تلنگانہ : آرٹی سی ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ،جے اے سی لیڈروں کی گرفتاری

تلنگانہ میں کےسی آر حکومت نے سخت فیصلہ لیاہے۔ ریاستی حکومت نے آرٹی سی کے48ہزارملازمین کو خدمات سے برطرف کردیاہے۔سی ایم ہاؤس پراگتی بھون میں میں ہوئی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاہے۔

Oct 07, 2019 01:45 PM IST | Updated on: Oct 07, 2019 01:45 PM IST
تلنگانہ : آرٹی سی ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ،جے اے سی لیڈروں کی گرفتاری

تلنگانہ : آرٹی سی ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ،جے اے سی لیڈروں کی گرفتاری۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کاآج تیسرادن ہے۔ حیدر آباد سمیت پور ے تلنگانہ میں ہڑتال کا غیرمعمولی اثرہے۔ہڑتال کی وجہ سےمسافروں کوبڑی مشکلات کاسامناہے۔ تہواروں اورچھٹیوں کےموسم میں مسافروں کی مزید مشکلیں بڑھ گئیں ہیں۔اس بیچ تلنگانہ میں کےسی آر حکومت نے سخت فیصلہ لیاہے۔ ریاستی حکومت نے آرٹی سی کے48ہزارملازمین کو خدمات سے برطرف کردیاہے۔سی ایم ہاؤس پراگتی بھون میں میں ہوئی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاہے۔

جس کے بعد حکومت نے نئے ملازمین کی تقرری کی ہدایت جاری کردی ہے۔ یادرہے کہ حکومت نے ہڑتال پرجانے والے ملازمین وارننگ دیتے ہوئے انہیں سنیچرشام 6 بجے تک ملازمت پررجوع ہونے کے لیے کہا تھا۔تاہم صرف 1200 ملازمین ہی کام پرواپس لوٹے۔وزیراعلیٰ کےسی آرنےآرٹی سی میں نئے ملازمین کی فوری تقرری کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔سی ایم نےکہاہےکہ آرٹی سی میں نئی تقرری کےدوران درخواست گزاروں سےگارنٹی لی جائےگی کہ وہ نوکری کےدوران کسی بھی یونین کاحصہ نہیں بنیں گے۔۔

Loading...

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راو: فائل فوٹو

آرٹی سی ملازمین کی مانگ تھی کہ آرٹی سی کوریاستی حکومت میں ضم کرلیاجائے۔ یعنی اسےکارپوریشن کی جگہ سرکاری محکمہ بنایا جائے۔آرٹی سی ملازمین کی تنخواہ بڑھائی جائے دراصل 5 اکتوبرکومنیجنگ ڈائریکٹرسنیل شرمانےہڑتال کوغیرقانونی بتایاتھا۔سنیل شرمانے متنبہ کیاتھا کہ ہڑتالی ملازمین نوکری سےنکال دیے جائیں گے۔وہیں وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ کا کہناہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن 40سال سےمشکل میں ہے اور اسی پریشانیوں کا فائدہ اٹھاکرملازمین یونینیں حکومت کو بلیک میل کررہی ہے۔ کے سی آر کا مانناہے کہ آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال غیرقانونی ہے۔حکام کے مطابق آرٹی سی میں ملازمین کواوسطاً50ہزارروپئے تنخواہ مل رہی ہے۔جبکہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی حالت خستہ ہے۔روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن 1200کروڑروپئے خسارے میں ہےاور5000کروڑکاقرض دار ہے

ٹرانسپورٹ نظام کی نئی صورت گری کے لیے جبکہ تلنگانہ حکومت نے نےسنیل شرماکوذمہ داری دی۔سنیل شرماکی صدارت میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی۔15دن کےاندرحالات کومعمول پرلانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ کا کہناہے کہ تلنگانہ حکومت کارپوریشن کے بجائے خانگی بسوں کو چلانے پرغورکریگی۔ کے سی آر کا کہناہے کہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اورجھارکھنڈ میں ریاستی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشنس ہی نہیں ہے۔ اس طرح پراب تلنگانہ میں خانگی بس سروس کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہم آپ کوبتادیں کہ اس وقت تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے49 ہزار3 سو40 ملازمین ہیں۔اورکانٹریکٹ ورکروں میں سے صرف1200 ہی بچےہیں۔

تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کاآج تیسرادن۔(تصویر:نیوز18تلگو)۔ تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کاآج تیسرادن۔(تصویر:نیوز18تلگو)۔

دراصل آندھرپردیش میں جگن موہن ریڈی نےاسٹیٹ روڈٹرانسپورٹ کوحکومت میں ضم کرلیاہے۔ایسے میں تلنگانہ میں بھی آرٹی سی کےملازمین کی امیدوں کوپنکھ لگ گئے تھے۔لیکن انہیں کیاپتہ تھا کہ انکےپنکھ کتردیے جائیں گے۔حکومت کے فیصلہ کے خلاف آرٹی سی ملازمین نے مخالفت کرتے ہوئے احتجاج میں شدت پیداکرنے کی دھمکی دی ہے۔ وہیں یہ بھی کہاکہ جارہاہے کہ تہواروں کے اختتام کے بعد دیگرملازمین تنظیمیں اور اساتذہ تنظیمیں بھی آرٹی سی ملازمین کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کرسکتے ہیں۔

تلنگانہ آرٹی سی کی جے اے سی کے لیڈران گرفتار

تلنگانہ آرٹی سی کی جے اے سی کے صدرنشین اشواتھاما ریڈی اور جے اے سی لیڈر راجی ریڈی کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔یہ لیڈران، تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی یاد میں بنائے گئے یادگار شہیداں پر خراج کے لئے پہنچے تھے۔اس گرفتاری پر ان لیڈران نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اسے المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو زبردستی طورپر گرفتار کیاگیا ہے۔اسمبلی کے سامنے اس گن پارک پر خراج کے لئے آرٹی سی ملازمین کی بڑی تعداد کے پہنچنے پر کشیدہ صورتحال دیکھی گئی۔گن پارک کے قریب پہنچنے والے جے اے سی کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔اس گرفتاری پر کارکنوں نے پولیس پر برہمی ظاہر کی۔قبل ازیں آرٹی سی ورکرس نے ان کے مطالبات کی تکمیل کے لئے آج سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم یہ ہڑتال ملتوی کردی گئی۔پولیس کی جانب سے اس کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب ہی یہ بھوک ہڑتال ملتوی کی گئی۔

Loading...