ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام کے بعد اب یو پی میں سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس پر کسا شکنجہ، یوگی حکومت نے جاری کیا سرکلر

امداد یافتہ دینی مدارس میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانی اور اساتذہ کے استحصال کی شکایات موصول ہونے کے بعد یوگی حکومت امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے تمام امداد یافتہ دینی مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔

  • Share this:
آسام کے بعد اب یو پی میں سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس پر کسا شکنجہ، یوگی حکومت نے جاری کیا سرکلر
یو پی میں سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس پر کسا شکنجہ، یوگی حکومت نے جاری کیا سرکلر

الہ آباد: ریاست آسام کے بعد اب اترپردیش میں بھی سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس کے وجود پرسوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ یو پی کے ۵۶۰ ؍ امداد یافتہ دینی مدارس پر یوگی حکومت کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔ امداد یافتہ دینی مدارس میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانی اور اساتذہ کے استحصال کی شکایات موصول ہونے کے بعد یوگی حکومت امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس  سلسلے میں حکومت کی طرف سے تمام امداد یافتہ دینی مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔ یوگی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر نے ریاست کے 500 سے زائد امداد یافتہ دینی مدارس کی  نیندیں  اڑا کر رکھ د ی ہیں۔


دراصل گذشتہ دنوں دینی مدارس سے ہی تعلق رکھنے والے تین افراد جنید اختر، شمیم احمد اور ریاض قاسمی نے مدارس میں  پائی جانے والی سنگین قسم کی  مالی بد عنوانیوں کی شکایت وزیر اعظم نرندر مودی سے کی تھی۔ جنید اختر، شمیم احمد اور ریاض قاسمی نے وزیر اعظم مودی کو لکھے خط میں دینی مدارس پرموٹی رقم لے کر تقرری کرنے اور مینجمنٹ کی طرف سے اپنے رشتے داروں کو ملازمت دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ یوگی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں تمام امداد یافتہ مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔


امداد یافتہ دینی مدارس میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانی اور اساتذہ کے استحصال کی شکایات موصول ہونے کے بعد یوگی حکومت امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
امداد یافتہ دینی مدارس میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانی اور اساتذہ کے استحصال کی شکایات موصول ہونے کے بعد یوگی حکومت امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔


حکومت کی طرف سے سرکلر موصول ہو نے کے بعد دینی مدارس میں سخت بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ ریاست کے دینی مدارس اس سرکلر سے بیحد خفا نظر آ رہے ہیں۔ الہ آباد کے معروف دینی ادارے جامعہ امامیہ انوارالعلوم کے پرنسپل سید جواد حیدر جوادی کا کہنا ہے کہ دینی مدارس  میں مالی بدعنوانی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم حکومت کی طرف سے ریاست کے تمام دینی مدارس کو شک کے گھیرے میں لانا دینی مدارس اور اساتذہ کی سخت توہین ہے۔ جواد حیدر جوادی نے ریاستی حکومت کی نیت پر بھی کئی طرح کے سوال اٹھائے ہیں۔

دریں اثناء حکومت نے ان تمام اساتذہ سے حلف نامہ بھی طلب کرلیا ہے، جو دینی مدارس میں اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حلف نامے میں اساتذہ کو اس بات کی تصدیق کرنی ہوگی کہ ادارے کی جانب سے ان کو پوری تنخواہ مل رہی ہے اور یہ کہ ان کے ساتھ کسی طرح کا استحصال نہیں کیا جا رہا ہے۔ یوگی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جانچ کے بعد جن مدارس میں بدعنوانی کی شکایات درست پائی گئیں، ان کے خلاف سخت تادیبی کار روائی کی جائے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 02, 2021 09:57 PM IST