تلنگانہ حکومت کے جی او239کو چیلنج :ٹی یوڈبلیوجے یوتلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع

عرضیاں ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے قبول،اردو صحافیوں سے انصاف پر زور

Jun 20, 2019 06:23 PM IST | Updated on: Jun 20, 2019 06:29 PM IST
تلنگانہ حکومت کے جی او239کو چیلنج :ٹی یوڈبلیوجے یوتلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع

تلنگانہ ہائی کورٹ۔(تصویر:فائل)۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے کے سی آر حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او 239کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ عرضی کو سماعت کے لئے قبول کرلیا۔ یہ عرضی تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین کی جانب سے داخل کی گئی ہے جس کو چیف جسٹس رگھویندرسنگھ چوہان اور جسٹس شمیم اختر پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سماعت کے لئے قبول کرلیا۔ یونین کے وکیل نے اس جی او کو کالعدم قرار دینے اور اکریڈیشین کارڈس کی اجرائی میں تلگو میڈیا کے ساتھ ساتھ اردو میڈیا سے مساوی سلوک کرنے کی حکومت کو ہدایت دینے کی عدالت سے استدعا کی۔

ٹی یوڈبلیوجے یو کا کہناہے کہ اس جی او کے ذریعہ دانستہ طور پر اردوصافحت کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ یونین کی جانب سے 2017سے کئی مرتبہ اس خصوص میں وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ کے علاوہ کئی وزراء اور کمشنر اطلاعات سے بھی نمائندگی کی گئی اس کے باوجود ان نمائندگیوں کو نظرانداز کیا گیا۔ یونین کی جانب سے دو عرضیاں عدالت میں داخل کی گئیں۔ پہلی عرضی میں جی او239 کو کالعدم قرار دینے اور دوسری عرضی میں تلگو کے ساتھ ساتھ اردو میڈیا سے مساوی سلوک پرزور دیا گیا۔

Loading...

ٹی یوڈبلیوجے یو کے نمائندوں نے یواین آئی کو بتایاہے کہ اس امتیازی سلوک کی وجہ سے اردو کے سینکڑوں صحافیوں کے خاندان ہیلت کارڈس‘ بچوں کی فیس کے لئے حکومت کی جانب سے دی جارہی سہولتوں اور دیگر مراعات سے محروم ہیں۔ کیونکہ یہ مراعات اکریڈیشن کی بنیاد پردی جارہی ہیں اوراکریڈیشن کا مطلب حکومت کی طرف سے صحافی کو مسلمہ حیثیت دیا جانا ہے۔

یونین کے ذمہ داروں نے کہا کہ اس جی او میں اردو صحافیوں سے انصاف کیلئے متعدد مرتبہ نمائندگی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس جی او میں بنائے گئے میڈیا قواعد میں زبان کی بنیاد پرزمرہ بندی کی گئی۔ لسانی بنیادوں پراردو سے امتیازی سلوک کیا گیا۔ انہوں نے کہا اس جی او کے قواعد کے مطابق میڈیا کے الگ الگ زمرے بنائے گئے۔جس میں تلگواخبارات کا ایک بڑا‘ دوسرا متوسط اور تیسری چھوٹا زمرہ بنایا گیا جبکہ اردو اخبارات لیے کے صرف دو زمرے بنائے گئے۔

ٹی یو ڈبلیو جے یوکے نمائندے کمشنرمحکمہ تعلقات عامہ سے نمائندگی کرتے ہوئے۔(تصویر:فائل)۔ ٹی یو ڈبلیو جے یوکے نمائندے کمشنرمحکمہ تعلقات عامہ سے نمائندگی کرتے ہوئے۔(تصویر:فائل)۔

تلگو کے ہر بڑے اخبار کو 1000سے زائد اکریڈیشن کارڈس جاری کئے جارہے ہیں۔ جبکہ اردو کے ایک اخبار کے لئے ریاستی سطح پرصرف233کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ اس جی او میں منڈل کی سطح پر اردو صحافیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ جبکہ متحدہ آندھراپردیش میں جاری کردہ جی او96میں لسانی بنیادوں پر کی گئی زمرہ بندی میں اردو سے انصاف کیا گیاتھا اورمنڈل کی سطح پربھی اردو صحافیوں کواکریڈیشن کارڈس دیئے جارہے تھے تاہم اس نئے جی او سے اردو کے صحافیوں اور تلگو کے صحافیوں میں ہراخبار میں 800اکریڈیشن کارڈس کا فرق ہوگیا ہے۔اس طرح اردو صحافیوں سے اکریڈیشنس کی اجرائی میں ناانصافی کی جارہی ہے۔

سٹلائٹس چیانلس میں بھی زبان کی بنیاد پرزمرہ بندی کی گئی۔ تلنگانہ تلگو چیانلس اور ملٹی اسٹیٹ تلگوچیانلس کی زمرہ بندی بنائی گئی۔ تلنگانہ تلگو چیانلس کو ریاستی سطح پر 295اکریڈیشن کارڈس جاری کئے جارہے ہیں جبکہ تلنگانہ اردو چیانلس کوریاستی سطح پر صرف78اکریڈیشن کارڈس جاری کئے جارہے ہیں۔ اردو کو ملٹی اسٹیٹ اور قومی سطح کی زمرہ بندی میں بھی شامل نہیں کیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگو سٹلائٹس چیانلس کو ریاستی سطح پر12رپورٹرس‘12کیمرے مین‘12ڈسک جرنلسٹ اور کلچرل رپورٹر کو بھی ایکریڈیشن دیا جارہا ہے۔

ٹی یو ڈبلیو جے یوکے نمائندے کمشنرمحکمہ تعلقات عامہ سے نمائندگی کرتے ہوئے۔(تصویر:فائل)۔ ٹی یو ڈبلیو جے یوکے نمائندے کمشنرمحکمہ تعلقات عامہ سے نمائندگی کرتے ہوئے۔(تصویر:فائل)۔

ٹی یو ڈبلیو جے یو نے اس ناانصافی کے خلاف داخل کردہ عرضیوں کو عدالت کی جانب سے سماعت کے لئے قبول کئے جانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالت اردو صحافیوں سے انصاف کرے گی۔ تنظیم کے نمائندوں نے نشاندہی کی کہ پہلی مرتبہ اردو والوں کے مسائل کے حل کے لئے مختلف سطحوں پر نمائندگی کی گئی جہاں سے ناانصافی پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔انہوں نے کہاکہ جب تک انصاف نہیں مل جاتا قانونی جدوجہد جاری رہے گی اور آئندہ کی حکمت عملی بھی تیار کی جائے گی۔

TUWJU

Loading...