ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سیتاپور لوجہادمعاملہ: ٹرائل کورٹ سے دو خواتین سمیت 6 ملزمین کی ضمانت منظور، مولانا ارشد مدنی کا بڑا بیان

اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ تمبور کے لوجہاد معاملے میں گزشتہ چارماہ سے جیل میں مقید 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں، کو آج ستیاپورکی ٹرائل کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔

  • Share this:
سیتاپور لوجہادمعاملہ: ٹرائل کورٹ سے دو خواتین سمیت 6 ملزمین کی ضمانت منظور، مولانا ارشد مدنی کا بڑا بیان
سیتاپور لوجہادمعاملہ: ٹرائل کورٹ سے دو خواتین سمیت 6 ملزمین کی ضمانت منظور، مولانا ارشد مدنی کا بڑا بیان

نئی دہلی: اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ تمبور کے لوجہاد معاملے میں گزشتہ چارماہ سے جیل میں مقید 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں، کو آج ستیاپورکی ٹرائل کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ ٹرائل عدالت کے جج بھگوان داس گپتا نے ملزمین جنتن ابراہیم، افسر جہاں اسرائیل، شمشاد، رفیق اسماعیل، جاوید شاکر علی اور محمد عاقب منصوری کی ضمانت منظورکرلی ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ رضوان، ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور ایڈوکیٹ فرقان خان نے ملزمین کی ضمانت کے لئے عرضی داخل کی تھی۔


دوران بحث ایڈوکیٹ رضوان اور ایڈوکیٹ فرقان خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ پولس نے عرضی گذار ملزمین کو حراست میں لے کر آئین ہند کے ذریعہ دی گئی ان کی شخصی آزادی ختم کردی ہے اور اس معاملے میں پولس نے چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے، لہٰذا ملزمین کو فوراً ضمانت پر رہا کیا جائے۔ وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کے خلاف 26 نومبر کو مقدمہ قائم کیا گیا جبکہ 28 نومبر 2020 کو اتر پردیش کے گورنر آنندی بین پٹیل نے ”غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020“ Uttar Pradesh Prohibition of Unlawful Conversion of Religion Ordinance, 2020 پر دستخط کئے یعنی کہ اس مقدمہ پر غیر قانونی طور پر اس قانون کا اطلاق کیا گیا ہے، جو غیر قانونی ہے، جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔


اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ تمبور کے لوجہاد معاملے میں گزشتہ چارماہ سے جیل میں مقید 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں، کو آج ستیاپورکی ٹرائل کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔
اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ تمبور کے لوجہاد معاملے میں گزشتہ چارماہ سے جیل میں مقید 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں، کو آج ستیاپورکی ٹرائل کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔


لڑکی کے بیان کے بعد ملزمین کو رہا کرنے کا مطالبہ

وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ لڑکی واپس آگئی ہے اور اس نے پولس کو دیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہےکہ اسے جبراً مذہب تبدیل کرنے کے لئے اکسایا نہیں گیا ہے اور نہ ہی اسے اغوا کیا گیا تھا، لہذا لڑکی کے بیان کی روشنی میں ملزمین کو فو راً جیل سے رہا کیا جانا چاہئے، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمین کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت یہ گرفتاریاں ہوئی تھیں وہ ملک کے آئین کے رہنما اصولوں کے سراسرخلاف ہے، اس لئے ہم ضمانت سے مطمئن نہیں ہیں بلکہ ضمانت کی جگہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ عدالت یہ مقدمہ خارج کردیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ عدالتی نظام کی سست رفتاری پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پولس کسی بے گناہ کو ذاتی عنادیا تعصب کی بناپر گرفتارکرکے جیل بھیج دے تو اس کو بھی انصاف کے حصول میں مہینوں اورسالوں لگ جاتے ہیں۔

تعصب کا شکار ہوا نوجوان کا پورا خاندان: ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئےکہا کہ اس معاملہ میں ملزم ٹھرائے گئے نوجوان کے پورے خاندان کو تعصب کی بنیادپر پولس نے گرفتارکرلیا تھا، جن میں پردہ نشیں خواتین بھی شامل تھیں، انصاف اورقانون کا تقاضہ تویہ تھا کہ اصل ملزم کو ہی پولس گرفتارکرتی مگر اس نے فرقہ پرستوں کے دباؤ میں ان لوگوں کو ہی گرفتارکرلیا جن کا کوئی جرم نہیں تھا، سوال یہ ہے کہ پولس نے مذکورہ خاندان کے ساتھ جو توہین آمیزسلوک کیا اس کی تلافی کس طرح ہوگی؟ کیا یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ نہیں ہے؟ کیا یہ معززعدالت کا فرض نہیں تھا کہ وہ پولس کو اس کے لئے سرزنش کرتی تاکہ آئندہ کے لئے یہ بات ایک نظیر بن جاتی اور پھر پولس کسی بے گناہ کو اس طرح ذیل کرنے کا حوصلہ نہ کرپاتی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کی رہائی کے احکامات تب جاری کئے، جب لڑکی یہ بیان دے چکی ہے کہ اسے کسی نے نہیں بھگایا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس تعصب پر مبنی آئین مخالف قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑرہے ہیں، درمیان میں عدالتوں کے ذریعہ ریاستی سرکار کی نہ صرف سرزنش کی گی بلکہ اس سے حلف نامہ داخل کرنے کو بھی کہا گیا مگر اس کے باوجود تبدیلی مذہب روکنے والے اس آڈیننس پر اب ریاستی گورنر سے بھی دستخط کرالیا گیا ہے، اب تک اس نئے قانون کے تحت جتنی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور خودریاستی حکومت نے عدالت کو جو اعدادوشمارپیش کئے ہیں اس کے مطابق ان گرفتاریوں میں 99فیصدمسلمان ہیں یہ بات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ قانون مسلم نوجوانوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی غرض سے ہی لایا گیا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ عدالت نے ان کی رہائی کے احکامات تب جاری کئے، جب لڑکی یہ بیان دے چکی ہے کہ اسے کسی نے نہیں بھگایا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ عدالت نے ان کی رہائی کے احکامات تب جاری کئے، جب لڑکی یہ بیان دے چکی ہے کہ اسے کسی نے نہیں بھگایا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔


26 نومبر 2020 کو ہوئے تھے فرار

قابل ذکر ہے کہ 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی ہیں کی ضمانت منظور ہونے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر لکھنئو ہائی کورٹ میں ملزمین کے خلاف قائم مقدمہ ختم کرنے کی پٹیشن داخل کی گئی ہے، لیکن سماعت میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست عدالت میں داخل کی گئی تھی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے انہیں راحت دی ہے۔ بقیہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت بھی داخل کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ تمبور تھانہ میں شرویش کمار شکلا نے اپنی 19 سالہ بیٹی کے کسی کے ساتھ بھاگ جانے کی ایف آئی آر 26 نومبر 2020 کو درج کرائی تھی، پولس تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ جبرئیل نامی نوجوان سے اس کی دوستی تھی اور دونوں ساتھ میں بھاگے ہیں۔ مقامی تھانہ دار نے جبرئیل کے پورے خاندان کو ایف آئی آرمیں نامزدکردیا اور باری باری کنبہ کے تمام افرادبشمول دوخواتین کے گرفتارکرلیا تھا، جن میں سے آج 6 کی ضمانت ہوچکی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 26, 2021 09:24 PM IST