உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد میں بین المذاہب شادی قتل کیس میں 2 ملزمان گرفتار، فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت کی سفارش

    دوسرے مذہب میں شادی کرنے پر ملی موت!

    دوسرے مذہب میں شادی کرنے پر ملی موت!

    کالج میں پڑھنے کے دوران ان دونوں کی دوستی ہو گئی تھی۔ لڑکی کے گھر والوں کے اعتراض کے باوجود دونوں نے رواں سال جنوری میں شادی کر لی تھی۔ شادی کے بعد سلطانہ نے اپنا نام بدل کر پلوی رکھ لیا تھا۔

    • Share this:
      حیدرآباد: حیدرآباد کی سرو نگر پولیس نے جمعرات کو بلی پورم ناگراجو کے قتل کی ملزمہ عشرین سلطانہ عرف پلوی کے دو رشتہ داروں کو گرفتار کرلیاہے۔ ملزمین کی شناخت عشرین سلطانہ کے بھائی سید مبین احمد اور محمد مسعود احمد کے نام سے ہوئی ہے۔

      شادی سے ناراض بھائیوں نے کی آنر کلنگ
      سرور نگر پولس کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق، دونوں ملزمین کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں لے کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 302، ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اس کیس کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ میں درخواست دینے کی بات کر رہی ہے۔ تاکہ کیس کے ملزمان کو جلد سزا مل سکے۔

      سرعام سڑک پر قتل کی واردات دی تھی انجام
      قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک 25 سالہ ہندو دلت نوجوان، جس نے تلنگانہ میں ایک مسلم لڑکی سے شادی کی، اس کے مسلمان بہنوئی (سید مبین احمد) نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اسے زمین پر گھسیٹا گیا اور ڈنڈے سے مارا پیٹا۔ اس پر چاقو سے کئی وار کیے گئے۔ نوجوان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لڑکی کا بھائی اپنی بہن کی ہندو نوجوان سے شادی کے سخت خلاف تھا۔

      قتل میں پانچ لوگوں کے شامل ہونے کا شک
      پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی رات شہر کے ایل بی نگر علاقے میں پیش آیا۔ بلا پورم ناگ راجو نامی ایک دلت نوجوان اپنی بیوی عشرین سلطانہ کے ساتھ بائک پر کہیں جا رہا تھا کہ اسکوٹر پر سوار دو ملزمان (سید مبین احمد اور محمد مسعود احمد) وہاں پہنچے اور انہیں روک لیا۔ اس کے بعد ناگ راجو پر کھلے عام اور بے رحمی سے حملہ کیا گیا۔ اسے سڑک پر گھسیٹا گیا۔ اسے ڈنڈے سے مارا گیا۔ اتنے پر بھی ملزمین نے بس نہیں کیا۔ اس پر چاقو سے کئی وار بھی کیے گئے۔ ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ خاتون کا بھائی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن دوسرے مذہب کے نوجوان سے شادی کرے، اس لیے اس نے نوجوان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مقتول کی بیوی نے کہا، 'پانچ حملہ آوروں نے میرے شوہر پر سڑک پر حملہ کیا۔ نوجوان کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی بہو کا بھائی شادی کے خلاف تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کانپور کے اسلامیہ مدرسے کو غیر قانونی بتاتے ہوئے چلایا گیا بلڈوزر، روکتے رہ گئے لوگ

      یہ بھی پڑھیں:
      Lalitpur Rape Case، کس کی ذمے داری ہوگی جب حفاظت کرنے والے ہی بن جائیں درندے؟

      کالج میں ہوا تھا پیار!
      کالج میں پڑھنے کے دوران ان دونوں کی دوستی ہو گئی تھی۔ لڑکی کے گھر والوں کے اعتراض کے باوجود دونوں نے رواں سال جنوری میں شادی کر لی تھی۔ شادی کے بعد سلطانہ نے اپنا نام بدل کر پلوی رکھ لیا تھا۔ اے این آئی کے مطابق، متوفی کی بہن رمادیوی نے کہا، "شادی کے بعد سے، میرے بھائی کو لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اس سلسلے میں مومن پیٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت کی گئی لیکن پولیس نے کوئی توجہ نہیں دی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: