ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوگی حکومت کےمتنازع آرڈینینس کے خلاف قانونی جنگ ہوئی تیز ، الہ آباد ہائی کورٹ میں تین عرضیاں داخل

مشہور قانون داں اور سپریم کورٹ کے وکیل کولن گنسالوے کا کہنا ہے کہ عدالت میں یوگی حکومت کا آرڈینینس مسترد ہو جائے گا ۔

  • Share this:
یوگی حکومت کےمتنازع  آرڈینینس کے خلاف قانونی جنگ ہوئی تیز ، الہ آباد ہائی کورٹ میں تین عرضیاں داخل
یوگی حکومت کےمتنازع آرڈینینس کے خلاف قانونی جنگ ہوئی تیز ، الہ آباد ہائی کورٹ میں تین عرضیاں داخل

الہ آباد : عوامی مظاہروں کے دوران سر کاری اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچانے والوں سے ہرجانہ وصولی کرنے سے متعلق یوگی حکومت کے متنازع آرڈینینس کے خلاف اب قانونی لڑائی تیز ہو گئی ہے ۔ اس آرڈینینس کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں اب تک تین عرضیاں داخل ہو چکی ہیں ۔ ہائی کورٹ نے تینوں عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے 25 مارچ تک جواب طلب کیا ہے ۔ آرڈینینس کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے والے قانون دانوں کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت کا آر ڈینینس آئین کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ آرڈینینس عدالت کے ذریعے کالعدم ہو جائے گا ۔ خیال رہے کہ گزشتہ 15 مارچ کو یوگی حکومت نے اپنا متنازعہ آر ڈینینس جاری کیا تھا ۔


اس آرڈینینس کے تحت عوامی مظاہروں کے دوران سرکاری اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچانے والے افراد سے ہرجانہ وصول کرنے کا ضابطہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اس آرڈینینس کے جاری ہوتے ہی سماج کے مختلف حلقوں سے اس کی مخالفت شروع ہو گئی ۔ قانون دانوں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد نے اس آرڈیننس کو ملک کے آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بتایا ۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں یوگی حکومت کے جاری کردہ آرڈینینس کے خلاف اب تک تین عرضیاں داخل کی گئی ہے ۔


مشہور قانون داں اور سپریم کورٹ کے وکیل کولن گنسالوے کا کہنا ہے کہ عدالت میں یوگی حکومت کا آرڈینینس مسترد ہو جائے گا ۔ قانون دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لکھنؤ میں معزز شہریوں کے خلاف یوگی حکومت نے جو پوسٹر لگائے ہیں ، اس کو قانونی جواز دینے کیلئے یہ آرڈینینس لایا گیا ہے ۔ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والے معزز شہریوں سے ہرجانہ وصول کرنے کیلئے یوگی حکومت نے لکھنؤ کے چوراہوں پر پوسٹر لگائے ہیں ۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ پہلے ہی اپنا فیصلہ دے چکا ہے ۔ آرڈیننس کے خلاف داخل عرضیوں کی سماعت 27 مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوگی ۔ فی الحال الہ آباد ہائی کورٹ نے پہلی سماعت کے بعد ہی یوگی حکومت سے اس معاملہ میں جواب طلب کر لیا ہے ۔

First published: Mar 20, 2020 10:57 PM IST