ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا ویکسین کے تیسرے ڈوز کی بھی پڑے گی ضرورت! جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین

ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا (Randeep Guleria) نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا ہے کہ تیسرے ڈوز کی ضرورت اہم طور سے دو باتوں پر منحصر ہوگی ۔ پہلی کہ ویکسین کے دونوں ڈوز سے ملنے والی امیونٹی کتنے دنوں تک رہتی ہیں ۔ دوسری اگر نئے ویریئنٹس سامنے آتے ہیں ، تو ویکیسن کی ایفیکیسی کی بنیاد پر تیسری ڈوز دی جاسکتی ہے ۔

  • Share this:
کورونا ویکسین کے تیسرے ڈوز کی بھی پڑے گی ضرورت! جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین
ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا (Randeep Guleria) نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا ہے کہ تیسرے ڈوز کی ضرورت اہم طور سے دو باتوں پر منحصر ہوگی ۔ پہلی کہ ویکسین کے دونوں ڈوز سے ملنے والی امیونٹی کتنے دنوں تک رہتی ہیں ۔ دوسری اگر نئے ویریئنٹس سامنے آتے ہیں ، تو ویکیسن کی ایفیکیسی کی بنیاد پر تیسری ڈوز دی جاسکتی ہے ۔

نئی دہلی : کورونا وائرس کی دوسری لہر کے درمیان یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا مستقبل میں ویکسین کا تیسرا بوسٹر ڈوز بھی لینا پڑے گا ؟ ملک کے مشہور ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کورونا وائرس وبا سے بچنے کیلئے لوگوں کو ویکسین کا تیسرا ڈوز بھی لینا پڑسکتا ہے ، لیکن اس کے اثر کو لے کر ابھی کافی ڈیٹا موجود نہیں ہے ۔


ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ تیسرے ڈوز کی ضرورت اہم طور سے دو باتوں پر منحصر ہوگی ۔ پہلی کہ ویکسین کے دونوں ڈوز سے ملنے والی امیونٹی کتنے دنوں تک رہتی ہیں ۔ دوسری اگر نئے ویریئنٹس سامنے آتے ہیں تو ویکیسن کی ایفیکیسی کی بنیاد پر تیسری ڈوز دی جاسکتی ہے ۔ ملک کی نیشنل کووڈ ٹاسک فورس کے رکن گلیریا کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کوئی یقینی ڈیٹا نہیں ہے ، لیکن امکان ہے کہ مستقبل میں تیسری ڈوز بھی لینی پڑے ۔ ضروری نہیں ہے کہ فورا لیکن کچھ وقت کے بعد ۔


کب تک دوسری لہر ہوگی ختم


دوسری لہر کا خاتمہ کب تک ہوگا ؟ اس سوال پر گلیریا نے کہا کہ وبا مغرب سے مشرق کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ اب ملک کے مغربی حصوں میں نئے معاملات میں استحکام آنے لگا ہے اور ممکن ہے کہ یہ کم ہوتے چلے جائیں ۔ وسطی ہندوستان میں اب بھی تیزی سے کیسز سامنے آرہے ہیں ، لیکن مجھے امید ہے کہ اس مہینے کے آخر تک معاملات کم ہونے شروع جائیں گے ۔

حالانکہ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کے مشرقی حصوں میں معاملات میں اضافہ درج کیا جاسکتا ہے ۔ گلیریا نے کہا کہ ہم اگلے ایک دو مہینے میں وبا کو بالکل کم ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہندوستان زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ویکسینیشن میں کامیاب رہا اور لوگوں نے کورونا پروٹوکال کو ٹھیک طریقہ سے اپنایا تو تیسری لہر کا اثر کم رہ سکتا ہے ۔

بچوں کے ویکسینیشن کو لے کر انہوں نے کہا کہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ بچے نازک ہوتے ہیں ۔ ایسی بات چیت چل رہی ہے کہ اگر اگلی لہر آئی تو بچے اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔ یہ ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے کہ ہم بچوں کو بچانے کیلئے کوششوں پر زور دیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 12, 2021 08:23 PM IST