم کے حصول کے مشن کو اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے بچوں سے لے کرسوسائٹی تک جانا ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنے تعلیمی دائرے کو وسیع کرتے ہوئے اپنے سماج کے ہرفرد کو اس سے جوڑنا ہوگا اور ملک گیر سطح پرجہاں پر بھی کمزوری نظر آرہی ہے، وہاں پرتعلیم کو فروغ دینے کے لئے منظم انداز میں کوشش کرنا ہوگا۔ کاروان تعلیم کا ملک کے جن ریاستوں سے بھی گزر ہوا ہے، وہاں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں اور ہم لوگ جو اس تعلیمی کارواں کو نکلے ہیں تو ہم لوگ اپنے ملک کے لوگوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسکولی تعلیم کے معیار کو بلند کیا جائے اور انہیں ایسی تعلیم دی جائے، جس سے وہ اپنی اور ملک کی خدمت کے لئے تیار ہو سکیں۔

    مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں نہ صرف بھوپال، مدھیہ پردیش بلکہ ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم نے شرکت کی تھی۔
    مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں نہ صرف بھوپال، مدھیہ پردیش بلکہ ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم نے شرکت کی تھی۔


    آل انڈیا ایجوکیشن مومنٹ دہلی کے سکریٹری ڈاکٹر محمد الیاس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تعلیم کا حصول صرف روزگار کو سامنے رکھ کر نہیں ہونا چاہیئے۔ بلکہ تعلیم کا حصول انسان کی شخصیت سازی اور باشعور ہونے اور ملک و قوم کی خدمت کے لئے ہونا چاہئے۔ اگر ہم مسلم کمیونٹی کو صرف اتنا سمجھا دیں کہ کیوں پڑھنا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کیسے پڑھنا ہے تو مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور ہو سکتی ہے۔جب ہم اس ملک کا اچھا شہری بننے اور ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار پیش کرنے کا جذبہ رکھیں گے تو منزل ہمارے سامنے ہوگی۔ آپ یہ سمجھ لیجئے کہ ہر شخص اچھی چیز کو گھر لےجانا چاہتا ہے، کباڑے کو کوئی ساتھ نہیں رکھنا چاہتا ہے۔ تو ہماری حیثیت کباڑے کے جیسی ہو رہی ہے۔ہم جب ملک کو دینے والے بنیں گے تو ہر کوئی ہمیں اپنے ساتھ رکھنا چاہے گا۔
    ممتاز ماہر تعلیم ابراہیم انصاری کہتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی کے سامنے طلبا کاڈراپ آؤٹ سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن افسوس کی اس سمٹ لوگوں کی توجہ بہت کم جاتی ہے ۔جب ہمیں ترجیحات کی بنیاد پر طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو ختم کرنےکے لئے منظم طریقے سے کام کرنےکی ضرورت ہے ۔ مسلم طلبا میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے بلکہ انہیں صحیح ڈائریکشن دینے کی ضرورت ہے اور جس دن ہمارے طلبا کو صحیح رہنمائی مل جائے گی تو یقین جانئے اس ملک میں ایک نیا انقلاب آئے گا۔
    وہیں ایسو سی ایشن آف انڈین مسلمس کے روح رواں اویس عرب کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر سمینار کا انعقاد اس لئے کیاگیاتاکہ ماہرین تعلیم کی مشوروں کی روشنی میں ایک خاکہ تیار کرکے کام کیا جاسکے ۔خدا کا شکرہے کہ ماہرین تعلیم اور تعلیمی کارواں کے ذمہ داران نے بہت مفید مشورے دئے ہیں جن کی روشنی میں کام کرکے نہ صرف مسلم طلبا کے ڈراپ آؤٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ تعلیمی مسائل کے حل کے لئے جگہ جگہ پر تحریک بھی چلائی جائے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: