உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی کے دوران طلاق ثلاثہ بل پھرایک بار لوک سبھا میں پیش۔ دیکھیں لائیو

    لوک سبھا کا پہلا اجلاس : تین طلاق بل منظور کراناحکومت کے لئے بڑاچیلنج

    لوک سبھا کا پہلا اجلاس : تین طلاق بل منظور کراناحکومت کے لئے بڑاچیلنج

    مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد سے لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی کے دوران تین طلاق بل کو پیش کردیاہے ۔جس کے بعد اس بل پر بحث جاری ہے۔

    • Share this:
      مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد سے لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی کے دوران تین طلاق بل کو پیش کردیاہے ۔جس کے بعد اس بل پر بحث جاری ہے۔روی شنکرپرساد نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون بنتے ہیں اور پارلیمنٹ کو عدالت نہیں بنایاجاناچاہیے۔ اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ میں بات کرتے ہوئے کہاکہ طلاق ثلاثہ بل دستور ہند کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ تین طلاق سے شادی ختم نہیں ہوتی تو پھر سزاء کیسے دی جائیگی۔ واضح رہے کہ حکومت نے ستمبر2018 اور فروری 2019 میں دوبارتین طلاق بل آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوک سبھا میں یہ متنازعہ بل پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں زیرالتوا رہا ہے۔

      مسلم معاشرے میں ایک بار میں تین طلاق (طلاق بدعت) کی روایت پرروک لگانے سے متعلق نیا بل حکومت جمعہ کو لوک سبھا میں پیش کرے گی۔ لوک سبھا سے متعلق کارروائی فہرست کے مطابق مسلم خواتین شادی حقوق تحفظ بل 2019 لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ ماہ 16 ویں لوک سبھا کی مدت کارمکمل ہونے کے بعد گزشتہ بل غیرموثر ہوگیا تھا ۔ کیونکہ یہ راجیہ سبھا میں زیرالتوا تھا۔

      دراصل لوک سبھا میں کسی بل کے منظورہوجانے اورراجیہ سبھا میں اس کے زیرالتوا رہنے کی حالت میں ایوان زیریں (لوک سبھا) کے تحلیل ہونے پروہ بل غیرموثرہوجاتا ہے۔ حالانکہ طلاق ثلاثہ بل منظورکرانے کے لئے مودی حکومت پوری طرح پرعزم ہے جبکہ گزشتہ حکومت میں اس کی اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کی گئی تھی۔ وہیں باہرمسلم تنظیموں نے بھی اس پراحتجاج کیاتھا۔


      گزشتہ حکومت میں مسترد ہوگیا تھا بل

      حکومت نے ستمبر2018 اورفروری 2019 میں دو بارطلاق ثلاثہ آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوک سبھا میں اس متنازعہ بل کے منظورہونے کے بعد وہ راجیہ سبھا میں زیرالتوا رہا تھا۔ واضح رہے کہ مسلم خواتین (شادی پرحقوق تحفظ ) بل 2019 کے تحت تین طلاق کے تحت طلاق غیرقانونی اورنامنظورہے اورشوہرکو اس کے لئے تین سال تک کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
      First published: