ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ممی چکرورتی کی طبیعت خراب، کولکاتا کے’فرضی کیمپ‘ میں لی تھی ویکسین

Kolkata Vaccine Scam: ممی چکرورتی نے چار دن پہلے کورونا ویکسین لگوائی تھی۔ حالانکہ ٹیکہ لگوانے کے بعد ہی انہیں دھاندلی کا شک ہوا اور انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور یہ ایک بڑے ویکسین گھوٹالے کے طور پر سامنے آیا۔

  • Share this:
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ممی چکرورتی کی طبیعت خراب، کولکاتا کے’فرضی کیمپ‘ میں لی تھی ویکسین
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ممی چکرورتی ویکسین لینے کے بعد بیمار ہوگئی ہیں۔ (تصویر: News18 English)

کولکاتا: مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں ’فرضی‘ ٹیکہ کاری کیمپ کا شکار ہوئیں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ممی چکرورتی (Mimi Chakraborty) کی طبعیت ہفتہ کے روز خراب ہوگئی۔ انہوں نے چار دن پہلے شہر کے قصبہ علاقے میں منعقد ایک کیمپ میں ویکسین لگوائی تھی۔ حالانکہ ٹیکہ لگوانے کے بعد ہی انہیں دھاندلی کا شک ہوا اور انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ معاملے کی جانچ شروع ہوئی اور یہ ایک بڑے ویکسین گھوٹالے کے طور پر سامنے آیا۔ فی الحال گھر پر ان کا علاج جاری ہے۔


ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ممی چکرورتی ویکسین لینے کے بعد بیمار ہوگئی ہیں۔ ہفتہ کی صبح ہی ڈاکٹر ان کے گھر پہنچے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ پیٹ میں تیز درد اور بہت زیادہ پسینہ بہنے سمیت انہیں انہیں طبعیت سے متعلق کچھ پریشانیاں ہو رہی ہیں۔ ممی چکرورتی کو اسپتال میں بھرتی ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے گھر میں ہی علاج کرانے کی بات کہی ہے۔


انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ اطلاع دی تھی کہ ویکسین بھلے ہی ’فرضی‘ تھی، لیکن وہ نقصاندہ نہیں تھی۔ رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ کیمپ پر استعمال کئے جا رہے وائلس کو جانچ کے لئے لیب بھیجا گیا ہے اور 5-4 دنوں مین نتیجہ آسکتا ہے۔


کیا ہے ’ویکسین گھوٹالہ‘؟

کولکاتا میں کچھ وقت سے ’فرضی ویکسین کیمپ‘ کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ یہاں دیبانجن دیو نام کے ایک شخص نے خود کو آئی اے ایس افسر بتاکر دو وکیسین کیمپ منعقد کئے تھے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس دوران ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سمیت تقریباً دو ہزار لوگوں نے ٹیکہ لگوایا تھا۔ معاملے کا انکشاف ہونے کے بعد پولیس نے ویکسین کی جگہ پر استعمال کئے جا رہے وائل پر لگے ایک اینٹی بایوٹک انجکشن کے کئی فرضی لیبل برآمد کئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 26, 2021 02:26 PM IST