உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیکولر آئین کے خواہاں ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو مستعفی

    انقرہ۔ ابھی پچھلے ہفتے اس اعلان کے بعد کہ نیا ترک آئین سیکولر اصولوں کا پاسدار ہوگا ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے وزارت عظمیٰ اور حکمران جماعت اے کے پی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

    انقرہ۔ ابھی پچھلے ہفتے اس اعلان کے بعد کہ نیا ترک آئین سیکولر اصولوں کا پاسدار ہوگا ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے وزارت عظمیٰ اور حکمران جماعت اے کے پی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      انقرہ۔ ابھی پچھلے ہفتے اس اعلان کے بعد کہ نیا ترک آئین سیکولر اصولوں کا پاسدار ہوگا ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے  وزارت عظمیٰ اور حکمران جماعت اے کے پی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر داؤد اوغلو بہت سے معاملات میں آزادانہ فیصلے کرنا چاہتے تھے، جو ان کے مستعفی ہونے کا سبب بنے۔
      ترک میڈیا کے مطابق صدر اور وزیراعظم کے مابین سب سے پہلے اختلاف کرد عسکریت پسندوں کے معاملے پر ہوا۔ وزیراعظم چاہتے تھے کہ کردوں کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے۔ علاوہ ازیں اردگان ملک میں صدارتی نظام کے حق میں ہیں لیکن اس معاملے میں انہیں وزیراعظم کی مکمل حمایت حاصل نہیں۔ اس طرح اقتدار پر ترک صدر رجب طیب اردگان کی گرفت مزید مستحکم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ترک صدر اوروزیر اعظم کے درمیان اختلافات کی خبریں گزشتہ کئی مہینوں سے گردش کر رہی تھیں تاہم یہ اختلافات کل اس وقت کھل کر سامنے آ گئے، جب دونوں رہنماؤں کے درمیان انقرہ میں صدارتی محل میں ہنگامی بات چیت ہوئی اور دونوں کسی بھی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔


      برسر اقتدار جماعت اے کے پی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد مسٹر داؤد اوغلو نے کہا کہ حکمران جماعت کے آئندہ غیر معمولی اجلاس میں جو 22 مئی کو ہوگا وہ پارٹی کے قیادت کے امیدوار نہیں ہوں گے۔ مسٹر اوغلو دو سال قبل اردگان کی جگہ پارٹی کے قائد بنائے گئے تھے باوجودیکہ حکومت اور پارٹی دونوں کی گرفت اردگان کے ہی ہاتھ میں تھی۔ گزشتہ ہفتے اے کے پی نے پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم کے اختیارات میں کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ مسٹرداؤد اوغلو نے بہر حال عندیہ دیا ہے کہ وہ جماعت کی رکنیت سے مستعفی نہیں ہوں گے بلکہ جماعت میں رہتے ہوئے ہی وہ قانون سازی کی کوشش کرتے رہیں گے۔ سن 2014 میں ترک صدر ہی نے مسٹر اوغلو کو وزیراعظم اور پارٹی کا سربراہ چُنا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سابق پروفیسر، سابق وزیر خارجہ اور ایردوآن کے مشیر داؤد اولو بہت سے معاملات میں آزادانہ فیصلے کرنا چاہتے تھے، جو ان کے مستعفی ہونے کا سبب بنے۔

      First published: