ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

اکتوبر تک پھر ملک کو دہلائے گی کورونا کی ایک اور لہر! جانئے کیا کہتے ہیں 40 ایکسپرٹس

اس اوپینین پول کے مطابق تقریبا 85 فیصد ایکسپرٹس (Medical Experts) کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تیسری لہر اکتوبر مہینے تک آسکتی ہے ۔ کچھ نے ستمبر اور اگست مہینے میں بھی تیسری لہر کا قہر شروع ہونے کی بات کہی ہے ۔ حالانکہ تقریبا 70 فیصدی ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ دوسری لہر کے مقابلہ میں تیسری لہر کا سامنا ہندوستان موثر طریقہ سے کرپائے گا ۔

  • Share this:
اکتوبر تک پھر ملک کو دہلائے گی کورونا کی ایک اور لہر! جانئے کیا کہتے ہیں 40 ایکسپرٹس
اکتوبر تک پھر ملک کو دہلائے گی کورونا کی ایک اور لہر! جانئے کیا کہتے ہیں 40 ایکسپرٹس

بنگلورو : کورونا وائرس کی دوسری لہر نے جس طرح سے ملک میں تباہی مچائی ہے ، اس کے بعد مسلسل تیسری لہر کو لے کر اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ سرکار کے چیف سائنٹفک ایڈوائزر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ تیسری لہر ضرور آئے گی ، لیکن اس بات پر ابھی ریسرچ جاری ہے کہ تیسری لہر کتنی خطرناک ہوگی ۔ اب نیوز ایجنسی رائٹرس نے دنیا بھر کے تقریبا 40 ایکسپرٹس سے اس معاملہ پر رائے شماری کی ہے ۔


اس اوپینین پول کے مطابق تقریبا 85 فیصد ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تیسری لہر اکتوبر مہینے تک آسکتی ہے ۔ کچھ نے ستمبر اور اگست مہینے میں بھی تیسری لہر کا قہر شروع ہونے کی بات کہی ہے ۔ حالانکہ تقریبا 70 فیصدی ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ دوسری لہر کے مقابلہ میں تیسری لہر کا سامنا ہندوستان موثر طریقہ سے کرپائے گا ۔


ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ تیسری لہر قابو میں ہوسکتی ہے ، کیونکہ تب تک ویکسینیشن کا دائرہ کافی بڑھ چکا ہوگا ۔ دوسری لہر کے مقابلہ میں اس وقت تک ملک میں بڑی تعداد میں لوگوں کو کورونا کا ٹیکہ مل جائے گا ۔


بچوں پر ہوسکتا ہے اثر ، دوتہائی ایکسپرٹس اس بات سے متفق

تیسری لہر کیلئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس میں بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہوگا ۔ اس بات سے تقریبا دو تہائی ایکسپرٹس نے اتفاق ظاہر کیا ہے ۔ ایک ایکسپرٹ نے کہا کہ 18 سے کم عمر کے بچوں میں خطرہ اس لئے زیادہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ابھی ان کیلئے ویکسین پر ریسرچ جاری ہے ۔

اس سے پہلے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ایمس نے اپنے سیرو پریویلینس سروے میں کہا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر کا اثر بالغوں کے مقابلہ بچوں پر بہت زیادہ نہیں ہوگا ۔ نئی اسٹڈی میں ڈبلیو ایچ او اور ایمس نے الگ دعوے کئے ہیں ۔ سروے کے مطابق بالغوں کے مقابلہ میں بچوں میں سیرو پازیٹیویٹی ریٹ کافی زیادہ ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 18, 2021 05:18 PM IST