ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

نامور صحافی اور مصنفہ رعنا ایوب کوجان سے مارنے اور آبروریزی کی دھمکی

نامورصحافی اورمصنفہ رعناایوب کواپنے سوشل میڈیااکاؤنٹ پر کشمیر کے تعلق سے تصاویر اپ لوڈ کرنے اورتبصرہ کرنے پرآج یہاں جان سے مارنے اور عصمت دری کئے جانے کی دھمکی موصول ہوئی ہے، جس پر ممبئی سے متصلہ نئی ممبئی کے کو پرکھیر نے پولیس اسٹیشن نے تحقیقات شروع کردی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 03, 2020 10:24 PM IST
  • Share this:
نامور صحافی اور مصنفہ رعنا ایوب کوجان سے مارنے اور آبروریزی کی دھمکی
نامور صحافی اور مصنفہ رعنا ایوب کوجان سے مارنے اور آبروریزی کی دھمکی

ممبئی: نامورصحافی اورمصنفہ رعناایوب کواپنے سوشل میڈیااکاؤنٹ پر کشمیرکے تعلق سے تصاویر اپ لوڈ کرنے اورتبصرہ کرنے پرآج یہاں جان سے مارنے اور عصمت دری کئے جانے کی دھمکی موصول ہوئی ہے، جس پر ممبئی سے متصلہ نئی ممبئی کے کوپرکھیرنے پولیس اسٹیشن نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ دنوں سوشل میڈیاپرکشمیر میں ایک تین سالہ بچے کواپنے ناناکی لاش کے بازومیں بیٹھے ہوئے دکھلائی جانے والی تصویر وائرل ہوئی تھی جس پر رعناایوب نے تبصرہ کیا تھا۔رعنا ایوب نےاپنے تبصرے میں لکھاتھاکہ ہندوستان میں کشمیریوں کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔صحافی رعناایوب اپنے دوسرے ٹوئیٹر پیغام میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر کی سرزمین کی فکر ہے لیکن ہمارے دلوں میں کشمیریوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ نیز وادی کشمیر میں ہونے والی اس قتل وغارتگری پر کسی کوافسوس نہیں ہے ۔رعناایوب نے مزید لکھاتھاکہ ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے ان کاسران تمام چیزوں کودیکھ کرشرم سے جھک جاتاہے ۔رعناایوب کے اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیامیں انھیں مغلظات سے نوازاجانے لگا۔جس کااسکرین شاٹ اتارکر رعناایوب نے نئی ممبئی پولیس کے حوالے کیا ہے, جس میں انھیں جان سے مارنے کی اور عصمت دری کئے جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔



رعنا ایوب نے جب اس کی شکایت نئی ممبئی پولیس کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر کی تومقامی کوپرکھیرنے پولیس اسٹیشن کے ایک افسرنے ان کے گھر آکران سے ملاقات کی اوران سے پوچھ تاچھ کی ہے ۔رعناایوب نے بتایاکہ کل وہ اس ضمن میں پولیس کواپنابیان دیں گی اوراپنے سوشل میڈیااکاؤنٹ ،فیس بک،ٹوئیٹر اور انسٹاگرام پر موصول ہونے والی ان دھمکیوں کی نقول بھی بطورثبوت پیش کریں گی۔ رعنا ایوب کو۲۰۲۰کے میک گل نامی عظیم ایوارڈسے نوازاگیاتھا۔انھوں نے گجرات ۲۰۰۲مسلم کش فسادات کی اور پولیس کی جانب سے کئے جانے والے انکاؤنٹر کی تحقیقاتی رپورٹ کتاب کی شکل میں شائع کی تھی جس کی قومی سطح پر تشہیر ہوئی تھی۔

First published: Jul 03, 2020 10:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading