ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Farmers Protest: دہلی میں تین روٹس پر ٹریکٹر مارچ نکالنے کی اجازت کو لے کر پولیس تیار: ذرائع

یوم جمہوریہ (Republic Day) کے موقع پر کسانوں کے ٹریکٹر مارچ کو لے کر عام رضا مندی بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ پولیس سے منسلک ذرائع نے بتایا ہے کہ دہلی پولیس (Delhi Police) تینوں راستوں سنگھو، ٹکری اور غازی پور - یوپی گیٹ پر ٹریکٹر مارچ کی اجازت دینے کو لے کر تیار ہے۔

  • Share this:
Farmers Protest: دہلی میں تین روٹس پر ٹریکٹر مارچ نکالنے کی اجازت کو لے کر پولیس تیار: ذرائع
دہلی میں تین روٹس پر ٹریکٹر مارچ نکالنے کی اجازت کو لے کر پولیس تیار: ذرائع

نئی دہلی: یوم جمہوریہ (Republic Day) کے موقع پر کسانوں کے ٹریکٹر مارچ کو لے کر عام رضا مندی بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ پولیس سے منسلک ذرائع نے بتایا ہے کہ دہلی پولیس (Delhi Police) تینوں راستوں سنگھو، ٹکری اور غازی پور - یوپی گیٹ پر ٹریکٹر مارچ کی اجازت دینے کو لے کر تیار ہے۔ وہیں، کسان شاہجہاں پور اور پلول سے نکلنے والی ٹریکٹر پریڈ کے بارے میں آج اتوار کو اعلان کریں گے۔ صبح کسانوں نے پولیس کو تحریری درخواست دے کر ریلی کے لئے اجازت طلب کی تھی۔


ان راستوں پر نکلے گی ٹریکٹر ریلی


تجویز کی شروعات سے ہی کسان راجدھانی کی آوٹر رنگ روڈ پر ریلی نکالنے کی بات کہہ رہے تھے، لیکن دہلی پولیس نے سیکورٹی وجوہات سے اس شاہراہ پر ٹریکٹر پریڈ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ذرائع کے مطابق، پولیس اور کسانوں کے درمیان آپسی رضا مندی سے جو روٹس طے ہوئے ہیں۔


سنگھو بارڈر: سنگھو بارڈر (Singhu Border) سے ٹریکٹر پریڈ چلے گی، جو سنجے گاندھی ٹرانسپورٹ، کنجھاوالا، بوانا، اوچندی بارڈر ہوتے ہوئے ہریانہ میں چلی جائے گی۔

ٹکری بارڈر: ٹکری بارڈر (Tikri Border) سے ٹریکٹر پریڈ ناگلوئی، نجف گڑھ، جھڑودا، بادلی ہوتے ہوئے کے ایم پی پر چلی جائے گی۔

غازی پور- یوپی گیٹ: غازی پور یوپی گیٹ سے ٹریکٹر پریڈ اپسرا بارڈر غازی آباد ہوتے ہوئے یوپی کے ڈاسنا میں چلی جائے گی۔

کسانوں کی طرف سے دہلی پولیس کے سامنے سنگھو - سنجے گاندھی اسپتال اور بوانا روٹ کی تجویز دی گئی تھی۔ کسانوں کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد پولیس نے بھی تنظیموں کے سامنے اپنی شرطیں رکھیں تھیں۔ وہیں، پولیس آج اس ٹریکٹر ریلی کو لے کر شام 4:30 بجے پولیس ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس کرنے جارہی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں دہلی پولیس کی طرف سے ریلی کو لے کر بڑا اعلان ہوسکتا ہے۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 24, 2021 03:50 PM IST