تلنگانہ : 12 فیصد مسلم ریزرویشن کے فراہمی کے وعدے پرکے سی آرکے رویہ میں تبدیلی؟

ریاست میں12 فیصد مسلم ریزرویشن سپریم کورٹ کو جانے کی بات کرنے والے کے سی آر اب دوبارہ اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے کی کیوں کررہے ہیں یقین دہانی؟

Sep 22, 2019 04:15 PM IST | Updated on: Sep 22, 2019 04:32 PM IST
تلنگانہ : 12 فیصد مسلم ریزرویشن کے فراہمی کے وعدے پرکے سی آرکے رویہ میں تبدیلی؟

تلنگانہ : 12 فیصد مسلم ریزرویشن کے فراہمی کے وعدے پرکے سی آرکے رویہ میں تبدیلی؟۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے تلنگانہ کی تشکیل سے قبل تلنگانہ میں مسلمانوں کو12فیصد ریزرویشن کی فراہمی کا وعدہ کیاتھا۔ تاہم اب کے چندر شیکھرراؤ 12 فیصد مسلم ریزرویشن کی فراہمی کے معاملے پراپنا موقف تبدیل کرتے نظرآرہے ہیں۔آج انہوں نے تلنگانہ قانون سازاسمبلی کے آخری دن ایوان میں دیئے گئے بیان میں ریاست کے اقلیتوں کے لئے ریزرویشن کے مسئلہ پربھی کھل کراظہارخیال کیا کیونکہ ریزرویشن پر عمل نہ کرنے پراقلیتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔انہوں نے اس مسئلہ پر کہا کہ مسلمانوں کوریزرویشن کے بارے میں دوبارہ غورکی ضرورت نہیں ہے، ان کی حکومت اس خصوص میں سنجیدہ ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت اقلیتوں کوریزرویشن پر کافی سست رفتاری کے ساتھ کام کررہی ہے۔

تاہم ماضی میں وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ مسلمانوں کو 12 فیصد ریزوریشن کی فراہمی کے لیے سپریم کورٹ جانے کی دھمکی دیا کرتے تھے۔کے سی آر نے کئی مرتبہ تلنگانہ قانون سازاسمبلی اور کونسل میں کہا کہ مسلم ریزوریشن کی فراہمی کے لیے دستور ہندکی شیڈول 9 میں ترمیم کرانے کے لیے وہ جدوجہد کرینگے، اورضرورت پڑنے پرسپریم کورٹ سے رجوع ہونگے۔اتناہی نہیں کے سی آر نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلم ریزرویشن کے حصول کے لیے دہلی کے جنترمنترپردھرنا دیاجائیگا اور ضرورت پڑنے پرریاست تلنگانہ کے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹی وفد وزیراعظم اورصدر جمہوریہ سے نمائندگی کریگا۔

گذشتہ سال ڈسمبر2018 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات تک انہیں جملوں کے ذریعہ سبزباغ دکھایا اورمسلم ریزرویشن پردوبارہ قرارداد اسمبلی میں منظورکرانے کی بات کررہے ہیں۔ کے سی آر کے بیان پرتلنگانہ کے مسلمانوں کا کہناہے کہ پہلی مرتبہ قرارداد پیش کرنے میں کے سی آرحکومت کوتین سال سے زیادہ وقت لگ گیاتھا لیکن اب تقریباً6 سال بھی مسلمانوں کو12 فیصد ریزرویشن نہیں ملا۔ اب دوبارہ قرارداد منظور کروانے کے لیے آئندہ 5 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتاہے ؟

Loading...

واضح رہے کہ حال ہی میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ایس کیو مسعود نے قانون حق معلومات کے تحت تلنگانہ حکومت سے سوال کیاتھا کہ مسلم ریزرویشن پرمرکزی حکومت نے کیا جواب دیاہے؟۔ تاہم تلنگانہ حکومت سے سوال کا جواب دینے سے انکار کردیاتھا۔ تاہم آج تلنگانہ اسمبلی میں رکن اسمبلی معظم خان کے سوال پرکے سی آر نے جواب دیاہے لیکن اس جواب سے مسلمانوں کی ناراضگی دور ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔

این آرسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں : کے سی آر

این آر سی کے نفاذ کے سلسلہ میں لوگوں میں پائے جانے والے خدشات اور شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے آج دوٹوک انداز میں واضح کردیا کہ ریاستی حکومت این آر سی پر عمل کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی اور حکومت کو این آر سی سے متعلق مرکز سے کوئی بھی احکام موصول نہیں ہوئے ہیں۔آج انہوں نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے آخری دن ایوان میں دیئے گئے بیان میں انہوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت ریاست کے ہرشہری کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریگی اور این آرسی کو لیکر کسی کو بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ این آرسی کے متعلق کوئی بھی ہدایت مرکزی حکومت سے جاری کی جاتی ہے تو اس سے ایوان کوواقف کروایاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ این آرسی کے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ٹی آرایس حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے رائے بھی حاصل کریگی

Loading...