உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    West Bengal: نادیہ میں دردناک سڑک حادثہ! کنارے کھڑے ٹرک سے ٹکرائی تیز رفتار میٹا ڈور، 18 افراد کی موت، کئی زخمی

    Accident-43-min

    Accident-43-min

    مغربی بنگال (West Bengal) کے نادیہ (Nadiya) ضلع میں ایک خطرناک سڑک حادثہ میں اب تک 18 افراد کی موت ہونے کی خبر ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی خبر کے مطابق، یہ حادثہ ہفتہ کی شب پیش آیا۔ حادثہ میں پانچ دیگر افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔

    • Share this:
      کولکاتا: مغربی بنگال (West Bengal) کے نادیہ (Nadiya) ضلع میں ایک خطرناک سڑک حادثہ میں اب تک 18 افراد کی موت ہونے کی خبر ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی خبر کے مطابق، یہ حادثہ ہفتہ کی شب پیش آیا۔ حادثہ میں پانچ دیگر افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ حادثہ تب ہوا جب شمالی 24 پرگنہ کے بگدا سے لاشوں کو لے کر 20 سے زیادہ لوگ میٹا ڈیر میں نودیپ شمشان گھاٹ کی طرف جا رہے تھے۔ ایسے میں یہ میٹاڈور فلباڑی علاقے میں سڑک کنارے کھڑے ایک ٹرک سے ٹکرائی۔ حادثہ ہنسکھلی پولیس اسٹیشن علاقے میں ہوا۔

      دراصل، اطلاع کے مطابق، اس دردناک حادثے میں گاڑی ڈرائیور سمیت کل 18 افراد کی موت ہوگئی۔ ان میں سے 10 مرد اور باقی 6 خواتین ہیں، مرنے والوں میں 6 سال کی ایک معصوم بچی بھی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ شمال 24 پرگنہ کے بگدا تھانہ علاقے کے پارمدن علاقے کی رہنے والی وردھا شرابنی مہوری کی موت ہوگئی تھی۔ وہ کافی وقت سے بیمار تھی۔ اس کے آخری رسوم کے لئے فیملی اور پڑوسیوں سمیت 40 افراد ٹرک میں سوار ہوکر نودیپ جا رہے تھے۔ رات تقریباً 2 بجے نادیہ کے پھول باڑی کھیل کے میدان کے پاس اسٹیٹ روڈ پر کھڑے ٹرک کے پیچھے میٹا ڈور نے ٹکر ماردی۔ اسی سے یہ حادثہ پیش آیا۔



      وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹوئٹ کرکے افسوس کا اظار کیا ہے۔



      مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ٹوئٹ کرکے حادثہ پر اظہار افسوس کیا ہے۔

      ممتا بنرجی نے حادثہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا، ’نادیہ میں ہوئے سڑک حادثے کے بارے میں سن کر دل ٹوٹ گیا۔ میں غمزدہ اہل خانہ کے تئیں اپنے گہرے رنجم وغم کا اظہار کرتی ہوں اور زخمی کے جلد صحتیاب ہونے کی دعا کرتی ہوں۔ خدا انہیں اس مشکل وقت سے نکلنے کی طاقت فراہم کریں۔ مغربی بنگال حکومت متاثرین کے اہل خانہ کو ہر ضروری مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔ اس افسوسناک گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: