ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

حج 2021 کو لے کر بہار میں نہیں ہے کوئی جوش و خروش، آخری تاریخ میں محض ایک روز باقی، اب تک صرف 1200 فارم ہوئے جمع

فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں محض ایک روز باقی ہے اور 9 دسمبر تک محض ایک ہزار دو سو نو (1209) لوگوں نے ہی حج کا فارم بھرا ہے جبکہ بہار میں حج کا کوٹہ بارہ ہزار چھ سو (12600) ہے۔ حج کمیٹی نے حج فارم بھرنے کی تاریخ میں توسیع کرنے کی مرکزی حج کمیٹی سے اپیل کی ہے۔

  • Share this:
حج 2021 کو لے کر بہار میں نہیں ہے کوئی جوش و خروش، آخری تاریخ میں محض ایک روز باقی، اب تک صرف 1200 فارم ہوئے جمع
حج 2021 کو لے کر بہار میں نہیں ہے کوئی جوش و خروش، آخری تاریخ میں محض ایک روز باقی، اب تک صرف 1200 فارم ہوئے جمع

پٹنہ: ہندوستان سے اس سال پچاس ہزار عازمین کو حج کرنے کی اجازت دی گئ ہے۔ اس میں 35 ہزار عازمین، صوبائی حج کمیٹیوں سے اور 15 ہزار عازمین پرائویٹ ٹور آپریٹر کے ذریعہ حج کے مقدس سفر پر روانہ ہوں گے۔ 18 سال سے کم اور 65 سال سے زیادہ عمر والے لوگوں کو اس بار حج کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ کورونا کا قہر حج جیسے مقدس عبادت پرخاص طور سے پڑا ہے۔ بہار حج کمیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ قریب تین ہزار لوگ اس سال بہار سے حج کے سفر پر روانہ ہوسکتے ہیں، لیکن حج فارم بھرنے والے لوگوں کی تعداد کو دیکھ کر حج کمیٹی کے ذمہ داروں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔


فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں محض ایک روز باقی ہے اور 9 دسمبر تک محض ایک ہزار دو سو نو (1209) لوگوں نے ہی حج کا فارم بھرا ہے جبکہ بہار میں حج کا کوٹہ بارہ ہزار چھ سو (12600) ہے۔ حج کمیٹی نے حج فارم بھرنے کی تاریخ میں توسیع کرنے کی مرکزی حج کمیٹی سے اپیل کی ہے۔ حج کمیٹی کے سی ای او محمد راشد حسین کے مطابق اس سال مشکل سے بہار سے دو ہزار لوگ حج کرنے جا سکیں گے۔ اگر تاریخ میں توسیع کی جاتی ہے، تب جاکر کچھ تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ پٹنہ کے حج بھون میں حج فارم بھرنے والے لوگوں کا قافلہ پہنچا کرتا تھا، لیکن کورونا کے سبب جہاں گزشتہ سال عازمین، حج کرنے سے قاصر رہ گئے تھے۔ وہیں اس سال حج کو لے کر لوگوں میں کسی طرح کا جوش دکھائی نہیں دے رہا ہے۔


جانکاروں کے مطابق یہ اندیشہ ہے کہ اس سال حج مزید مہنگا ہوگا۔ یہ کہا جارہا ہے کہ ایک فرد پر پانچ لاکھ روپئے کا خرچ ہو سکتا ہے۔ حج مہنگا ہونا، کورونا اور لاک ڈاؤن جیسے معاملے کو لے کر لوگ پریشان ہیں۔ وہیں بےروزگاری، تجارت کی بدحالی اور کورونا کا خوف کہیں نہ کہیں حج کے راستہ کی بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ جانکاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس تعلق سے مرکزی حکومت کا رویہ بھی بہت مثبت نہیں ہے۔ اب تک حج کے اخراجات کو واضح نہیں کیا گیا ہے۔ وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم لوگ حج کرنے جائیں گے، ایسے میں اخراجات کم ہونے کے بجائے مہنگا ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ عازمین حج ان تمام باتوں کو لے کر پوری طرح سے الجھن کے شکار ہیں، لیکن ان کی الجھن کو دور کرنے کی پہل نہیں کی جارہی ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 09, 2020 11:47 PM IST