உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پروین توگڑیاوشو ہندو پریشد سے باہر، آلوک کمار لیںگے جگہ

    نئی دہلی: وشوہندو پریشد کی 52سالہ تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی پروین توگڑیا عہد کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ پروین توگڑیا کی جگہ آلوک کمار لیں گے۔

    نئی دہلی: وشوہندو پریشد کی 52سالہ تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی پروین توگڑیا عہد کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ پروین توگڑیا کی جگہ آلوک کمار لیں گے۔

    نئی دہلی: وشوہندو پریشد کی 52سالہ تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی پروین توگڑیا عہد کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ پروین توگڑیا کی جگہ آلوک کمار لیں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وشوہندو پریشد کی 52سالہ تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی پروین توگڑیا عہد کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ پروین توگڑیا کی جگہ آلوک کمار لیں گے۔ آلوک کمار پیشہ کے وکیل ہیں۔آلوک کمار طویل عرصے سے آر ایس ایس سے وابستہ تھے اور دہلی میں تنظیمی ڈھانچے کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔
      اس سے قبل، وشنو سداشیو کوکجے کو سنگھ کی نیا بین الاقوامی صدر   منتخب کرلیا گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی صدر کے لئے آج گروگرام میں پہلی بار الیکشن کرایاگیا تھا۔ الیکشن میں پروین توگڑیا کے بے حد قریبی رہے راگھو ریڈ ی کے خلاف الیکشن لڑتے ہوئے وشنو سدا شیو کوکجے نے جیت حاصل کی ہے۔ اس طرح سے پروین توگڑیا کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
      وشنو سداشیو كوكجے ہماچل پردیش کے سابق گورنر اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے سابق جج رہ چکے هیں۔الیکشن سے پہلے توگڑیا کیمپ کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ كوكجے کا ہندوتو سے کوئی لینا دینا نہیں هے۔كوكجے کی پیدائش 6 ستمبر 1939 کو مدھیہ پردیش میں ہوئی تھی۔ اندور سے ایل ایل بی کرنے کے بعد 1964 میں انہوں نے لاء کی پریکٹس شروع کی۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ اسی سال وشو ہندو پریشد کا قیام عمل میں آیا۔
      First published: