உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UNمیں ہندوستان کا کرارا جواب، کہا-رواداری اور جامع طرز عمل ہمارا کردار، یہودی، پارسی، تبتی ہم نے سبھی کو اپنایا

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی۔

    ترومورتی نے کہا، پڑوسی ممالک سے آئے لوگوں کے ساتھ بھی ہندوستان نے ہمیشہ بھائی چارے والا رُخ اپنایا ہے۔ یہی ہمارے ملک کی طاقت ہے۔ اسی طاقت کے زور پر وہ لمبے عرصے سے مزہبی شدت پسندی اور دہشت گردی سے مقابلہ کررہا ہے۔

    • Share this:
      اقوام متحدہ: ہندوستان کا کردار رواداری اور جامع طرز عمل کو فروغ دینا ہے۔ اگر کوئی اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے اور ماحول کو خراب کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے دائرے میں کارروائی کی جاتی ہے۔ اس لیے باہر کے لوگوں کو حقارت آمیز رویہ اختیار کرنے اور بعض واقعات پر شدید ردعمل کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں۔ مذہبی معاملات میں دوہرا معیار نہیں اپنایا جانا چاہیئے۔

      اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے یہ بات نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام کے عالمی دن کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد ایک تقریب میں کہی۔ ترومورتی نے یہ بات بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرہ کے خلاف ایک درجن مسلم ممالک کے احتجاج کے بعد کہی ہے۔

      مستقل نمائندے ترومورتی نے کہا کہ، ہندوستان ایک کثیر الثقافتی نظام والا ملک ہے۔ یہ نظام ملک میں سینکڑوں سالوں سے رائج ہے۔ ہندوستان ان تمام لوگوں کو محفوظ پناہ دیتا ہے جنہیں دنیا بھر میں ہراساں اور پریشان کیا گیا ہے۔ چاہے وہ یہودی ہوں یا پارسی یا تبتی۔ ہندوستان میں سب کو محفوظ مقام اور عزت ملی ہے اور مل رہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      European Union Membership:یوکرین اور مالدووا کوEUمیں شامل کرنے پر ہوا اتفاق

      یہ بھی پڑھیں:
      India Indonesia:جئے شنکر اور مارسوڈی نے کی ہند-انڈونیشیا سفارتی تعلقات کی جائزہ میٹنگ

      ترومورتی نے کہا، پڑوسی ممالک سے آئے لوگوں کے ساتھ بھی ہندوستان نے ہمیشہ بھائی چارے والا رُخ اپنایا ہے۔ یہی ہمارے ملک کی طاقت ہے۔ اسی طاقت کے زور پر وہ لمبے عرصے سے مزہبی شدت پسندی اور دہشت گردی سے مقابلہ کررہا ہے۔ مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کو مسترد کرنا ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ ایسا ہم رواداری اور جامع طرز عمل کی وجہ سے ہی کرپائے ہیں۔ پروگرام کا انعقاد مراقش اور اقوام متحدہ کے نسل کشی کی روک تھام کے لئے بنے دفتر نے کیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: