ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاعر ادیب اور مفکر قوم اسماعیل میرٹھی کی یوم ولادت پر خراج عقیدت

12 نومبر کی تاریخ اردو ادب کی ممتاز شخصیت اور مفکر قوم اسمٰعیل میرٹھی کی یوم پیدائش سے منصوب ہے۔مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی ولادت سن 1844 میں میرٹھ میں ہوئی تھی۔ مولانا نےشروعاتی زندگی میں درس و تدریس کی خدمات انجام دینے کے بعد اپنی پوری زندگی قوم کے بچوں کی تعلیمی خدمات اور خاص طور پر تعلم نسواں کو فروغ دینے کے لئے وقف کردی۔

  • Share this:
شاعر ادیب اور مفکر قوم اسماعیل میرٹھی کی یوم ولادت پر خراج عقیدت
شاعر ادیب اور مفکر قوم اسماعیل میرٹھی کی یوم ولادت پر خراج عقیدت

میرٹھ: 12 نومبر کی تاریخ اردو ادب کی ممتاز شخصیت اور مفکر قوم اسمٰعیل میرٹھی کی یوم پیدائش سے منصوب ہے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی ولادت سن 1844 میں میرٹھ میں ہوئی تھی۔ مولانا نےشروعاتی زندگی میں درس و تدریس کی خدمات انجام دینے کے بعد اپنی پوری زندگی قوم کے بچوں کی تعلیمی خدمات  اور خاص طور پر تعلم نسواں کو فروغ دینے کے لئے وقف کر دی۔ اسمٰعیل میرٹھی کے نام سے منصوب میرٹھ شہر میں موجود کئی مشہور تعلیمی ادارے  آج بھی تعلیمی خدمات انجام دیتے ہوئے مولانا میرٹھی کے کارناموں اور سماجی خدمات کی مثال  پیش کر رہے ہیں۔


میرٹھ شہر کی شناخت  ایک تاریخی شہر سے زیادہ  ان شخصیات سے منصوب ہے، جن کی شہرت سے اس شہرکو ایک خاص پہچان حاصل ہوئی، ان میں ایک نام مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا بھی ہے۔ 12 نومبر 1844 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے اسمٰعیل میرٹھی کی فارسی اور عربی کی  شروعاتی تعلیم گھر پر ہی ہوئی اس کے بعد 16 برس کی عمر میں روڑکی انجینرنگ کالج سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے ہوئے مولانا نے شاعری کی شروعات نظم اور غزل سے کی، لیکن ایک شاعر کے ساتھ مولانا مفکر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے سماج میں علم کی شمع روشن کر رہے تھے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ مولانا ایک مدرس تھے ایک شاعر تھے اور مفکّر قوم تھے۔


 درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے ہوئے مولانا نے شاعری کی شروعات نظم اور غزل سے کی، لیکن ایک شاعر کے ساتھ مولانا مفکر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے سماج میں علم کی شمع روشن کر رہے تھے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔

درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے ہوئے مولانا نے شاعری کی شروعات نظم اور غزل سے کی، لیکن ایک شاعر کے ساتھ مولانا مفکر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے سماج میں علم کی شمع روشن کر رہے تھے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔


مولانا قوم اور ملک کی ترقی کے لئے تعلیم کو اور سماجی قدروں کے لئے تربیت کو اہم سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کی مولانا نے اخلاقی قدروں کو فروغ دینے کے لئے نہ صرف بچوں کے لئے شاعری کی بلکہ  اردو قاعدے کو بھی ترتیب دیا جو آج بھی مدرسہ نصاب کا جز ہے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی سر سید احمد خان کے نہ صرف ہم اثر تھے بلکہ اسی ذھن و فکر سے قوم اور سماج کے لئے تعلیمی خدمات کو بھی انجام دے رہے تھے۔ سن 1905 میں ایک چھوٹے سے مدرسے سے شروعات کے بعد مولانا اسمٰعیل میرٹھی نے اسکول کی سنگ بنیاد رکھی۔ خاص طور پر تعلیم نسواں کے لئے انکی کوششیں آج بھی انٹر اور ڈگری کالج کے شکل میں میرٹھ میں تعلیم کے میدان میں اپنا نمایہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایک مشہور شاعر کی حیثیت سے اسمٰعیل میرٹھی کی پہچان بچوں کے شاعر کے طور پر رہی ہے۔ تاہم اسمٰعیل میرٹھی کی زندگی اور شاعری کا تجزیہ کرنے والے ریسرچ اسکالر مانتے ہیں کی اسمٰعیل میرٹھی ترقی پسند اردو تحریک سے قبل ہی جدید اردو نظم کا آغاز کر چکے تھے۔
ایک مشہور شاعر کی حیثیت سے اسمٰعیل میرٹھی کی پہچان بچوں کے شاعر کے طور پر رہی ہے۔ تاہم اسمٰعیل میرٹھی کی زندگی اور شاعری کا تجزیہ کرنے والے ریسرچ اسکالر مانتے ہیں کی اسمٰعیل میرٹھی ترقی پسند اردو تحریک سے قبل ہی جدید اردو نظم کا آغاز کر چکے تھے۔


ایک مشہور شاعر کی حیثیت سے اسمٰعیل میرٹھی کی پہچان بچوں کے شاعر کے طور پر رہی ہے۔ تاہم اسمٰعیل میرٹھی کی زندگی اور شاعری کا تجزیہ کرنے والے ریسرچ اسکالر مانتے ہیں کی اسمٰعیل میرٹھی ترقی پسند اردو تحریک سے قبل ہی جدید اردو نظم کا آغاز کر چکے تھے، لیکن اس صنف میں مولانا کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی، جس کے وہ مستحق تھے۔ قدیم شاعری کی غیر حقیقی تصویر اور اظہار کو ناپسند کرنے والے مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی روشن خیالی نہ صرف ان کی شاعری میں بلکہ ان کی تعلیمی خدمات میں بھی نظر آتی ہے۔ اسمٰعیل میرٹھی کو حقیقی خراج عقیدت یہی ہے کہ جدید تعلیم کو نئی نسل تک پہنچانے کے ان کے اس مقصد کو آگے بڑھایا جائے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 12, 2020 11:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading