ہریانہ اسمبلی انتخابات نتائج : ان 8 ممبران اسمبلی کے پاس ہے اقتدار کی کنجی ، وزیراعظم مودی نے یوں ہی نہیں کہی یہ بڑی بات ! ۔

ہریانہ میں بی جے پی نے 2014 سے کم سیٹیں جیتی ہیں ۔ وہ مطلوبہ تعداد سے دور ہے ، پھر بھی پارٹی اعلی قیادت حکومت سازی کا دعوی کررہی ہے ۔

Oct 24, 2019 10:57 PM IST | Updated on: Oct 25, 2019 12:01 AM IST
ہریانہ اسمبلی انتخابات نتائج : ان 8 ممبران اسمبلی کے پاس ہے اقتدار کی کنجی ، وزیراعظم مودی نے یوں ہی نہیں کہی یہ بڑی بات ! ۔

علامتی تصویر

ہریانہ میں بی جے پی نے 2014 سے کم سیٹیں جیتی ہیں ۔ وہ مطلوبہ تعداد سے دور ہے ، پھر بھی پارٹی اعلی قیادت حکومت سازی کا دعوی کررہی ہے ۔ مگر بی جے پی کی حکومت بنانے کو لے کر وزیر اعظم مودی اور پارٹی کے صدر امت شاہ یونہی پراعتماد نہیں ہیں ، بلکہ جو سات آزاد امیدوار منتخب ہوکر آئے ہیں ، ان میں سے پانچ بی جے پی کے باغی ہی ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ ان سبھی کو فون کرکے حکومت میں عہدہ اور عزت دینے کی بات کہہ کر منالیا گیا ہے ۔ یہ ممبران اسمبلی دہلی بلائے گئے ہیں ۔ گوپال کانڈا بھی بی جے پی کی حمایت میں چلے گئے ہیں ۔ ایسے میں حکومت بنانے کیلئے درکار 46 سیٹیں پارٹی کو حاصل ہوجائیں گی ۔

ہریانہ اسبملی انتخابات کے نتائج سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کسی کو اکثریت نہیں ملی ہے ۔ ایسے میں سات آزاد ممبران اسمبلی اور گوپال کانڈا کی تو جیسے قسمت ہی کھل گئی ۔ اب یہ لوگ اپنی شرطوں پر بی جے پی کو حمایت دیں گے ، جس کی وجہ سے بی جے پی کے لیڈروں کے وزیر بننے کا خواب ادھورا رہنے والا ہے ۔

Loading...

ہریانہ کی سیاست کے تین بڑے چہرے ہریانہ کی سیاست کے تین بڑے چہرے

بی جے پی کے جو باغی لیڈر آزاد امیدوار کے طور پر فاتح ہوئے ہیں ، ان میں پونڈری سے رندھیر سنگھ گولین ،  دادری سے سومویر ، مہم سے بلراج کنڈو ، نیلوکھیڑی ( ریزرو ) سے دھرمپال اور پرتھلا سے نین پال راوت شامل ہیں ۔ گولین بی جے پی کے سابق امیدوار وہ چکے ہیں ۔ ان سبھی نے ٹکٹوں کی تقسیم سے مایوس ہوکر بی جے پی کے خلاف میدان میں اتر کر لڑائی لڑی اور جیت کر یہ ثابت بھی کردیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں کہیں نہ کہیں بی جے پی لیڈروں سے غلطی ہوئی ۔ علاوہ ازیں گوپال کانڈا نے بھی بی جے پی کو حمایت دیدی ہے ۔

جن دیگر لیڈروں نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے ، ان میں گروگرام کی بادشاہ پور سیٹ سے راکیش دولت آباد اور رانیا سے رنجیت سنگھ شامل ہیں ۔ بادشاہ پور سے بی جے پی نے اپنے وزیر راو نربیر سنگھ کو ٹکٹ دیا تھا ۔

اب بی جے پی کو شاید دشینت چوٹالہ کی ضرورت نہ پڑے ۔ اب بی جے پی کو شاید دشینت چوٹالہ کی ضرورت نہ پڑے ۔

سینئر صحافی نوین دھمیجا کا کہنا ہے کہ کھٹر حکومت کے چھ وزیر اور پارٹی کے ریاستی صدر الیکشن ہار گئے ہیں ، اس لئے اب بی جے پی پر کافی دباو رہے گا ۔ منوہر لال کھٹر وزیر اعلی بن جائیں گے ، کیونکہ وہ وزیر اعظم مودی کی پسند ہیں ، لیکن وہ شاید پہلے کی طرح کام نہ کرپائیں ۔ وہ اپنے رویہ میں شاید نرمی لائیں گے ۔ ممبران اسمبلی ، وزرا اور ممبران پارلیمنٹ کا کام کریں گے ۔ دراصل اب ان کی حکومت پر نہ صرف کانگریس اور جے جے پی کا دباو رہے گا بلکہ اپنوں کا بھی دباو کچھ کم نہیں ہوگا ۔

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com