وزیراعظم مودی نے آب و ہوا کی تبدیلی پرکہا-بات چیت کا وقت ختم ہوچکا ہے، اب دنیا کوکرنا ہوگا کام

وزیراعظم مودی نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق اجلاس سے خطاب کیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ہم نے ماحولیات کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

Sep 23, 2019 09:01 PM IST | Updated on: Sep 23, 2019 10:31 PM IST
وزیراعظم مودی نے آب و ہوا کی تبدیلی پرکہا-بات چیت کا وقت ختم ہوچکا ہے، اب دنیا کوکرنا ہوگا کام

پی ایم مودی نے آب و ہوا کی تبدیلی پرکہا-بات چیت کا وقت ختم ہوچکا ہے، اب دنیا کوکرنا ہوگا کام۔(تصویر:نیوز18)۔

وزیراعظم نریندرمودی نےماحولیاتی (موسمیاتی) تبدیلی (کلائیمیٹ چینج)کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر جدوجہد کوناکافی قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس سمت میں فوری طور پرٹھوس قدم اٹھانے اورانسانی برتاؤ کو بدلنے کی غرض سے عالمی سطح پر تحریک شروع کرنے ضرورت ہے۔ پی ایم نے منعقد ماحولیاتی تبدیلی پراقوام متحدہ کی جانب سےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے اس طرح کے قدم نہیں اٹھائے گئے جن کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی وژن، تعلیم، فلسفے اور برتاؤ میں تبدیلی لانے کے لیے ایک عالمی سطح پر تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ایم مودی نےکہاکہ رواں برس یوم آزادی کے موقع پر ہم نے ایک بار استعمال کیے جانے والے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ اس سے ایک بار استعمال کیے جانے والے پلاسٹ کے تئیں پوری دنیا میں بیداری پیدا ہوگی۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ کئی طرح کے قدرتی آفات کے اندیشے کے پیش نظر ہم نے بنیادی ڈھانچے اور سہولتیں مہیا کروائی ہیں۔

سنگل یوزڈ پلاسٹک کے خلاف مہم: وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان سنگل یوزڈ پلاسٹک کے خلاف مہم چلائی۔وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے واٹر لائف مشن شروع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سولر پینل کو فروغ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان موسمیاتی تبدیلیوں پرسنجیدہ کوششیں کررہا ہے۔  

پی ایم مودی کہا کہ لالچ نہیں بلکہ ضرورت کی تکمیل ہمارا رہنما نظریہ ہونا چاہیے۔ ہندوستان اسی نقطہ نظر کے ساتھ عملی فکراور روڈمیپ لے کر آیا۔ ہم ہندوستان کے ایندھن کی صنعت میں نان فوسیل فیول(بایو ایندھن)کی مقدار میں اضافہ کر رہے ہیں۔ توانائی کی جدیدکاری میں ہم نے 175 گیگاواٹ کی پیداوار کا ہدف رکھا ہے اور آگے ہم اسے 450 گیگا واٹ تک لے جائیں گے۔ ہندوستان میں ای موبیلیٹی کو فروغ دیا جارہا ہے ،پٹرول اورا ڈیزل میں بایوفیول کی ملاوٹ کی جارہی ہے۔ تقریباً 11.5 کروڑ افرادکو رسوئی گیس کے کنیکشن دیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے  کہا کہ ہندوستان میں آبی تحفظ(واٹر کنزرویشن)کے لیے ’مشن جل جیون‘کا آغاز کیا گیا ہے۔ اگلے سال ہندوستان اس پر پانچ کروڑ ڈالر خرچ کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کوشاں ہے۔ تقریباً 80 ممالک نے انٹرنیشنل سولرالائنس کی ہماری پہل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان ،سویڈن اور دیگر ممدومعاون کے ساتھ مل کر انڈسٹری ٹرانزیشن ٹریک لانچ کررہا ہے۔پی ایم مودی نے کہا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کہ منگل کے روز ہم اقوام متحدہ کی عمارت پر ہندوستان کی جانب سے نصب کیے گئے سولر پینل کا افتتاح کریں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کے تئیں باتیں بہت ہوچکی ہیں اب کاروائی کرنے کا وقت ہے۔

Loading...