ہوم » نیوز » وطن نامہ

جموں وکشمیر: حکومت نے ان تین سیاسی لیڈروں کو کیا رہا، امن بنائے رکھنے کا دینا پڑا حلف نامہ

جموں وکشمیر میں 5 اگست کوحراست میں لئے گئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سابق ایم ایل اے یاورمیرسمیت تین سیاست دانوں کو جمعرات کو رہا کردیا گیا۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: حکومت نے ان تین سیاسی لیڈروں کو کیا رہا، امن بنائے رکھنے کا دینا پڑا حلف نامہ
فائل فوٹو

جموں وکشمیر میں 5 اگست کوحراست میں لئے گئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سابق ایم ایل اے یاورمیرسمیت تین سیاست دانوں کو جمعرات کو رہا کردیا گیا۔مرکزی حکومت نے 5 اگست کو ریاست کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹادیا تھا اوراس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یاورمیر، بارمولہ ضلع کے سابق کانگریس صدرشعیب اورنیشنل کانفرنس کے لیڈرنور محمد کوآج رہا کردیا گیا۔

حکام کا کہناہے کہ ’’ان لیڈروں سے وادی کے امن اورہم آہنگی خراب نہیں کرنے کے لئے دستاویزوں پر دستخط لئے گئے ہیں۔‘‘انتظامیہ نے اس سے پہلے کشمی کے تین سیاس لیڈروں کو رہا کیاتھا، جن میں پیپلز کانفرنس کے لیڈراورسابق وزیرعمران رضا انصاری، نیشنل کانفرنس کے لیڈرسید اخون اور پی ڈی پی لیڈر خورشید عالم شامل تھے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو خصوصی ریاست کا درجہ ہٹائے جانے کے بعد سے سیاست دانوں، کارکنوں، علیحدگی پسندوں اورٹریڈ یونینوں کے لیڈروں سمیت ہزار سے زیادہ لوگوں کوقانون وانصرام کی صورت حال قائم رکھنے کے لئے حراست میں لیا گیا۔ گزشتہ 5 اگست سے تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کو حراست میں لیا گیا تھا۔

گزشتہ مہینے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیاتھا جبکہ عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کوریاست کے مختلف گیسٹ ہاؤسوں میں بند رکھا گیا تھا۔اس دوران گزشتہ ہفتہ جموں کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے زیادہ ترلیڈروں کوگزشتہ ہفتہ نظربندی سے رہا کردیا گیا تھا۔ بعد میں جموں سے نیشنل کانفرنس کے لیڈروں کی قیادت میں ایک وفد نے سری نگرمیں اپنے پارٹی لیڈروں ڈاکٹرعبداللہ اورعمرعبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

First published: Oct 10, 2019 09:14 PM IST