ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

ناجائز قبضہ ہٹانے اور آمدنی میں اضافہ کے لئے دی گئی ٹریننگ، بورڈ کی عدم توجہی سے وقف کی زمینیں ناجائز قبضہ کا شکار

بھوپال میں منعقدہ صوبائی وقف کانفرنس میں مدھیہ پردیش کے سبھی اضلاع کی وقف کمیٹیوں کے ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا۔ پوری کانفرنس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے حصے میں کانفرنس کا افتتاح کیا گیا۔

  • Share this:
ناجائز قبضہ ہٹانے اور آمدنی میں اضافہ کے لئے دی گئی ٹریننگ، بورڈ کی عدم توجہی سے وقف کی زمینیں ناجائز قبضہ کا شکار
نا جائز قبضہ ہٹانے اور آمدنی میں اضافہ کے لئے دی گئی ٹریننگ

بھوپال: مدھیہ پردیش وقف بورڈ کا شمار ملک کی ان ریاستوں میں ہوتا ہے، جس کے پاس ہزاروں کروڑ کی وقف املاک موجود ہے، مگر عدم توجہی اور ناقص مینجنٹ کے سبب اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ایم پی وقف بورڈ سونےکی کان پر بیٹھا ہوا کنگال ہے۔ ہزاروں کروڑ کی املاک کے مالک ایم پی وقف بورڈ کو اگر صوبائی حکومت سالانہ کروڑ روپئے کی گرانٹ نہیں دے تو وقف بورڈ اپنے ملازمین کو تنٓخواہ دینے کا بھی اہل نہیں ہے۔ بورڈ کو خود کفیل بنانے، وقف متولیوں کو قانون کی باریکیوں سے واقف کرانے کے لئے بھوپال میں ایم پی وقف بورڈ کے زیر اہتمام صوبائی وقف کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

بھوپال میں منعقدہ صوبائی وقف کانفرنس میں مدھیہ پردیش کے سبھی اضلاع کی وقف کمیٹیوں کے ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا۔ پوری کانفرنس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے حصے میں کانفرنس کا افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ایم پی وقف بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر دلیپ کمار یادو نے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی اور مفتی شہر مولانا ابوالکلام قاسمی نے وقف کی اہمیت اور افادیت پر اسلام کی روشنی میں بیان کیا گیا۔ افتتاحی سیشن کے بعد تین ٹیکنکل سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ ٹیکنکل سیشن میں وقف زمینوں کے رکھ رکھاؤ، دستاویز، قبضہ ہٹانے کے لئے قانونی چارہ جوئی کی باتیں دلیل کے ساتھ ماہرین نے سمجھائیں۔


بھوپال میں منعقدہ صوبائی وقف کانفرنس میں مدھیہ پردیش کے سبھی اضلاع کی وقف کمیٹیوں کے ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا۔
بھوپال میں منعقدہ صوبائی وقف کانفرنس میں مدھیہ پردیش کے سبھی اضلاع کی وقف کمیٹیوں کے ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا۔


کانفرنس میں آنے والے ضلع وقف کمیٹیوں کے ذمہ داران کی سب سے زیادہ شکایت اس بات کی تھی کہ وہ جب بھی فون کرتے ہیں یا وقف کو لے کر کوئی لیٹر وقف دفتر کو بھیجتے ہیں، دفتر کی جانب سے مہینوں انہیں کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے۔ وقت پر بورڈ کی جانب سے مناسب کارروائی نہیں ہونے کے سبب وقف کی بہت سی زمینیں ناجائز قبضہ کا شکار ہوگئی ہیں۔
رتلام ضلع وقف کمیٹی کے عبدالرزاق کہتے ہیں کہ پہلی بار وقف کو اپنی زمینوں کی فکر ہوئی ہے اور بورڈ نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے، جس میں کسی سیاست داں کو نہیں بلایا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل بھی گزشتہ 10 سالوں میں دوبارہ وقف کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے، مگر وہ دونوں کانفرنس کمیٹیوں کو اطلاعات دینے سے زیادہ سیاست دانوں کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کی نذر ہوگئی تھیں۔ اچھا قدم ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ایسی کانفرنس کا انعقاد سال میں کئی بار کیا جانا چاہئے، تاکہ کمیٹیوں اور بورڈ کے بیچ ربط بھی بنا رہے ہیں اور کمیٹیاں قانونی پہلوؤں پر بورڈ سے کھل کر مشورہ بھی کر سکیں۔



وہیں مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر دلیپ کمار یادو کہتے ہیں کہ یہ کانفرنس اسی لئے کی گئی ہے تاکہ وقف کی زمینوں کو بچایا جا سکے۔ وقف کی آمدنی میں اضافہ ہو اور اس سے مسلم سماج کے لئے فلاحی کام انجام دیئے جا سکیں، جو مشورہ سامنے آئے ہیں ان پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا تاکہ وقف کا مقصد منظر عام پر آسکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 30, 2021 10:26 PM IST