تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کے احتجاج میں شدت، آرٹی سی جے اے سی کی گورنرسے ملاقات

تلنگانہ آرٹی سی کے ہڑتالی ورکرس کی جے اے سی کے لیڈروں نے آج ریاست کی گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن سے راج بھون میں ملاقات کی اور ان کو ایک میمورنڈم حوالے کیا۔ملازمین کے وفد نے آرٹی سی کے دو ملازمین کی خودکشی اور حکومت کے معاندانہ رویہ کے خلاف شکایت کی۔

Oct 14, 2019 02:59 PM IST | Updated on: Oct 14, 2019 03:02 PM IST
تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کے احتجاج میں شدت، آرٹی سی جے اے سی کی گورنرسے ملاقات

تلنگانہ آرٹی سی کے ہڑتالی ورکرس کی جے اے سی کے لیڈروں نے آج ریاست کی گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن سے راج بھون میں ملاقات کی اور ان کو ایک میمورنڈم حوالے کیا۔ملازمین کے وفد نے آرٹی سی کے دو ملازمین کی خودکشی اور حکومت کے معاندانہ رویہ کے خلاف شکایت کی۔ہڑتالی ملازمین نے گورنر سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ وہیں دوسری جانب تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس نے ہڑتالی ٹی ایس آرٹی سی یونینوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ہڑتال ختم کردیں اور آرٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کے مطالبہ کے سوا دیگر تمام مطالبات پر حکومت سے بات چیت کریں۔اپنے بیان میں ٹی آرایس کے سکریٹری جنرل کے کیشوراؤ نے تمام آرٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے چلے جانے سے پہلے اپنی ہڑتال کو ختم کریں اور حکومت سے ان کے جائز مسائل اور مطالبات پر بات چیت کی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ٹی آرایس حکومت آرٹی سی کے ملازمین کے مسائل پر ہمیشہ توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔آرٹی سی کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کی خودکشی کا حوالہ دیتے ہوئے کیشوراؤ نے کہا کہ ان کو ہڑتالی ملازمین میں سے دو کے انتہائی اقدام پر گہرا دکھ ہوا ہے۔خودسوزی یا خودکشی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے 16فیصد عبوری راحت کے علاوہ تنخواہوں میں 44فیصد اضافہ کیا ہے۔وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کا یہ بیان کا آرٹی سی کی نجی کاری نہیں کی جائے گی، کافی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی آرایس کی 2018کی منشور کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ ریاستی حکومت میں آرٹی سی کو ضم کرنے پر پارٹی نے غور کا کوئی وقت نہیں دیا ہے۔ کیشوراؤ نے کہاکہ ریاستی حکومت کے ملازمین اور عوامی اداروں میں کافی فرق ہے۔حکومت کوئی تجارتی ادارہ نہیں ہے۔

 تلنگانہ آرٹی سی ورکرس کی ہڑتال میں مزید شدت تلنگانہ آرٹی سی ورکرس کی ہڑتال میں مزید شدت

Loading...

ادھر حکومت میں آرٹی سی کو ضم کرنے کے اصل مطالبہ کے ساتھ ہڑتال کرنے والے تلنگانہ آرٹی سی ورکرس کی ہڑتال میں مزید شدت پیداکرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔آرٹی سی کے ہڑتالی ورکرس نے ان کے مطالبات کو قبول کرنے پر زوردیتے ہوئے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ ڈپوزکے باہر دھرنادیا اورآرٹی سی کو بچانے کامطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ان ورکرس نے اپنے ساتھی ورکرس پر زور دیا کہ وہ اپنی جان کی قربانی نہ دیں۔ جے اے سی کے لیڈروں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جدوجہد کے ذریعہ مطالبات کو منوایاجائے گا۔اسی دوران ضلع کھمم میں بند پُرامن طور پرجاری ہے۔ڈرائیور سرینواس کی خودسوزی پر اس کو خراج پیش کرنے کے لئے آرٹی سی جے اے سی کی اپیل پر سیاسی جماعتوں، مختلف تنظیموں کی جانب سے بند منایاگیا۔

جے اے سی کے بند کی حمایت تلگودیشم، تلنگانہ جناسمیتی،سی پی آئی، سی پی ایم سمیت مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے کی گئی۔رنگاریڈی ضلع کے ابراہیم پٹنم بس ڈپو کے سامنے ورکرس کی تنظیموں کے لیڈروں نے احتجاج کیا۔کارنگریس کے رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے دھرنے کی حمایت کی۔ساتھ ہی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرنے والی طلبہ تنظیموں نے حیدرآباد کے بس بھون کے محاصرہ کی کوشش کی۔ان کو پولیس نے گرفتارکرلیا۔ورنگل کے ڈپو نمبرایک میں بھی ورکرس نے احتجاج کیا۔انہوں نے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ مل کر ڈپو کے سامنے دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ان ہڑتالی ورکرس کے احتجاج میں ان کے بچے بھی شامل ہوئے جن کے ہاتھوں میں مطالبات کی حمایت میں پلے کارڈس تھے۔سکندرآباد کے مشیر آباد میں بھی ڈپو کے سامنے ورکرس نے احتجاج کیا۔کارکنوں نے انتباہ دیا کہ آئندہ دنوں کے دوران ہڑتال میں مزید شدت پیداکی جائے گی۔مُلگ ضلع میں آرٹی سی ملازمین نے دھرنا دیا اور بسوں کو ڈپو سے باہر آنے سے روک دیا۔مقامی رکن اسمبلی سیتکا نے ہڑتالی ملازمین سے یگانگت کا اظہار کیا۔

تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس نے ہڑتالی ٹی ایس آرٹی سی یونینوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ہڑتال ختم کردیں تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس نے ہڑتالی ٹی ایس آرٹی سی یونینوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ہڑتال ختم کردیں

عثمانیہ یونیورسٹی : طلبا کا احتجاجی مظاہرہ 

دوسری جانب شہرحیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی حمایت ہے۔اس ہڑتال میں شدت پیدا ہونے کے پیش نظر وزرا کی قیام گاہوں کے محاصرہ کیلئے طلبہ تنظیموں کے لیڈران یونیورسٹی سے روانہ ہوئے تاہم پولیس نے ان کو حراست میں لے لیا۔اس موقع پر احتجاجی طلبہ اور پولیس کے درمیان بحث وتکرارہوگئی۔طلبہ نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔صورتحال کو قابو میں کرنے میں پولیس کو دشواری کا سامنا کرناپڑا۔اس احتجاج کے سبب کچھ دیر کے لئے حالات کشیدہ ہوگئے۔

ہڑتالی ملازمین کو کانگریس کی حمایت

کانگریس پارٹی نے تلنگانہ آرٹی سی ورکرس کی ہڑتال کی مکمل حمایت کی ہے۔رکن اسمبلی پی ویرئیا نے آج بھدراچلم ڈپو کا معائنہ کیا اور ہڑتالی ملازمین کے ساتھ بات چیت کی۔انہوں نے ہڑتالی ملازمین کے ساتھ یگانگت کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے جے اے سی کے لیڈروں اورآرٹی سی ورکرس کے ساتھ احتجاجی پروگرام میں حصہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے ملازمت کے چلے جانے کے خوف سے مایوسی کے عالم میں خودسوزی کرنے والے ڈرائیور سرینواس ریڈی کو بھی خراج پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ ڈکٹیٹر کے طورپر رویہ اختیار کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلی ہی ڈرائیور سرینواس ریڈی کی موت کے لئے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے آرٹی سی ورکرس کی ہڑتال کے پیش نظر وزیر ٹرانسپورٹ پواڈا اجئے کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ساتھ ہی آرٹی سی کے مسائل کی یکسوئی پر بھی زور دیا۔

تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال (تصویر:نیوز18تلگو)۔ تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال (تصویر:نیوز18تلگو)۔

کھمم ضلع میں منایاگیا بند

تلنگانہ آرٹی سی ورکرس کی ہڑتال 10ویں دن میں داخل ہوگئی۔اس ہڑتال کے پیش نظر ڈرائیور سرینواس ریڈی کی خودسوزی کے بعد تلنگانہ آرٹی ورکرس کی جے اے سی کی اپیل پر متحدہ کھمم ضلع میں بند منایاگیا۔کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، نیوڈیموکریسی، ٹی جے ایس اور عوامی نمائندوں نے اس بند کی حمایت کی ہے۔متحدہ کھمم ضلع کے حدود کے 6ڈپوز سے بسوں کو باہر آنے سے روک دیاگیا۔آرٹی سی کے ہڑتالی ملازمین اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے دھرنادیا۔بند کے پیش نظر پولیس کا بھاری بندوبست ضلع میں دیکھا گیا۔ضلع کے سرحدی علاقوں میں بھی چیک پوسٹ بنائے گئے ہیں۔وزیر ٹرانسپورٹ پواڈا اجئے کمار کے گھر کے قریب بھی سیکوریٹی سخت کردی گئی۔بند کو کامیاب بنانے کے لئے کوتہ گوڑم ضلع کے بس اسٹینڈ سنٹر سے لکشمی دیوی پلی تک کل جماعتی لیڈروں نے بائیک ریلی نکالی۔پالیرو حلقہ میں تجارتی ادارے بند رہے۔بند کے پیش نظر ستوپلی میں آرٹی سی ڈپوز کے قریب احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔اس بند کے موقع پر دکانات، تجارتی ادارے اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ساتھ ہی سوریہ پیٹ ضلع میں بھی ڈپو کے باہر ہڑتالی ورکرس نے دھرنا دیاجن کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس نے احتجاجی کانگریس اور بائیں بازو کے لیڈروں کو بھی حراست میں لے لیا۔گرفتارشدگان کو پولیس اسٹیشن منتقل کیاگیا جہاں پر کانگریس کے کارکنوں نے دھرنادیا۔اسی دوران ہڑتالی ملازمین نے 15اکتوبر کو راستہ روکو احتجاج،انسانی زنجیر بنانے،16اکتوبر کو ریلیاں نکالنے،17اکتوبر کو دھوم دھام پروگرام منعقد کرنے،18اکتوبر کو بائیک ریلی نکالنے 19اکتوبر کو ریاست بند کا اعلان کیا ہے

Loading...