مغربی بنگال: ممتا بنرجی کے کنبے میں گھمسان، بی جے پی جوائن کریں گے ترنمول کے50 کونسلراور4 اراکین اسمبلی

ترنمول کے ان باغی اراکین اسمبلی میں مکل رائے کے بیٹے اورایم ایل اے سبھانشو رائے بھی شامل ہیں۔ صرف سبھانشو ہی بی جے پی میں شامل نہیں ہورہے ہیں، بلکہ ان کے ساتھ کئی اراکین اورایک درجن سے زیادہ مقامی کونسلربھی ہیں۔

May 28, 2019 12:52 PM IST | Updated on: May 28, 2019 01:02 PM IST
مغربی بنگال: ممتا بنرجی کے کنبے میں گھمسان، بی جے پی جوائن کریں گے ترنمول کے50 کونسلراور4 اراکین اسمبلی

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی۔ تصویر: اے این آئی

لوک سبھا الیکشن 2019 میں شکست نے مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کےکنبے میں گھمسان مچا دی ہے۔ دیدی (ممتا بنرجی) کی پارٹی ترنمول کانگریس سے حال ہی میں معطل مکل رائے نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق شکست کے بعد ترنمول کانگریس کےکئی اراکین اسمبلی بی جے پی کے رابطے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق ترنمول کانگریس کے تقریباً 50 کونسلربی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان میں تین چیئرمین ہیں، اس فہرست میں 4 اراکین اسمبلی کا بھی نام ہے۔

ترنمول کانگریس کے ان باغی اراکین اسمبلی میں مکل رائے کے بیٹے اوررکن اسمبلی سبھرانشو رائے بھی شامل ہیں۔ صرف شبھرانشوہی بی جے پی میں شامل نہیں ہورہے ہیں۔ مکل رائے نے 2018 میں بی جے پی کا جھنڈا تھام لیا تھا اوراب ان کے بیٹےسبھرانشورائے نریندرمودی نام کے نعرے کوبلند کرنے والے ہیں۔

Loading...

الیکشن میں بی جے پی نے جیتی 18 سیٹیں

واضح رہےکہ لوک سبھا الیکشن میں بنگال کی کل 42 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 18 سیٹیں جیتی ہیں۔ اب بی جے پی 2021 میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئےکولکاتا سوک پول (بلدیاتی انتخابات) پرتوجہ مرکوز کررہی ہے۔ بی جے پی کا ہدف بنگال کی اقتدارسے ممتا بنرجی کوہٹانا ہے، جوبھگوا پارٹی کے بنگال میں آمد سے مشکلوں میں ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے ذرائع کےمطابق ایک دونہیں بلکہ 10 سے زیادہ بنگال کے کونسلردہلی میں بی جے پی کا دامن تھامنے والے ہیں۔ آج اگرترنمول کانگریس کے دوچاراراکین اسمبلی بھی بی جے پی کے ساتھ چلے جائیں توکسی کوحیرانی نہیں ہونی چاہئے۔

مودی کے نیو انڈیا کو قبول کررہے ہیں بنگال کے لوگ

نیوز18 سے بات کرتے ہوئے بنگال میں بی جے پی کے انتخابی پالیسی سازکیلاش وجے ورگیہ نے کہا 'بنگال میں وزیراعظم مودی کے نیوانڈیا وژن کولوگوں کی حمایت مل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نےالیکشن میں برسراقتدارپارٹی ترنمول کانگریس کومسترد کردیا۔ لوگوں نے ہمیں اورہمارے نظریےکو قبول کیا۔ اس کےنتائج کےطورپربی جے پی کوعام انتخابات میں بنگال میں 18 سیٹیں ملیں۔ عام انتخابات میں جیت کا اثرمیونسپل وارڈ اوراسمبلی الیکشن میں بھی دیکھنے کوملے گا۔

ترنمول کواس لئے بنگال نے مسترد کیا

کیلاش وجے ورگیہ نے کہا 'بنگال میں ٹی ایم سی کے غیرجمہوری طریقہ کار کے سبب بی جے پی کو قبول کیا جارہا ہے۔ لوگ ٹی ایم سی کارکنان کی ہڑدنگ سے پریشان ہوچکے ہیں۔ اگربنگال میں یہی ووٹنگ ٹرینڈ برقراررہا، تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بی جے پی کولکاتا بلدیاتی انتخاب اور2021 میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں جیت درج کرے گی۔

کیا کہتے ہیں ووٹنگ پیٹرن

الیکشن میں ووٹنگ ٹرینڈ یہ بتاتے ہیں کہ بی جے پی نے جنوبی کولکاتا کے 24 اورشمالی کولکاتا کے26 وارڈ وں میں سبقت بنا لی ہے۔ اس میں میئرفرہاد حکیم کا وارڈ نمبر82 بھی شامل ہے۔ ووٹنگ پیٹرن یہ بھی بتاتے ہیں کہ بی جے پی نےممتا بنرجی کے وارڈ نمبرمیں بھی 490 ووٹوں کی لیڈ بنا لی تھی۔ ایسے میں ترنمول کانگریس کی سربراہ کی مشکلوں میں اضافہ آنے والے دنوں میں  ہونا طے ہے۔  دراصل لوک سبھا الیکشن میں ٹی ایم سی کی خراب کارکردگی کے بعد ممتا بنرجی کےکونسلر، ان کے اراکین اسمبلی کوبھی اب دیدی کے طلسم اوران کے جادو پربھروسہ نہیں ہے۔ مودی کے40 اراکین والی بات سچ ہوگئی توبنگال میں ممتا بنرجی کی پہاڑجیسی مضبوط شبیہ راکھ میں تبدیل ہوجائے گی۔

Loading...