ہوم » نیوز » وطن نامہ

Indo-Pak Talks: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈھائی سال بعد آج سے شروع ہوگی انڈس واٹر کمیشن کی میٹنگ

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان Permanent Indus Commission ( پی آئی سی) کی میٹنگ آج سے شروع ہوگی اور اس کیلئے پاکستان کی ٹیم ہندوستان پہنچ گئی ہے ۔

  • Share this:
Indo-Pak Talks: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈھائی سال بعد آج سے شروع ہوگی انڈس واٹر کمیشن کی میٹنگ
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈھائی سال بعد آج سے شروع ہوگی انڈس واٹر کمیشن کی میٹنگ

نئی دہلی : پاکستانی کمشنر فار انڈس واٹر سید محمد مہر علی شاہ کی قیادت میں پاکستان کا سات رکنی وفد پرماننٹ انڈس کمیشن کی سالانہ میٹنگ کیلئے پیر کو یہاں پہنچا ۔ اس میٹنگ کے دوران شاہ اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کریں گے ۔ دونوں ممالک کے انڈس کمشر 23 اور 24 مارچ کو سالانہ گفتگو کریں گے ۔


ہندوستانی وفد کی قیادت پردیپ کمار سکسینہ کریں گے ، جن کے ساتھ مرکزی آبی کمیشن ، سینٹرل الیکٹریسٹی اتھاریٹی اور نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے ان کے صلاح کار موجود ہوں گے ۔ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق دونوں ممالک کے کمشنروں کے سال میں کم از کم ایک مرتبہ ملاقات کرنے کا بندوبست ہے اور یہ میٹنگ ایک مرتبہ ہندوستان میں اور ایک مرتبہ پاکستان میں ہوتی ہے ۔ حالانکہ گزشتہ سال نئی دہلی میں مجوزہ میٹنگ کورونا وائرس کی وجہ سے رد کردی گئی تھی ۔


ہندوستان نے تب سے اس علاقہ کیلئے کئی ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کو منظوری دی ہے ، جن میں ڈربک شیوک ( 19 میگا واٹ ) شانکو ( ساڑھے اٹھارہ میگا واٹ ) نیمو چلنگ ( 24 میگا واٹ ) رونڈو ( 12 میگا واٹ ) اور رتن ناگ ( ساڑھے دس میگا واٹ ) لیہہ میں ہیں اور منگدوم سانگرا ( 19 میگا واٹ ) کرگل ہنڈم مین ( 25 میگا واٹ ) اور تماشا ( 12 میگا واٹ ) کرگل سے وابستہ ہیں ۔


ہندوستان نے ان پروجیکٹس کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیا تھا ۔ یہ معاملہ اس میٹنگ کے دوران اٹھائے جانے کا امکان ہے ۔ پاکستان چناب ندی پر ہندوستانی پن بجلی پروجیکٹ کے ڈیزائن پر اعتراض کرسکتا ہے ۔ آئی ڈبلیو ٹی کے تحت چناب ندی کے پانی کا بڑا حصہ پاکستان کو دیا گیا ہے ۔

اس سے پہلے پی آئی سی کی میٹنگ 29 اور 30 اگست 2018 کو لاہور میں منعقد کی گئی تھی ۔ اس دوران پکل ڈل اور لوئر کلنائی پروجیکٹوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔ اس میٹنگ کے بعد انڈس واٹر کے پاکستانی کمشنر نے 23۔31 جنوری 2019 کو چناب بیسن میں پکل ڈل ، لوئر کلنائی اور دیگر ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کا جائزہ لیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 23, 2021 08:01 AM IST