جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اکادمی برائے اردو اساتذہ کا سہ روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر

پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ تدریس کا پیشہ عبادت کی طرح ہے ۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ خلوص ، محبت اور گہرے انہماک سے اس فریضے کو انجام دیں۔

Sep 15, 2019 09:48 PM IST | Updated on: Sep 15, 2019 09:48 PM IST
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اکادمی برائے اردو اساتذہ کا سہ روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اکادمی برائے اردو اساتذہ کا سہ روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر

اکادمی برائے فروغِ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی گذشتہ دس برسوں سے اسکولوں کے اردو اساتذہ کی تربیت کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔اسی سلسلے کو فروغ دیتے ہوئے اکادمی برائے فروغِ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام بہ اشتراک اردواکادمی، دہلی سہ رزہ تربیتی پروگرام برائے اساتذہ اردو خواندگی مراکز کا انعقاد کیاگیا۔13 ستمبر تا 15 ستمبر 2019 چلنے والے اس تربیتی پروگرام میں اردو رسم خط کی تدریس،منصوبۂ سبق کی اہمیت،تاریخ ِزبانِ اردو کاتعارف،افسانوی ادب کا تعارف،تدریس اور تربیت کی مبادیات، روزمرہ ،محاورہ ، کہاوت ،ضرب المثل اور شاعری کی تدریس کے موضوعات پر لیکچر ہوئے۔ پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر عبد الرشید ،ڈاکٹر شعیب رضا خان، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر حنا آفریں اور ڈاکٹر نوشاد عالم نے مذکورہ موضوعات پر لیکچر دیے۔

پروگرام کے افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر شہزاد انجم، صدر شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔انھوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ تدریس کا پیشہ عبادت کی طرح ہے ۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ خلوص ، محبت اور گہرے انہماک سے اس فریضے کو انجام دیں۔صدر جلسہ پروفیسر شہزاد انجم نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بنیاد گزار اساتذہ کے حوالے سے تدریسی پیشے کے تقدس اور تقاضوں پر بھر پور روشنی ڈالی ۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر وہاج الدین علوی سابق ڈین، فیکلٹی آف ہیومنیٹیز اینڈ لینگوجیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تعلیم اور تدریس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور فکری تربیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ نفس کے تزکیہ کے بغیر علم کے مثبت نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

دوسرے مہمانِ خصوصی پروفیسر شہپر رسول، وائس چیئر مین اردو اکادمی دہلی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کتابیں محض تدریس کا وسیلہ ہیں ۔ بنیادی حیثیت اساتذہ کے تجربے اور غور و خوض کو حاصل ہے۔ دورانِ تدریس وہ باتیں جو تجربے اور غور و خوض کے نتیجے میں اساتذہ کی زبان سے ادا ہوتی ہیں وہ درسی کتابوں سے حاصل نہیں ہو سکتیں ۔

پروگرام کے آخری دن شرکا کی نمائندگی کرتے ہوئے ناظمہ پروین اور رضوان احمد نے اپنے تاثرات پیش کیے۔انھوں نے پروگرام کے تعلق سے اطمینان اور خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ تمام شرکا اس پروگرام سے بہت مستفیض ہوئے۔انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اور بھی پروگرام منعقد ہونے چاہئیں تاکہ ان کی تدریسی صلاحیت میں نکھار پیدا ہوسکے۔پروگرام کوآرڈی نیٹر نے پروگرام کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ اس موقع پر شرکا کو اسناد کے ساتھ ساتھ اکادمی برائے اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رسالہ ’تدریس نامہ‘ کے تین شمارے بھی دیے گئے۔

Loading...

Loading...