تین طلاق بل: ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلم خواتین کو طاقت دی ہے‘‘۔

ترنم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی مسلسل کوششوں کے بعد اب تین طلاق متاثرہ خواتین کو بھی خود اعتمادی سے جینے کا موقع ملے گا۔

Jul 31, 2019 11:10 AM IST | Updated on: Jul 31, 2019 11:23 AM IST
تین طلاق بل: ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلم خواتین کو طاقت دی ہے‘‘۔

ترنم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تین طلاق بل پاس ہونے کے بعد آگرہ میں مقدمہ درج کرانے والی پہلی خاتون ہیں۔

نئی دہلی۔ ’’ تین طلاق بل راجیہ سبھا میں پاس ہونے سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آج نئی زندگی ملی ہو۔ سچ پوچھیں تو وزیر اعظم نریندر مودی نے تین طلاق پر قانون نہیں ہمیں طاقت دی ہے۔ ایسی طاقت جس کا استعمال کر ہم ان لوگوں کو سبق سکھا سکتے ہیں جو عورتوں کو پیروں کی جوتی سمجھتے ہیں‘‘۔ یہ کہنا ہے اترپردیش کے آگرہ کی رہنے والی ترنم کا۔ ترنم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تین طلاق بل پاس ہونے کے بعد آگرہ میں مقدمہ درج کرانے والی پہلی خاتون ہیں۔

ترنم کا کہنا ہے کہ تین طلاق بل پاس ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی مسلسل کوششوں کے بعد اب تین طلاق متاثرہ خواتین کو بھی خود اعتمادی سے جینے کا موقع ملے گا۔ ساتھ ہی یہ ان لوگوں کے لئے سبق بھی ہو گا جو اپنی غلطی کے لئے بھی مسلم خواتین کو فورا تین طلاق دے دیتے ہیں۔

Loading...

وہیں، ترنم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف تو وزیر اعظم مودی نے کئی سالوں تک کوشش کرنے کے بعد تین طلاق بل پاس کروایا، لیکن پولیس تین طلاق متاثرین کی مدد نہیں کرتی ہے۔ اس کے برعکس متاثرہ خواتین پر ہی دباؤ بنانے لگتی ہے۔ وہیں، اس قانون میں یہ بھی التزام ہونا چاہئے کہ متاثرہ خاتون اور اس کے بچوں کو اتنا گزارہ۔ بھتہ ملنا ہی چاہئے جس سے کہ وہ پڑھ لکھ سکے۔

ترنم کو اس کے شوہر ذکور الرحمٰن نے دوسری شادی کرنے کے بعد تین طلاق دے دی تھی۔ ساتھ ہی اسے اور اس کے بچوں کو بھی گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ ترنم نے اس کی شکایت پولیس سے کی لیکن وہاں بھی ایک بی جے پی لیڈر کی سفارش کی وجہ سے اس کی سنی نہیں گئی۔

علامتی تصویر علامتی تصویر

بالآخر، تھک ہار کر ترنم نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اس کی گہار لگائی تھی۔ اس کے بعد لکھنئو سے آئے فون کال پر ترنم کو انصاف ملا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور ملزم شوہر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

بتا دیں کہ تین طلاق بل لوک سبھا کے بعد بدھ کو راجیہ سبھا میں بھی پاس ہوگیا ہے۔ راجیہ سبھا میں بل کےحق میں 99 اورمخالفت میں 84 ووٹ پڑے۔ حالانکہ اس دوران راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت بیشتراپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ اے آئی ڈی ایم کے، وائی ایس آر کانگریس نے بھی تین طلاق سے متعلق بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دونوں ایوانوں میں تین طلاق بل پاس ہونے کے بعد اب اسے صدر جمہوریہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

Loading...