ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ایک شجر محبت کا لگایا جائے، شہر گلستان بنگلورو میں خصوصی مہم کا آغاز

ایک شجر محبت کا ایسا لگایا جائے، جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے۔ ایسی ہی ایک خوبصورت کوشش شہر گلستان بنگلورو میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم مناتے ہوئے شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

  • Share this:
ایک شجر محبت کا لگایا جائے، شہر گلستان بنگلورو میں خصوصی مہم کا آغاز
ایک شجر محبت کا لگایا جائے، شہر گلستان بنگلورو میں خصوصی مہم کا آغاز

بنگلورو: ایک شجر محبت کا ایسا لگایا جائے، جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے۔ ایسی ہی ایک خوبصورت کوشش شہر گلستان بنگلورو میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم مناتے ہوئے شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی مذاہب کے رہنماؤں نے مل کر قدوس صاحب عیدگاہ میں 30 ناریل کے درخت لگواتے ہوئے اس مہم کا آغاز کیا ہے۔ جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ اور Saviours آف ڈیموکرسی نے پورے شہر میں شجرکاری کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا کہ ملک اور معاشرے کی فضاء کو پرامن رکھنے کیلئے آپس میں میل ملاپ، پیار و محبت دلوں کا جڑے رہنا انتہائی ضروری ہے۔


مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا کہ اتحاد کی خوبصورت مثال ہمیں درختوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہر درخت کی جڑیں آپس میں ملی ہوئی رہتی ہیں اور یہ جڑیں ایک دوسرے کو قوت فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح انسان بھی اگر مل جل کر رہیں تو یہ دنیا بھی ایک درخت کی طرح سرسبز و شاداب دکھائی دے گی۔ امن اور سکون کا گہوارہ بنے گی۔ ہندو مذہب کے رہنما شری شری شانتا ویرا مہا سوامی نے کہا کہ سبھی مذاہب امن اور اتحاد کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر تمام لوگ اپنے اپنے مذہب پر ایمانداری کے ساتھ قائم رہیں، مذہبی تعلیمات پر عمل کرتے رہیں تو دنیا میں کہیں بھی فساد، تشدد نہیں ہوگا۔عیسائی مذہب کے رہنما، بنگلورو کے آرچ بشپ پیٹر مچاڈو نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش کا جشن اور کرناٹک کے یوم تاسیس راجیہ اتسو کے موقع پر شجرکاری کا  پروگرام شروع کرنے کی یہ پہل قابل ستائش ہے۔


 مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا کہ اتحاد کی خوبصورت مثال ہمیں درختوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہر درخت کی جڑیں آپس میں ملی ہوئی رہتی ہیں اور یہ جڑیں ایک دوسرے کو قوت فراہم کرتی ہیں۔

مولانا صغیر احمد رشادی نے کہا کہ اتحاد کی خوبصورت مثال ہمیں درختوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہر درخت کی جڑیں آپس میں ملی ہوئی رہتی ہیں اور یہ جڑیں ایک دوسرے کو قوت فراہم کرتی ہیں۔


آرچ بشپ نے کہا کہ زمین، ہوا، پانی اور جنگل شانتی کا پیغام دیتے ہیں۔ قدرت  کی حفاظت ہر شخص کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔  بنگلورو کی سکھ ایسوسی ایشن کے صدر کلدیپ سنگھ نے کہا کہ مسلم بھائیوں کی جانب سے شروع کی گئی شجرکاری مہم کا سکھ کمیونٹی بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ کلدیپ سنگھ نے کہا کہ قدرت سے ہمیں پیار ملتا ہے اور ہماری بھی یہ ذمہ داری ہونی چاہئےکہ ہم قدرت سے پیار کریں۔ اگر قدرت سے کھلواڑ کرتے رہیں گے، تو پوری دنیا ہمیشہ پریشان رہے گی۔ اسی لئے موجودہ دور میں گلوبل وارمنگ اور دیگر مسائل سے دنیا دو چار ہے۔

 شیواجی نگر کے ایم ایل اے رضوان ارشد نے کہا کہ انسان صرف اپنی ترقی کا نہ سوچے بلکہ اپنے اطراف موجود جانوروں، پرندوں، پیڑ و پودوں، ندی نالوں، جنگلوں کا بھی خیال رکھے۔

شیواجی نگر کے ایم ایل اے رضوان ارشد نے کہا کہ انسان صرف اپنی ترقی کا نہ سوچے بلکہ اپنے اطراف موجود جانوروں، پرندوں، پیڑ و پودوں، ندی نالوں، جنگلوں کا بھی خیال رکھے۔


شیواجی نگر کے ایم ایل اے رضوان ارشد نے کہا کہ انسان صرف اپنی ترقی کا نہ سوچے بلکہ اپنے اطراف موجود جانوروں، پرندوں، پیڑ و پودوں، ندی نالوں، جنگلوں کا بھی خیال رکھے۔ رضوان ارشد نے کہا کہ اس دنیا پر صرف انسانوں کا حق نہیں بلکہ تمام مخلوقات کا حق ہے۔ اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے تو ماحول کی حفاظت کرنا ہر شخص کی فکر اور ذمہ داری ہونی چاہئے۔جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ کے صدر ایڈوکیٹ مشتاق احمد نے کہا کہ شجرکاری کرنا ایک نیک کام ہے۔ ہر شہر میں ملی اور سماجی تنظیمیں عوامی مقامات پر موجود درختوں کی دیکھ ریکھ کریں۔ نئے نئے درخت اگا ئیں اور اپنے اپنے علاقوں کو ہرا بھرا رکھیں۔

سیویرس آف ڈیموکرسی کے صدر ڈاکٹر جاوید نےکہا کہ ابتداء میں قدوس صاحب عیدگاہ میں شجرکاری کا کام انجام دیا جا رہا ہے۔ 30 ناریل کے درخت لگوائے گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیگر مقامات میں اس کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ نوجوانوں میں بیداری پیدا کی جائے گی۔ ہر شخص اپنی زندگی میں کم سے کم ایک درخت ضرور لگوائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خوشی کے موقع پر چاہئے وہ شادی کا موقع ہو، سالگرہ ہو یا کوئی اور تقریب ہر خاندان اپنے گھر کے اطراف کم سے کم ایک درخت لگائے۔ اس سے ضرور کرہ ارض کی تپش میں کمی آئے گی۔ ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ سیویرس آف ڈیموکرسی کی جانب سے عوام میں مفت پودے تقسیم کئے جائیں گے۔ پودوں کے ساتھ بیج بھی دئے جائیں گے۔ لوگ پکنک، سیر و تفریح کیلئے جہاں بھی جارہے ہیں وہ بیجوں کو زمین پر پھینکے۔ ان بیجوں کو یا تو جانور کھائیں گے یا پھر یہ بیج زمین میں داخل ہو کر ایک پیڑ کی شکل میں باہر آئینگے۔ تنظیم کے جنرل سیکرٹری ہمایوں سیٹھ نے کہا کہ مذہب اسلام نے قدرت اور ماحولیات کی حفاظت کی بار بار تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ بیجوں کا بونا، درختوں کا اگانا  انسان کی بخشش کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کار خیر کیلئے انسان کو قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔



جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ کے ٹرسٹی عثمان شریف نے کہا کہ ماحولیات کی حفاظت کیلئے صرف شجرکاری ہی نہیں دیگر پروگرام بھی شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک درخت کا اگانا ثواب جاریہ ہے۔ درخت بڑا بن کر کسی کو چھاوں پہنچاتا ہے تو اس کا ثواب درخت کے اگانے والے کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔ درخت سے کسی انسان اور جانور کو غذا حاصل ہوجائے تو وہ بھی ثواب درخت کے اگانے والے کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔ اس ٹرسٹ کے ایک اور رکن سید افسر قادری نے کہا کہ اس مرتبہ کورونا وبا کی وجہ سے جلوس اور بڑے جلسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس لئے اس مرتبہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مختلف انداز میں منانے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ Saviours of Democracy کے اشتراک سے جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ نے شجرکاری کا بیڑا اٹھایا ہے۔اس تقریب میں لاک ڈاؤن اور  کورونا کی وبا کے دوران سماجی اور فلاحی خدمات انجام دینے والے کورونا وارئرس کو اعزاز سے نوازا گیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 02, 2020 11:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading