ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہند - فوجی کمانڈر مذاکرات: فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پراتفاق نہیں ہوسکا

مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر گزشتہ 6 ماہ سے بھی زیادہ وقت سے چلے آرہے تعطل کو ختم کرنے کے لئے ہند اور چین کے فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت میں بھی فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 08, 2020 01:50 PM IST
  • Share this:
ہند - فوجی کمانڈر مذاکرات: فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پراتفاق نہیں ہوسکا
فوجی کمانڈر مذاکرات: فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پراتفاق نہیں ہوسکا

نئی دہلی: مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر گزشتہ 6 ماہ سے بھی زیادہ وقت سے چلے آرہے تعطل کو ختم کرنے کے لئے ہند اور چین کے فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت میں بھی فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت ہندوستانی سرحدی علاقے چشول میں گزشتہ جمعہ کو ہوئی تھی، لیکن تقریباً 10 گھنٹوں تک چلے، اس مذاکرات کاکوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا اور یہ طے پایا کہ فریقین کے درمیان جلد ہی دوبارہ بات چیت ہوگی۔

ہند اور چین کے فوجی کمانڈروں کی بات چیت ختم ہونے کے تقریباً 48 گھنٹے بعد وزارت دفاع نے اس بارے میں مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر تناؤ اور تعطل ختم کرنے کے لئے واضح نظریہ اور تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ دونوں کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے سلسلے میں مثبت خیالات کا تبادلہ ہوا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دونوں فریق دونوں ممالک کے رہنماوں کے مابین ہوئے اہم معاہدے کو سنجیدگی کے ساتھ عمل میں لائیں گے۔ وہ یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ محاذوں پر تعینات فوجی تحمل برتیں گے۔ نیزغلط فہمی اور ناسمجھی سے اجتناب کریں گے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کا اظہارکیا کہ وہ فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت اور رابطے کو برقراررکھیں گے اور اب تک ہوئی بات چیت کی بنیاد پر زیرالتوا امور کو حل کریں گے، جس سے سرحدی علاقوں میں امن اور دوستی کی فضا قائم رہ سکے۔ دونوں فریقوں کے مابین اگلے دورکے مذاکرات جلد ہی ہوں گے۔


ہند اور چین کے فوجی کمانڈروں کی بات چیت ختم ہونے کے تقریباً 48 گھنٹے بعد وزارت دفاع نے اس بارے میں مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر تناؤ اور تعطل ختم کرنے کے لئے واضح نظریہ اور تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ فائل فوٹو
ہند اور چین کے فوجی کمانڈروں کی بات چیت ختم ہونے کے تقریباً 48 گھنٹے بعد وزارت دفاع نے اس بارے میں مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر تناؤ اور تعطل ختم کرنے کے لئے واضح نظریہ اور تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ فائل فوٹو


ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ہندوستان نے یہ واضح کردیا کہ وہ فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کی چین کی یکطرفہ تجویز سے متفق نہیں ہے۔ بات چیت میں کوئی ٹھوس اتفاق رائے قائم نہ ہونے سے یہ واضح ہوگیا کہ دونوں افواج منفی حالات میں اس علاقے میں ڈٹے رہنے کو تیار ہیں اور وہ اس کے لیے تمام تیاریاں کررہی ہیں۔ اس سے یہ تقریباً ثابت ہوگیا کہ موسم سرما کے باوجود یہ تعطل طویل ہوگا کیونکہ دونوں ہی فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ دونوں نے متنازعہ علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں فوجیوں اور ہتھیاروں کو جمع کررکھا ہے۔
اب سبھی کی نگاہیں وزیراعظم نریندرمودی اور چین کے صدر شی جن پنگ پر مرکوز ہیں۔ دونوں لیڈران رواں ماہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر ورچوول میٹنگوں میں شامل ہونے جارہے ہیں اور اس دوران ان کے درمیان کسی طرح کی بات چیت کاامکان پیدا ہوتا ہے تو اس معاملے پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔ ہندوستان نے اعلیٰ سطح پر چین کو واضح کردیا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا چاہے اس کے لئے اسے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 08, 2020 01:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading