ایک سلطان جس نے ملک کو سکھایا راکٹ سائنس اور کہلائے پہلے میزائل مین

ہندوستان میں 16 ویں صدی کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی شبیہ کو لے کر کافی کچھ غلط فہمیاں پھیلائی جاتی رہی ہیں ۔

May 04, 2017 08:48 AM IST | Updated on: May 04, 2017 08:48 AM IST
ایک سلطان جس نے ملک کو سکھایا راکٹ سائنس اور کہلائے پہلے میزائل مین

ہندوستان میں 16 ویں صدی کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی شبیہ کو لے کر کافی کچھ غلط فہمیاں پھیلائی جاتی رہی ہیں ۔ جہاں ایک طرف ان کو جانباز سپاہی اور عظیم حکمران بتایا جاتا ہے وہیں کچھ لوگ انہیں فرقہ وارانہ نظر سے بھی دیکھتے ہیں ، لیکن ان کی ایک شبیہ پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے اور وہ ہے میزائل مین کی شبیہ ۔

ٹیپو سلطان نے اپنے اقتدار میں ایک ایسا تجربہ کیا ، جو انہیں تاریخ میں مضبوط مقام دیتا ہے ۔ ٹیپو سلطان نے جنگ کے دوران چھوٹے چھوٹے راکٹ کا استعمال کیا تھا ۔ دنیا میں وہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا ، اس لئے انہیں نے دنیا کا پہلا میزائل مین بھی کہا جاتا ہے۔

Loading...

بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق جنوب میں ریاست کی توسیع کے دور میں ٹیپو سلطان اور ان کے باپ نے جنگ میں راکٹ ٹیکنالوجی کا جم کر استعمال کیا۔  دشمن کی فوج کو نقصان پہنچانے میں تو راکٹ زیادہ کارگر نہیں تھے لیکن کھلبلی ضرور مچا دیتے تھے ۔ اس دور میں ٹیپو کی فوج جن راکٹ کا استعمال کرتی تھی ، وہ چھوٹے اور اچوک نشانہ لگاتے تھے ۔ ان راکٹوں کو شروع کرنے کے لئے لوہے کی نلی کا استعمال کیا جاتا تھا۔

مورخین کے مطابق پوللور کی لڑائی میں انہی راکٹوں کے استعمال نے پورا کھیل ہی بدل کر رکھ دیا تھا ۔ اس سے ٹیپو کی فوج کو کافی فائدہ ہوا تھا ۔

انگریزوں کے خلاف پوللور کی لڑائی میں جب انہوں نے راکٹ کا استعمال کیا تو وہ حیران رہ گئے ۔ اسی راکٹ کی تکنیک کا استعمال انہوں نے شہنشاہ نپولین کے خلاف کیا تھا ۔ مورخین کے مطابق یہ استعمال انہیں زیادہ فائدہ نہیں دلا سکا ، کیونکہ وہ قلعہ کو بھید نہیں سکے تھے۔

Tipu Sultan

بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق ہندوستان کے سابق صدر اور میزائل مین اے پی جے عبدالکلام نے اپنی کتاب 'ونگس آف فائر' میں لکھا ہے کہ میں نے لندن کے سائنس میوزیم میں ٹیپو سلطان کے کچھ راکٹ دیکھے ، یہ ان راکٹ میں سے تھے جنہیں انگریز اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

یہ دیوالی والے راکٹ سے تھوڑے ہی لمبے ہوتے تھے ، ٹیپو کے یہ راکٹ اس معنی میں انقلابی کہے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے مستقبل میں راکٹ بنانے کی بنیاد رکھی تھی ۔

عبدالکلام نے کتاب میں آگے لکھا کہ ناسا کے ایک سینٹر میں بھی ٹیپو کی فوج کی راکٹ والی پینٹنگ دیکھی تھی ۔  کلام لکھتے ہیں کہ مجھے یہ لگا کہ زمین کے دوسرے سرے پر جنگ میں سب سے پہلے استعمال ہوئے راکٹ اور ان کا استعمال کرنے والے سلطان کی بصیرت کا جشن منایا جا رہا تھا ، وہیں ہمارے ملک میں لوگ یہ بات یا تو جانتے نہیں یا اس کو توجہ نہیں دیتے۔

ٹیپو سلطان کی پیدائش 20 نومبر 1750 کو کرناٹک کے دیوناہلی (يوسف اآباد) ہوئی تھی ۔ ان کا پورا نام سلطان فتح علی خان شہاب تھا ۔ ان کے والد کا نام حیدر علی اور ماں کا نام فخرالنسا تھا۔ چار مئی 1799 کو 48 سال کی عمر میں کرناٹک کے شری رنگ پٹنم میں ٹیپو اپنی آخری سانس تک انگریزوں سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

Loading...